سرگودھا(راجہ نورالہی عاطف سے ) ممتاز سکالر ،اینکر، تقویم آدم نے کہا ہے کہ لفظ بے ذائقہ ہوتے ہیں
سرگودھا(راجہ نورالہی عاطف سے ) ممتاز سکالر ،اینکر، تقویم آدم نے کہا ہے کہ لفظ بے ذائقہ ہوتے ہیں۔ تخلیق کار کا اسلوب انھیں ذائقہ عطا کرتا ہے۔ نصر اللہ خان آدم کی شاعری حالات حاضرہ ،تصوف اور معرفت میں کمال کرتی ہے۔انھوں نے ہماری پریشانیوں کا حل روحانی جذبوں میں تلاش کیا ہے۔ ہمارا آنے والا کل اسی صورت میں درخشاں ہو سکتا ہے جب ہم فطرت کی سرگرمیوں میں دلچسپی لیں۔ اِن خیالات کا اظہار انھوں نے ریڈیو پاکستان کے پروگرام دانش کدہ میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ قبل ازیں ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم، طارق نذیرسدھو، ذوالفقار احسن ،محمد آصف، علشبہ آصف اور لائبہ آصف نے بھی اظہار خیال کیا ۔تقویم آدم نے مزید کہا کہ تخلیق کار تو اسودہء خاک ہو جاتا ہے لیکن اس کی تخلیقات اسے زندہ رکھتی ہیں۔ نصراللہ خان آدم نے سادہ لفظوں میں عوام کو جگانے کی کوشش کی ہے ۔طارق نذیر احمد سدھو نے کہا کہ ہمارا مستقبل اسی صورت میں تابناک ہو سکتا ہے جب ہم بزرگوں کے نقش قدم پر چلیں ۔بزرگوں کے پاس تجربات اور مشاہدات ہوتے ہیں جو ہمارے وقت کو کندن بنا لیتے ہیں ۔نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ بزرگ دانشوروں سے استفادہ کریں۔ اس کی ایک مثال نصر اللہ خان آدم ہمارے سامنے ہے۔ عالمی شہرت یافتہ، ا دیب ،محقق، مدیر اسالیب ،ذوالفقار احسن نے کہا کہ شاعر کا اسلوب اسے زندہ رکھتا ہے۔ نصر اللہ خان آدم کا پیغام مقصد حیات رہا۔ وہ آج ہم میں نہیں ہیں لیکن ان کی شاعری کے اعلیٰ اوصاف ہمارے لیے مشعل راہ ہیں۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ نصر اللہ خان آدم کے شاہکار کلام کی وجہ سے سرگودھا کی ادبی روایت کو تقویت ملی ہے۔ ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم نے کہا کہ تخلیق کار کے لفظوں کی رعنائی اور زیبائی سے اَدب پروان چڑھتا ہے۔ قرآن و سنت کی تعلیمات ہمارے لیے مشعل راہ ہیں۔علشبہ آصف نے پینٹنگ کے حوالے سے گفتگو کی۔ انھوں نے بتایا کہ وہ تیسری جماعت سے ہی پینٹنگ میں تجربات کر رہی ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ ان کے شہ پاروں کی نمائش کا اہتمام کیا جائے ۔انھوں نے طالبات پر زور دیا کہ وہ گھریلو کام کاج میں اپنی والدہ کا ہاتھ بٹائیں۔ امور خانہ داری کی دلچسپی بہت ضروری ہے۔ ان کی خوبصورت پینٹنگز سٹوڈیو میں موجود مہمانوں نے دیکھی اور ان کی تعریف کی۔ لائبہ آصف نے کہا کہ تعلیم ہمارا زیور ہے ہمیں تعلیمی میدان میں آگے بڑھنا ہوگا۔ تعلیم کے بل بوتے پر ہی ہم ترقی یافتہ ممالک کی صف میں ا ٓسکتے ہیں۔ اساتذہ¿ کرام کا ذاتی کردار بچوں میں شعور انقلاب برپا کر سکتا ہے۔ یہ پروگرام محترمہ فریحہ کنول نے پیش کیا ۔وقار حیدر پروگرام انجینئر تھے۔