سرخیاں ضلع جھنگ میں اساتذہ کی غیر حاضری التعلیم کے حق کو متاثر کر رہی ہے
سرخیاں
ضلع جھنگ میں اساتذہ کی غیر حاضری التعلیم کے حق کو متاثر کر رہی ہے
ایجوکیشن افسران کا پرائمری اسکولوں کا دورہ نہ کرنا بھی ایک سنگین مسئلہ ہے، جو تعلیمی کارکردگی میں بہتری کے لیے ضروری ہیں
جھنگ (خصوصی رپورٹ) پرائمری سکول ہمارے تعلیمی نظام کی بنیاد ہیں، جو بچوں کی ابتدائی تعلیم کے ساتھ ساتھ ان کی ذہنی، جسمانی، اور اخلاقی نشوونما میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ تاہم، ضلع جھنگ میں اساتذہ کی غیر حاضری التعليم کے حق کے قانون کو متاثر کر رہی ہے۔ نومبر 2025 کی ایک رپورٹ کے مطابق، 667 اسکولوں میں سے 215 اسکولوں کے اساتذہ اور 170 طلباء کی حاضری 80 فیصد سے کم ہے، اور 164 اسکولوں میں ایک استاد 30 سے کم بچوں کو پڑھاتا ہے۔ بعض اسکولوں میں ایک استاد 72 سے 153 بچوں کو پڑھا رہا ہے، جبکہ کچھ میں فی استاد صرف 8 سے 19 بچے ہیں، جو کہ ایک تشویش ناک صورت حال ہے۔
مزید برآں، ایجوکیشن افسران کا اسکولوں کا دورہ نہ کرنا بھی ایک سنجیدہ مسئلہ ہے؛ یہ دورے سکولوں کی کارکردگی میں بہتری کے لیے ضروری ہیں۔ اس مانیٹرنگ رپورٹ کے مطابق، ماہ اکتوبر 2025 میں ضلع جھنگ کے 667 پرائمری سکولوں میں سے 11 سکولوں کا اے ای اوز نے وزٹ ہی نہیں کیا جبکہ 74 سکولوں کا صرف ایک وزٹ ہوا، حالانکہ ہر سکول کا دو وزٹ کرنا ضروری ہے۔ ڈپٹی ڈی ای اوز نے 650 سکولوں کا وزٹ کرنا مناسب نہیں سمجھا، جبکہ 16 سکولوں کا ایک ایک وزٹ کیا گیا۔ ڈی ای اوز نے 654 سکولوں کا کوئی وزٹ ہی نہیں کیا اور 13 سکولوں کا ایک ایک وزٹ کیا۔ ضلع کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے صرف 3 سکولوں کا وزٹ کیا، جس کی وجہ سے 664 سکول وزٹ سے محروم رہے۔ اے ای اوز، ڈپٹی ڈی ای اوز اور دیگر افسران کی جانب سے ہونے والے دوروں کا ریکارڈ اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کے دورے نہ ہونے کے برعکس۔ صرف ایک محدود تعداد میں اسکولوں کا دورہ کیا گیا ہے۔ یہ معلومات اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ اگر باقاعدہ وزٹ کا نظام وضع نہ کیا گیا تو تعلیمی معیار مزید متاثر ہوگا۔