درحقیقت
خالد نجیب خان
khalednajeebkhan@gmail.com
وہی ہوتا ہے جو منظورِ ۔۔۔؟؟
آج سے پچاس سال پیچھے جائیں تولالی ووڈ کی اکثر فلموں میں ٹائٹلزآنے سے پہلے بیک گراؤنڈ سے 19ویں صدی کے شاعر مرزا رضا برق لکھنوی کا یہ شعر پڑھا جاتا تھا۔
مدعی لاکھ برا چاہے تو کیا ہوتا ہے
وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے
یہ وہ زمانہ تھا جب ہمیں لفظ “مدعی” کا مطلب بھی معلوم نہیں تھا۔ بعد میں ہمیں معلوم ہوا کہ یہ شعر فلم پروڈیوسر صاحب نے فلم میںنظرِ بددور اور کلمہ شکر کے حوالے سے شامل کیا تھا ۔
پاکستانی پارلیمنٹ (مجلسِ شوریٰ)نے چند روز قبل27ویں آئینی ترمیم کا بل منظور کیا تو فوراً سے پہلے ہمارے ذہن میں یہ خیال آیا کہ
وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے
بہرحال یہ الگ بات ہے کہ کلمہ توحید پڑھنے اور اُس پر پختہ ایمان رکھنے کے باوجود ہم میں سے اکثر لوگوں کے خدا مختلف ہیں،جس کی وضاحت کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔کلمہ طیبہ یا کلمہ توحید کے نام پر بننے والی مملکت جسے چند روز پہلے تک ہم اسلامی ریاست خیال کرتے تھے اور امید کرتے تھے کہ کسی دن یہ ریاست حقیقت میں اسلامی ریاست بن ہی جائے گی، کیونکہ ریاستیں اور قومیں بنتے بنتے ہی بنتی ہیں۔پہلی اسلامی ریاست مدینہ (جس کے معمار نبی آخر زمان حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ خود تھے اور اُن کے مددگار اُنکے کبار صحابہ تھے) کو بننے میں کئی دھائیاں لگ گئی تھیں تو آج تو کوئی بھی اُن میں سے کسی کی جوتیوں میں لگی خاک کے برابر بھی نہیں ہے تو ایسے میں اگر ستر، اسی سال بھی لگ جائیں تو کوئی بڑی اور بری بات نہیں ہے ۔ قیام پاکستان کے 78 برس بعد تک امید سے پیوستہ رہنا کسی ایک بشر کے لئے تو یقیناً مشکل کام ہے مگر بحثیت قوم یہ مشکل یا ناممکن کام نہیں تھا۔
پاکستان کا موجود آئین 1973ء میں معرض وجود میں آیا ،جس پر اُس وقت کسی جماعت کے کسی رُکن کو کوئی اعتراض نہیں تھا۔مگر چند سالوں کے بعد ہی اس میں ترامیم آنا شروع ہو گئیں۔ یہ ترامیم چونکہ اسلام کے کسی بھی قانون سے متصادم نہ تھیں تو سوائے چند اُن لوگوں کے جن کے مفادات اُس سے متصادم تھے، کسی نے اعتراض نہیں کیا مگر 27 ویں ترمیم میں اپوزیشن نے جس طرح سے مزاحمت کی ہے ،پاکستانی تاریخ میں اِس کی مثال شاید نہیں ہے۔حتیٰ کہ ” تحریک تحفظ آئین پاکستان” نے آئین کو بچانے کے لیے اپنی تحریک شروع کرنے کا اعلان بھی کر دیا ہے۔
یہ بات اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ 27 ویں آئینی ترمیم میں وفاق اور صوبوں کے اختیارات میں ردو بدل کیا گیا ہے، یعنی بعض معاملات جو پہلے صوبوں کے دائرہ اختیار میں تھے، اب وفاقی حکومت کے کنٹرول میں آجائیں گے۔ وفاق اور صوبوں کے درمیان فیصلے لینے کے عمل میں نئی وضاحتیں شامل کی گئی ہیں۔ عدلیہ کے ڈھانچے میں تبدیلی سپریم کورٹ آف پاکستان کے بعض دائرہ اختیار میں کمی۔نئی وفاقی آئینی عدالت (Federal Constitutional Court) کے قیام کی تجویز ہے تاکہ آئینی معاملات کے فیصلے مزید موثر ہوں۔عدالتی تقرری، تبادلے اور نگرانی کے عمل میں ترمیم، تاکہ عدالتوں کا نظام مضبوط اور شفاف ہو۔ فوجی کمانڈ اور سٹرکچرآرٹیکل 243 میں تبدیلی، تینوں مسلح افواج کی کمانڈ مرکزی سطح پر لانے کا منصوبہ۔اعلیٰ افسران کی تقرری اور تبادلے کے عمل میں ترمیم، تاکہ فوجی کمانڈ کا نظام بہتر ہو ۔ صدر اور اعلیٰ عہدوں کی قانونی چھوٹ صدراور بعض اعلیٰ سرکاری عہدوں کے لیے قانونی معافی(legal immunity) کے بعض نکات بھی اس میں شامل ہیں۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نےجب 27 ویں آئینی ترمیم پیش کی تو اپوزیشن اراکین نے ترمیم کی کاپیاں پھاڑ کر ہوا میں اڑانا شروع کردیں۔ اپوزیشن اتحاد کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے قومی اسمبلی میں آئینی ترمیم کے موقع پر کہا کہ پاکستان میں عوام کی حکمرانی کا راستہ روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے، آج پاکستان کے آئین میں غیر جمہوری قسم کی ترمیم پربڑا دُکھ ہے۔ حالانکہ ترمیم لانے والوں میں وہ لیڈر بھی شامل ہیں جنہوں نے بہت بڑی قربانیاں دی ہیں۔اِس وقت پاکستان میں جمہوری اور غیر جمہوری قوتوں کی لڑائی جاری ہے اور یہ عمل تو تب سے ہی جاری ہے جب سے پاکستان وجود میں آیا ہے۔
حزب اختلاف کا کہنا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم کی حمایت کرنے والوں کو تاریخ معاف نہیں کرے گی۔ قومی اسمبلی میں 27 ویں آئینی ترمیم کو پاس کرانے کے لئے حزب اقتدار کو 224 اراکین کی حمایت درکار تھی جبکہ ایوان میں 234 ارکان موجود تھے جن میں سے صرف4ووٹ ہی ترمیم کے خلاف آئے باقی اراکین اسمبلی احتجاج کرتے ہوئے ایوان سے چلے گئے تھے۔
27ویں آئینی ترمیم کے لیے جوڑ توڑ اورجو کچھ بھی ہوا ،وہ قوم کے سامنے ہے اور سمجھنے والے کچھ سنے اور دیکھے بغیر بھی سمجھ ہی چکے ہیں۔ اس سارے عمل میں اراکین پارلیمنٹ کا ہی سب سےاہم کردار ہے ۔اب وہ عوام کو تو جو بھی جواب دیں، یہ اُن کا اپنا فعل ہے ۔ہمارا فعل یہ ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ کی سنت کے مطابق اور خیر خواہی کے جذبے کے ساتھ حکمرانوں اور مقتدر حلقوں کو نصیحت کی جائے،اُنہیں نیک مشورہ دیا جائے ۔یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ ریاستیں افراد سے نہیں نظام سے چلتی ہیں،ہمیں نظام کو مضبوط بنانا چاہئے نہ کہ شخصیات کے لیے،عہدوں کے لیے یا اپنے بچاؤ کے لیے آئین میں ترامیم کی جائیں۔اِس مملکت خداداد کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے تو اِس کو حقیقی معنوں میں اسلامی بنانے کے لیے بھی کوئی ترمیم ہوجانی چاہئے تھی مگر نہیں ہوئی ۔ہم نے یہ ملک تو لیا ہی اِس بنیاد پر تھا کہ یہاں اللہ کا نظام نافذ کیا جائے گا۔اللہ کے نظام کا نفاذ تو دور اب حکومتی عہدیداروں کو تاحیات قانون سے بالاتر قرار دے کر اللہ کے قانون سے متصادم نظام لاکھڑا کیاگیا ہے۔ اگر کسی ملک کے نظام کی بنیاد ہی مضبوط نہیں ہوگی تو خواہ کتنی ہی ترامیم کر لیں،ملک میں استحکام نہیں آسکتا۔ اللہ کا شکر ہے کہ آئین میں ابھی بھی یہ واضح طور پر لکھا ہوا ہے کہ “حاکمیت اعلیٰ” صرف اللہ کی ہے اور قرآن و سنت کے خلاف کوئی قانون نہیں بنے گا ۔ اللہ کا شکر ہے کہ ہمارے حکمران بھی مسلمان ہیں ،طاقتور اداروں کے لوگ بھی مسلمان ہیں ،بلکہ کئی مسلمانوں سے بہتر مسلمان بھی ہیں، سیاسی اور دینی سیاسی جماعتوں کے لوگ بھی مسلمان ہیں ۔