لوکل و ڈومیسائل سرٹیفکیٹ کسی قوم یا قبیلے کی ذاتی ملکیت نہیں ہے، راشد علی بروہی ساکرانی
لوکل و ڈومیسائل سرٹیفکیٹ کسی قوم یا قبیلے کی ذاتی ملکیت نہیں ہے، راشد علی بروہی ساکرانی
حب ۔پاکستان پیپلز پارٹی ساکران کے سینئر رہنما و صوبائی وزیر زراعت و کو آپریٹو میر علی حسن زہری کے جیالے راشد علی بروہی ساکرانی نے کمشنر قلات کی کھلی کچہری میں عطا اللہ رونجھو کی جانب سے بلوچ اور براہوی قوم پر لگائے گئے بے بنیاد الزام کہ براہویوں اور بلوچوں نے حب شہر پر قبضہ کیا ہے پر سختی سے مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ زبان و قبائل کے نام پر تعصب کی آگ کو مزید ہوا دینے والے شاید یہ بھول گئے ہیں کہ وہ خود بھی حب شہر میں کہیں اور سے آئے ہیں ،ہمارے تو باپ دادا کی پراپرٹیز بھی حب شہر کیں ہیں لیکن الزام تراشی کرنے والے پہلے اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھیں کہ وہ خود کتنے پانی میں ہیں ؟
انہوں نے کہا کہ ہمیں نوکریوں کا کوئی لالچ نہیں ہم حب شہر میں دہائیوں سے آباد ہیں، بلوچ و براہوی قوم امن پسند ہیں اورکسی سے کوئی تعصب نہیں رکھتے ، ہم نے محض گزشتہ 40سالوں سے یہاں پر موروثی سیاست کرنے والے نا اہل و کرپٹ حکمرانوں کیخلاف آواز اٹھائی ہے جنہوں نے حب و لسبیلہ کے باشندوں پر ظلم و ستم ڈھائے ہیں جس کی پاداش میں ہم ہماری اقوام پر الزام تراشی کی جارہی ہے ، ہم ان سے کہنا چاہتے ہیں کہ حب شہر کسی کی ذاتی جاگیر نہیں ہے ، یہاں تمام شہری برابر کے حقوق رکھتے ہیں لہذا پاکستان سٹیزن شپ ایکٹ کے تحت جو جو افراد لو کل و ڈومیسائل کا حق رکھتے ہیں ان کو یہ حق ملنا چاہئے ، لوکل یا ڈومیسائل کسی قوم یا قبیلے کی ذاتی ملکیت نہیں ہے ۔
راشدعلی بروہی ساکرانی نے کہا کہ محسن حب میر علی حسن زہری نے سب سے پہلے ضلع حب کے عوام کو ان کا بنیادی حق دلوایا جس پر یہ تعصب پسند افراد سیاست کررہے ہیں ،حب و لسبیلہ کے تمام باشندے لاسی ہیں اور ہمارے بھائی ہیں، لیکن ان چند مٹھی بھر تعصب پسند افراد میں اتنی اہلیت و قابلیت ہوتی ان کو تعصب کی ضرورت ہی نہ ہوتی جو لاسی قوم پر دھبے کی مانند ہیں۔ میر علی حسن زہری نے بلا تفریق سب کیلئے یکساں ڈومیسائل و لوکل کا اجراءکروایا انہوں نے کسی قوم یا مخصوص قبیلے کو ڈومیسائل نہیں دلوایا بلکہ ضلع حب میں دہائیوں سے رہنے والے افراد کو ان کا قانونی حق دلوایا ہے جو ان مخالفین کو ہضم نہیں ہورہا ۔
ان کا کہنا تھا کہ سابقہ حکمرانوں نے گزشتہ40سالوں میں لسبیلہ اور حب میں رہنے والے لاسیوں کیلئے کیا کیا ہے ؟ ان کے پاس آج نہ تو کوئی روز گار ہے اور نہ ہی کوئی ڈھنگ کے کاروبار، یہ محض سابقہ حکمرانوں کی دین ہے کہ انہوں نے ہمیشہ لاسی قوم کو پس پشت ڈال کر اپنی غلامی کرنے کیلئے پسماندگی میں ڈالے رکھا ۔ آج لاسی قوم کے پاس یہ موقع ہے کہ وہ میر علی حسن زہری کے ہاتھ مضبوط کریں اور تمام تر سیاست سے نکل کر اپنے اور اپنے اہلخانہ کے بہتر مستقبل کیلئے کام کریں اسی میں ضلع حب کے عوام کی بہتری ہے ۔