October 3, 2026

نوابشاہ (رپورٹ. انور عادل خانزادہ)سیاست اور پارلیمنٹ میں معذور افراد کی شمولیت ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حق ہے۔ عابد لاشاری

IMG-20251221-WA0595

نوابشاہ (رپورٹ. انور عادل خانزادہ)سیاست اور پارلیمنٹ میں معذور افراد کی شمولیت ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حق ہے۔ عابد لاشاری
نیشنل ڈس ایبلٹی اینڈ ڈوالپمنٹ فورم (این ڈی ایف) پاکستان کے صدر عابد لاشاری نے زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ سیاست اور پارلیمنٹ میں معذور افراد (PWDs) کی شمولیت محض ایک سماجی ضرورت نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ بنیادی انسانی حق ہے۔
معذور افراد کی سیاسی شمولیت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے عابد لاشاری نے کہا کہ حقیقی جمہوریت کے لیے جامع اور شمولیتی سیاسی نظام ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا، “معذور افراد آبادی کا ایک بڑا حصہ ہیں، مگر انہیں فیصلہ سازی کے عمل سے بڑی حد تک باہر رکھا جاتا ہے۔ مقامی، صوبائی اور قومی سطح پر سیاست کے تمام مراحل میں ان کی بامعنی شمولیت کو تسلیم کیا جانا اور یقینی بنایا جانا چاہیے۔انہوں نے نشاندہی کی کہ پاکستان اقوامِ متحدہ کے معذور افراد کے حقوق کے کنونشن (UNCRPD) کا دستخط کنندہ ہے، جو معذور افراد کو سیاسی اور عوامی زندگی میں مکمل اور مؤثر شرکت کا حق دیتا ہے، جس میں ووٹ ڈالنے، انتخابات میں حصہ لینے اور دیگر شہریوں کے برابر عوامی عہدے سنبھالنے کا حق شامل ہے۔عابد لاشاری نے اس بات پر زور دیا کہ سیاسی جماعتوں کو فعال کردار ادا کرتے ہوئے پارٹی ڈھانچوں کو قابلِ رسائی بنانا، پارٹی ٹکٹ کی فراہمی، اور معذور افراد کی قیادت کو فروغ دینا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پارلیمنٹ کو بھی معذور افراد پر مشتمل جامع قانون سازی، قابلِ رسائی پارلیمانی طریقہ کار، اور نمائندگی کے مؤثر نظام کو یقینی بنانا ہوگا۔انہوں نے کہا، “تعلیم، صحت، روزگار، سماجی تحفظ اور رسائی سے متعلق شمولیتی پالیسیوں کی تشکیل میں معذور افراد کی آواز نہایت اہم ہے۔ سیاست اور پارلیمنٹ میں ان کی نمائندگی کے بغیر پالیسیاں نامکمل اور زمینی حقائق سے کٹی ہوئی رہتی ہیں۔”
عابد لاشاری نے الیکشن کمیشن آف پاکستان، سیاسی جماعتوں، قانون سازوں اور ریاستی اداروں پر زور دیا کہ وہ معذور افراد کی سیاسی شمولیت میں رکاوٹ بننے والی جسمانی، قانونی اور سماجی رویّوں پر مبنی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کریں۔
آخر میں مسٹر عابد لاشاری نے کہا کہ ایک حقیقی معنوں میں جمہوری اور شمولیتی پاکستان اسی وقت ممکن ہے جب معذور افراد کو محض مستفید ہونے والے افراد کے بجائے فعال سیاسی کردار کے طور پر تسلیم کیا جائے اور انہیں قیادت، نمائندگی اور فیصلہ سازی کے مساوی مواقع فراہم کیے جائیں۔