پشاور میں افراد باہم معذوری کے عالمی دن کے موقع پر تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب میں مختلف صلاحیتوں کے حامل خصوصی افراد نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔
پشاور میں افراد باہم معذوری کے عالمی دن کے موقع پر تقریب کا انعقاد کیا گیا۔
تقریب میں مختلف صلاحیتوں کے حامل خصوصی افراد نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔
پشاور(نمائندہ خصوصی)گلوبل ٹائمز میڈیا یورپ کے مطابق پیراپلیجک سنٹر پشاور اور انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس کی جانب سے افراد باہم معذوری کے عالمی دن کی مناسبت سے افراد باہم معذوری کو سماجی ترقی میں شامل کرکے معاشرے کو اگے بڑھانے کے عنوان سے خصوصی تقریب کا اہتمام کیا گیا۔تقریب میں مختلف صلاحیتوں کے حامل خصوصی افراد نے کثیر شرکت کی جنہوں نے اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے اور معاشرے میں ان کی مکمل شمولیت کو فروغ دینے کے لیے ڈیزائن کردہ مختلف سرگرمیوں میں حصہ لیا۔
مہمان خصوصی صوبائی وزیر صحت میاں خلیق الرحمٰن نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے افراد باہم معذوری کی جسمانی اور نفسیاتی بحالی کیلئے بہترین خدمات پر پیراپلیجک سنٹر پشاور کے کلیدی کردار کو سراہا۔ انہوں نے اس سلسلے میں صوبائی حکومت کے مکمل تعاون اور حمایت کی یقین دہانی کرائی۔ وزیر صحت نے معذوری کے شکار افراد کی جسمانی بحالی اور معاشرتی شمولیت میں حکومت سے کئی دہائیوں سے تعاون پر انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس (آئی سی آر سی) کا کردار سراہتے ہوئے کہا کہ انہیں یہ جان کر خوشی ہوئی کہ یہ ادارہ کئی عشروں سے صوبے میں اپنا موٹر کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پچھلے ادوار میں سابق وزرائے اعظم اور وزرائے اعلیٰ کی جانب سے کیے گئے اعلانات پر عمل درآمد کیا جائے گا اور انہیں عملی جامہ پہنایا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بدقسمتی سے موجودہ حالات کے پیش نظر یہ صوبہ اس طرح کے واقعات سے دوسرے صوبوں کی نسبت زیادہ متاثر ہو رہا ہے جس کی وجہ سے متاثرہ افراد کی جسمانی بحالی کے لیے وسائل کا استعمال ناگزیر ہے۔
اس موقع پر آئی سی آر سی کے پشاور ذیلی وفد کے سربراہ برونو رادیکی نے پاکستان میں جسمانی بحالی کے لیے ادارےکے سرگرم کردار پر بات کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا میں آئی سی آر سی کی جانب سے پیراپلیجک سنٹر پشاور کی بنیاد رکھی گئی تھی جو آج ایک تناور درخت کی شکل اختیار کرکے لوگوں کی فلاح بہبود کے لیے کام کررہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آئی سی آر سی کی جانب سے گزشتہ سولہ سال کے دوران 43 ہزار سے زائد افراد کی جسمانی بحالی اور 1لاکھ 36 ہزار سے زائد امدادی آلات کی فراہم یقینی بنائی گئی ہے جبکہ 7 ہزار سے زائد افراد کو وہیل چئیر فراہم کیے جاچکے ہیں جبکہ اہم بات یہ ہے کہ ہم نے جسمانی معذوری کے شکار افراد کے معاشرتی انضمام کو فروغ دینے میں بھی خاطر خواہ حصہ لیا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ “پیراپلیجک سنٹر پشاور اور دیگر تنظیموں کے ساتھ شراکت داری کے تحت افراد باہم معذور افراد کی جسمانی بحالی اور انہیں قومی دھارے میں شامل کرنے کیلئے تعلیم، پیشہ ورانہ تربیت اور چھوٹے معاشی اقدامات تک رسائی کے ذریعے معذور افراد کو بااختیار بنانے میں ہم اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔پیراپلیجک سنٹر پشاور کے چیف ایگزیکٹیو ڈاکٹر سید محمد الیاس نے اپنے خطاب میں بتایا کہ ماضی میں یہ سنٹر نہ صرف پورے پاکستان بلکہ ہمسایہ ملک افغانستان سے بھی ریڑھ کی ہڈی کے چوٹوں میں مبتلا مریضوں کو علاج کی سہولیات فراہم کرتا تھا
تاہم مریضوں کا رش اب اس کی گنجائش سے چار گنا بڑھ چکا ہے لہذا، صرف خیبر پختونخوا میں اسی طرح کے مزید چار مراکز قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ تقریب میں خصوصی مشاعرے کا اہتمام بھی کیا گیا تھا۔ اس موقع پر شعراء نے افراد باہم معذوری کے ساتھ روا رکھے جانے والے معاشرتی رویے اور انہیں کسی بھی قسم کی کمزوری کا احساس نہ دلانے کی کوشش کرنے والے اداروں کی کاوشوں کو سراہا۔