October 25, 2026

دکھی انسانیت کے مسیحا — ڈاکٹر میاں محمد طاہر کی عظمت کو سلام خصوصی تحریر: راجہ نورالہی عاطف

IMG-20251206-WA0150

دکھی انسانیت کے مسیحا — ڈاکٹر میاں محمد طاہر کی عظمت کو سلام

خصوصی تحریر: راجہ نورالہی عاطف

انسانی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جب بھی معاشرتی زندگی پستی کا شکار ہوتی ہے، تب اللہ تعالیٰ کچھ ایسے لوگ پیدا کرتا ہے جو اپنے بے لوث کردار اور انسان دوستی کی خوشبو سے ماحول کو مہکاتے ہیں۔ ان شخصیات کا وجود کسی نعمت سے کم نہیں ہوتا۔ ڈاکٹر میاں محمد طاہر بھی انہی عظیم المرتبت ہستیوں میں سے ایک ہیں جنہیں بجا طور پر ’’دکھی انسانیت کا مسیحا‘‘ کہا جاتا ہے۔ وہ ایک ایسے طبیب ہیں جن کے ہاتھ میں شفاء بھی ہے، لہجے میں سکون بھی، اور دل میں وہ درد بھی جو دوسروں کے زخموں کو محسوس کر سکے۔
ڈاکٹر میاں محمد طاہر کی شخصیت کی سب سے نمایاں خوبی ان کی انسان دوستی ہے۔ دکھ انسانیت کے مسیح جناب میاں محمد طاہر صاحب نے مدت مدید تک ک صحرائے تھل میں خوش قیام ہو کر یہاں کے لوگوں کو شب و روز بھرپور طریقے سے علاج معالجے کی سہولت فراہم کی ۔ ان کے کلینک میں داخل ہونے والا ہر مریض خواہ دولت مند ہو یا غریب، گاؤں سے آیا ہو یا شہر سے، تعلیم یافتہ ہو یا مزدور—سب کے ساتھ ایک سا سلوک ہوتا ۔ وہ مریض کو صرف جسمانی تکلیف کا شکار فرد نہیں سمجھتے بلکہ ایک ایسے انسان کے طور پر دیکھتے ہیں جسے احترام، توجہ، اور تسلی کی بھی ضرورت ہے۔ راقم الحروف (راجہ نورالہی عاطف ) کے نزدیک ڈاکٹر میاں محمد طاہر کے پیشہ ورانہ سفر کو اگر چند لفظوں میں بیان کیا جائے تو وہ ’’خدمت کا سفر‘‘ کہلائے گا۔ وہ ہر مریض کی تکلیف کو اپنی ذمہ داری سمجھتے رہے۔ نہ کبھی ان کے چہرے پر بے زاری دیکھی گئی، نہ لہجے میں ناگواری۔ بلکہ ان کی گفتگو نرم، حوصلہ دینے والی اور دل جوئی سے بھرپور ہوتی ۔ وہ مریض کو پہلے ’’سنا‘‘ جاتا ، پھر اس کا ’’درد سمجھا‘‘ جاتا اور تب کہیں جا کر علاج شروع کیا جاتا کے مصدق ہی دکھی انسانیت کی خدمت کےلیے مصروف عمل۔ رہے۔ یہی وہ رویہ ہے جو ایک اچھے ڈاکٹر کو ایک بہترین مسیحا بنا دیتا ہے۔

