سکھر(بیورورپورٹ)انسانی حقوق کی معروف وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چھٹھا کی
سکھر(بیورورپورٹ)انسانی حقوق کی معروف وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چھٹھا کی گرفتاری کے خلاف ملک کے دیگر شہروں کی طرح سکھر میں بھی وکلا برادری نے شدید احتجاج کیا۔ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن سکھر کے احاطے میں ہونے والے احتجاجی مظاہرے کے دوران وکلا نے زبردست نعرے بازی کی۔احتجاجی مظاہرے کی قیادت وکلا برادری کے رہنما ایڈووکیٹ قربان کلھوڑو اور دیگر سینئر وکلا کر رہے تھے، جبکہ مظاہرے میں وکلا کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر مظاہرین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ایڈووکیٹ ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چھٹھا کو اسلام آباد سے گرفتار کیا گیا اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر مبینہ جھگڑے کے ایک مقدمے میں گرفتار کر کے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے۔وکلا برادری نے الزام عائد کیا کہ ایمان مزاری اور ان کے شوہر کے خلاف جھوٹے اور من گھڑت مقدمات قائم کیے گئے ہیں، جو کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ وکلا اور انسانی حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے افراد کو ہراساں کرنا ایک افسوسناک اور قابلِ مذمت عمل ہے۔احتجاج کے دوران وکلا نے چیف جسٹس آف پاکستان سمیت دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے اور گرفتار وکلا کو بلا تاخیر رہا کیا جائے۔ وکلا نے خبردار کیا کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاج کے دائرہ کار کو مزید وسیع کیا جائے گا۔