سکھر(بیورورپورٹ۔ سید نصیر حسین زیدی)سوشل ورکر کا مبینہ حملہ ڈراما ثابت—میڈیکل سرٹیفکیٹ نے حقیقت بے نقاب کر دی۔میڈیا اور سیاسی و سماجی
سکھر(بیورورپورٹ۔ سید نصیر حسین زیدی)سوشل ورکر کا مبینہ حملہ ڈراما ثابت—میڈیکل سرٹیفکیٹ نے حقیقت بے نقاب کر دی۔میڈیا اور سیاسی و سماجی حلقوں نے اس واقعے پر شدید ردِعمل دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ مبینہ حملے کا یہ ڈراما نہ صرف صحافت کی بدنامی کا باعث بنا بلکہ ایک سرکاری افسر کی ساکھ خراب کرنے کی ناکام کوشش بھی ثابت ہوا۔ اس سلسلے میں حملے کا جھوٹا الزام لگانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔چند روز قبل خود کو سوشل ورکر ظاہر کرنے والے صفدر سومرو نے رات کے وقت میرپور ماتھیلو تھانے کے سامنے پہنچ کر احتجاج کیا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ سوشل میڈیا پر ’’حق و سچ‘‘ لکھنے کی وجہ سے پانچ افراد نے پستول اور لوہے کی سلاخوں سے اس پر حملہ کر کے زخمی کردیا۔ اس واقعے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں جن میں اس نے صحافی برادری پر ظلم ہونے کی دہائی دی۔تاہم جاری ہونے والے میڈیکل سرٹیفکیٹ نے اس پورے ’’حملہ ڈرامے‘‘ کو بے نقاب کر دیا۔ میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کی رپورٹ میں واضح طور پر بتایا گیا کہ صفدر سومرو نے سرجیکل بلیڈ کا استعمال کرتے ہوئے خود کو زخمی کیا اور حملے کا جھوٹا تاثر دینے کی کوشش کی۔اسسٹنٹ مختیارکار عمران آرائیں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ صحافت ایک مقدس پیشہ ہے اور وہ دل سے اس پیشے کا احترام کرتے ہیں، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ چند لوگ صحافت کے نام پر بلیک میلنگ، بھتہ خوری اور سوشل میڈیا پر بے بنیاد الزامات لگا کر کردار کشی جیسے ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق گزشتہ ایک ماہ سے کچھ عناصر سوشل میڈیا پر اُن کے خلاف مسلسل من گھڑت پروپیگنڈا کر رہے تھے جس پر انہوں نے قانون کے مطابق کارروائی کے لیے سرکاری ادارے سے رجوع کیا۔عمران آرائیں نے مزید بتایا کہ جیسے ہی متعلقہ افراد کو قانونی کارروائی کا علم ہوا، صفدر سومرو نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر رات کے وقت خود کو بلیڈ سے زخمی کر کے حملے کا ڈراما رچایا اور تھانے میں ان سمیت چار نامعلوم افراد پر جھوٹی این سی درج کرائی۔ بعد ازاں سوشل میڈیا پر ان کی کردار کشی مہم بھی تیز کردی گئی۔انہوں نے کہا کہ اب میڈیکل سرٹیفکیٹ کے بعد حقیقت پوری طرح سامنے آچکی ہے، جس سے ثابت ہوگیا کہ حملہ محض جھوٹا ڈراما تھا۔ مزید بتایا گیا کہ جھوٹی معلومات فراہم کرکے میرپور ماتھیلو بار ایسوسی ایشن، گھوٹکی بار ایسوسی ایشن اور کراچی بار ایسوسی ایشن کے وکلاء کو بھی گمراہ کیا گیا اور ان سے مذمتی بیانات جاری کرائے گئے۔آخر میں اسسٹنٹ مختیارکار عمران آرائیں نے اعلیٰ حکام سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ان پر جھوٹا الزام لگا کر کردار کشی کرنے والوں اور جعلی حملے کا ڈراما رچانے والے عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ ایسے عناصر کی حوصلہ شکنی ہو اور اداروں کی ساکھ محفوظ رہ سکے۔