راقم کو اہلیان علاقہ نے بتایا کہ ڈاکٹر طاہر کی عملی زندگی کا سب سے روشن پہلو ان کی غریب پروری ہے۔ انہوں نے ہمیشہ اس بات کو یقینی بنایا کہ مالی مسائل کسی ضرورت مند کے علاج میں رکاوٹ نہ بنیں۔ یہاں کے تھل کےجنوبی مواضعات سے لے کر علاقہ کدھی تک کے بے شمار ایسے مریض ہیں جنہوں نے بغیر فیس علاج پایا اور ڈاکٹر صاحب نے کبھی انہیں احساس تک نہ ہونے دیا کہ یہ ایک خصوصی رعایت ہے۔ ان کے نزدیک انسانیت کا فرض ہر دوسری بات سے بڑھ کر ہے۔
ڈاکٹر میاں محمد طاہر نہ صرف ایک ماہر طبیب ہیں بلکہ اخلاقی اعتبار سے بھی ایک مضبوط اور مثالی شخصیت رکھتے ہیں۔ ان کا حلقہء احباب بہت وسیع ہے ۔ تھل میں قیام کے دوران ملک حکیم محمد امیر اتراء اس وقت کے ایم پی اے ایڈووکیٹ ملک محمد حیات اتراء کے پبلک فورم کے انچارج ، اس وقت کے نائب ناظم ملک عالم شیر چھینہ ، راجہ محمد ناظم ، سردار نذیر عالم خان پٹھان ، راجہ حاجی غلام شبیر سابق چیرمین عشر کمیٹی اور دیگر یہاں کی متعدد نامور سماجی و سیاسی شخصیات ان کی قربت داری میں تھیں جن کے ساتھ طویل عرصہ گزر جانے کے باوجودآج بھی ان کا یہ دوستانہ تعلق قائم ہے۔ ان کا علم وسیع، تجربہ پختہ، اور تشخیص کی صلاحیت غیر معمولی ہے۔ مگر ان اوصاف کے ساتھ جو چیز انہیں منفرد بناتی ہے وہ ان کی مسکراہٹ، نرم گفتگو اور انسان دوستی ہے۔ وہ صرف علاج نہیں کرتے، مریض کے اندر امید کا دیپ بھی جگاتے ہیں۔ راقم الحروف کو برسبیل تذکرہ جناب ڈاکٹر محمد طاہر کے بارے میں ان کی دکھی انسانیت کے ساتھ کمال ہمدردی کی یہ مثال زیر نظر کالم میں دیتے ہوءے ان کی عظیم شخصیت پر بڑا فخر محسوس کر رہا ہے کہ وہ اپنے دور میں نورپورتھل شہر میں پیدل چل کر مریضوں کے گھروں میں جاکر ان کا علاج کرتے جس کی شاید اب کہیں نظیر ملتی ہو۔ جناب ڈاکٹر میاں محمد طاہر کے اسی عظیم کردار نے انہیں عوام کے دلوں پر راج کرنے والا مسیحا بنا دیا اور لوگ ان کے لیے ہمیشہ اب بھی دست بدعا رہتے ہیں ۔
ڈاکٹر طاہر لوگوں کی خدمت کو اپنی زندگی کا مقصد سمجھتے ہیں۔ وہ کبھی سماجی رابطوں سے کتراتے نہیں، ہمہ وقت اخلاقی و سماجی کردار ادا کرتے نظر آتے ہیں۔ ان کی شخصیت کا یہی پہلو انہیں عوامی حلقوں میں مقبول اور محترم بناتا ہے۔ علاقے کا ہر شخص انہیں محسنِ انسانیت سمجھتا ہے، اور ہر خاندان میں ان کی نیکیوں کے چرچے موجود ہیں۔
ڈاکٹر میاں محمد طاہر ان شخصیات میں سے ہیں جن کا ذکر آنے والی نسلیں بھی احترام سے کریں گی۔ ایسے لوگ نہ کسی عہدے کے محتاج ہوتے ہیں، نہ اعزازات کے طلبگار۔ ان کا اصل اعزاز وہ دعائیں ہیں جو لوگ ان کے ہاتھوں شفایاب ہو کر دیتے ہیں۔ وہ شکر کے وہ الفاظ ہیں جو کسی غریب کی زبان پر آتے ہیں۔ وہ مسکراہٹ ہے جو کسی بے بس کے چہرے پر علاج کے بعد ابھرتی ہے۔
ڈاکٹر میاں محمد طاہر کی کہانی ایک انسان دوست، سچے پاکستانی، اور بے لوث مسیحا کی کہانی ہے۔ وہ اس حقیقت کی زندہ مثال ہیں کہ اگر نیت میں خلوص ہو تو ایک عام انسان بھی معاشرے میں غیر معمولی کردار ادا کر سکتا ہے۔ وہ روشنی کی وہ شمع ہیں جو اپنے حصے کی دنیا کو روشن کرتی رہتی ہیں۔ ایسے محسن معاشرے کے ماتھے کا جھومر ہوتے ہیں، اور بجا طور پر خراجِ تحسین کے مستحق بھی۔