بیٹییوں کی شادی پر جہیز، تحفے تحائف دینا، قرآن و سنت کی روشنی میں ایک فکری و معاشرتی، تحقیقی جائزہ۔ بدھ 28 جنوری 2026 تحقیق و تحریر: انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
بیٹییوں کی شادی پر جہیز، تحفے تحائف دینا، قرآن و سنت کی روشنی میں ایک فکری و معاشرتی، تحقیقی جائزہ۔
بدھ 28 جنوری 2026
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
برصغیر پاک و ہند کی معاشرت میں بیٹی کی شادی ایک جذباتی، سماجی اور دینی ذمہ داری سمجھی جاتی ہے۔ والدین برسوں اپنی بیٹی کے لیے خواب بنتے ہیں کہ جب وہ رخصت ہو تو اس کے پاس اتنا سامان ضرور ہو کہ نئے گھر میں کسی قسم کی تنگی یا محتاجی محسوس نہ کرے۔ اسی نیت سے بیٹی کو شادی کے موقع پر تحائف دیے جاتے ہیں، جنہیں عرفِ عام میں ’’جہیز‘‘ کہا جاتا ہے۔
یہاں ایک نہایت اہم سوال جنم لیتا ہے:
کیا والدین کو بیٹی کو دیے گئے ان تحائف اور سامان پر اجر ملے گا؟
خصوصاً جب وہ بعد میں اسے وراثت میں اس کا پورا شرعی حق بھی ادا کریں۔
اسلام اس سوال کا جواب نہایت متوازن، منصفانہ اور فطری انداز میں دیتا ہے۔
سب سے پہلے یہ حقیقت ذہن میں رہنی چاہیے کہ اسلام اعمال کو ظاہری شکل سے نہیں بلکہ نیت سے پرکھتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کا اصولی فرمان ہے:
’’اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے‘‘۔
اگر والدین بیٹی کو یہ سامان اس نیت سے دیتے ہیں کہ اس کا گھر آباد ہو، وہ عزت اور سہولت کے ساتھ زندگی شروع کرے اور کسی پر بوجھ نہ بنے، تو یہ نیت بذاتِ خود عبادت کا درجہ رکھتی ہے۔
دوسری اہم بات یہ ہے کہ اسلام میں اپنے اہل و عیال پر خرچ کرنا صدقہ قرار دیا گیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے واضح فرمایا کہ جب انسان اپنے گھر والوں پر حلال مال خرچ کرتا ہے اور اس پر اجر کی نیت رکھتا ہے تو وہ خرچ اس کے لیے صدقہ بن جاتا ہے۔ بیٹی تو ویسے بھی والدین کے دل کا ٹکڑا اور سب سے قریبی رشتہ ہے، اس پر خرچ کرنا کیسے اجر سے خالی ہو سکتا ہے؟
پھر قرآن مجید صلہ رحمی کو مستقل نیکی قرار دیتا ہے۔ والدین کی طرف سے بیٹی کی شادی میں مالی تعاون، سامان دینا اور اس کے مستقبل کو محفوظ بنانا، صلہ رحمی کی اعلیٰ صورت ہے۔ صلہ رحمی کے بارے میں قرآن و حدیث میں اجر کے جو وعدے آئے ہیں، وہ کسی تعارف کے محتاج نہیں۔
البتہ اسلام یہاں ایک نہایت اہم حد بھی قائم کرتا ہے، جسے نظرانداز کرنا سنگین غلطی ہو گی۔
اسلام میں جہیز کوئی فرض، شرط یا نکاح کا لازمی حصہ نہیں۔ نہ لڑکے والوں کو مطالبے کا حق ہے، نہ معاشرے کو دباؤ ڈالنے کا۔ اگر جہیز دکھاوے، مقابلہ بازی، یا اس بنیاد پر دیا جائے کہ بعد میں بیٹی کو وراثت سے محروم کر دیا جائے، تو یہی عمل نیکی کے بجائے ظلم بن جاتا ہے۔
اسلامی فقہ کا واضح اصول ہے کہ جہیز وراثت کا بدل نہیں۔
بیٹی کو اگر شادی پر کچھ دیا گیا ہو تب بھی وہ باپ کی جائیداد میں اپنے مقررہ حصے کی مکمل حق دار ہے۔ وراثت دینا فرض ہے، جبکہ تحفہ اور جہیز ایک اضافی حسنِ سلوک ہے۔ فرض کو کسی نفل کے بدلے ختم نہیں کیا جا سکتا۔
یہ بھی یاد رہے کہ نیکی کا اجر اس وقت گناہ میں بدل جاتا ہے جب اس کے ساتھ جبر، فخر، قرض کا بوجھ، یا کسی کی حق تلفی شامل ہو جائے۔ آج ہمارے معاشرے کا اصل مسئلہ جہیز دینا نہیں بلکہ جہیز کو معیارِ عزت بنا لینا ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ: اگر والدین اپنی استطاعت کے مطابق، خوش دلی سے، بلا مطالبہ، بلا نمائش، بیٹی کو شادی کے موقع پر سامان یا تحائف دیتے ہیں، اور ساتھ ہی اسے وراثت میں اس کا پورا حق بھی دیتے ہیں، تو یہ عمل:
صدقہ ہے۔ صلہ رحمی ہے اور ان شاء اللہ اجرِ عظیم کا باعث ہے
اسلام توازن کا دین ہے؛ نہ وہ بیٹی کو خالی ہاتھ رخصت کرنے کا حکم دیتا ہے، نہ اسے بوجھ کا ذریعہ بننے دیتا ہے۔
اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم رسم اور دین کے فرق کو سمجھیں، اور نیکی کو ظلم میں بدلنے سے بچیں۔
الدعاَء
یا اللہ تعالی سب کی بیٹیوں کو بسنا نصیب فرما، اچھے نصیب, دین دنیا کی بھلائیاں اور صالح اولاد کی دولت سے نواز اور اپنی طرف سے بے پناہ رحمتیں اور برکتیں عطا فرما۔
یا رب! لوڑ دی تھوڑ نہ دیویں۔
آمین یا رب العالمین
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333