ان سب سے سوال ہے کہ آخرت میں اللہ کو کیا جواب دو گے،جب سوال ہو گا کہ باقی سب ترامیم تو تم نے کر لیں لیکن اللہ کے دین کے نفاذ کے لیے کیوں کوئی کوشش نہیں کی؟اُس وقت اصل ترمیم تو یہ درکار تھی کہ آئین میں جتنی خلاف شریعت شقیں ہیں،اُنہیں نکالا جاتااور اُن کی جگہ ایسی شقیں شامل کی جاتیں جو قرآن وسنت کے مطابق ہوتیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ ملک میں اسلام نافذ ہوگا تو ہی ملک میں استحکام آئے گا۔اگر ہم سب مل کر اللہ کو راضی کرنے کی کوشش کریں،اللہ کے دین کو تھام کر سب مسلمان بھائی بھائی بن جائیں تو یہ ملک اور قوم کے لیے مفید ہوگا۔اللہ کی خوشنودی اور اللہ کا دین مقصود نہیں ہوگا تو پھر سب کے اپنے اپنے نسلی ، لسانی اور صوبائی مفادات ہوں گے اور سب کے مفادات آپس میں ٹکرائیں گے۔ اس کے برعکس اگر ہم سب مل کر نظریہ پاکستان کو مضبوطی سے تھام لیں اور اس مملکت کو جس دین کے نفاذ کے حوالے سے اللہ تعالیٰ سے وعدہ کر کے حاصل کیا گیا تھا ،اس کو ملک میں نافذ کریں تو ملک میں استحکام بھی آئے گا اور نسلی، لسانی ، صوبائی اور علاقائی انتشار بھی ختم ہو جائے گا۔
حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں کو قانونی استثنیٰ سے قبل ان کی اور اراکین پارلیمنٹ ،وزرأ وغیرہ کی تنخواہوں ،مراعات اور پینشن وغیرہ میں ہر طبقہ کی طرف سے بھرپور تنقید کے باوجود جس قدر اضافہ کیا گیا اُس کی مثال کسی مہذب ملک میں نہیں مل سکی ہے۔
پاکستان 1956ء سے اسلامی جمہوریہ ہے ،اکثر لوگ یہ مغالطہ کھا جاتے ہیں کہ جمہوریہ اور جمہوری شاید ہم معنی الفاظ ہیں یا وزن پورا کرنے کے لئے جمہوری کو جمہوریہ لکھ دیا گیا ہے۔سادہ الفاظ میں بیان کیا جائے “جمہوریہ” وہ ملک یا ریاست کہلاتی ہے جہاں بادشاہت نہیں ہوتی جبکہ “جمہوری ریاست” وہ ہوتی ہے جہاں عوام حکومت بناتے ہیں۔
یعنی کوئی بھی جمہوریہ جمہوری ریاست تو ہو سکتی ہے،مگر ہر جمہوری ریاست ضروری نہیں کہ جمہوریہ ہوجیسے برطانیہ ایک جمہوری ریاست توہے، مگر وہ جمہوریہ نہیں ہے ۔اور پاکستان کتابوں میں ایک جمہوری ملک نہ ہونے باوجود ایک جمہوریہ ضرور ہے مگر صدر اور چند دیگر اعلیٰ عہدیداروں کو تاحیات قانونی استثنیٰ مل جانے کے بعد عملی طور پر اب یہ جمہوریہ نہیں رہا ہے کیونکہ دنیا کے کسی بھی مہذب ملک میں کسی حکمران کو تاحیات استثنیٰ حاصل نہیں ہے سوائے اس کے وہ بادشاہ یا ملکہ ہو۔برطانیہ کا وزیراعظم اقتدار سے نکلتے ہی ایک عام آدمی کی حیثیت میں آجاتا ہے ،اُس کا تمامتر پراٹوکول ختم ہوجاتا ہے۔مگر یہاں پراٹوکول تو ایک طرف ان کی پینشن لگ جاتی ہے ۔اس پر صحافی ہمیشہ تنقید کرتے رہے ہیں ۔چند ماہ قبل جب وزیر خزانہ کو ان کی مراعات میں خلاف ضابطہ کئی گنااظافہ پر توجہ دلائی گئی تو بجائے اس کے کہ وہ اِس کو ختم کرتے انہوں نے کہا کہ اُنہیں کئی سال سے انکریمنٹ دیا ہی نہیں گیا تھا۔
پاکستان کا نام آج بھی اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے، مگر سوال یہ ہے کہ جمہوریت کی روح کہاں ہے؟آئین کتابوں میں زندہ ہے، مگر اس کی سانسیں کمزور ہو چکی ہیں۔اقتدارکتابوں میں اب بھی عوام کے پاس ہے ، اور ایک سیاسی جماعت کے بقول تو طاقت کاسرچشمہ عوام ہیں مگر حقیقت میں تو عوام کے پاس طاقت والا وہ چشمہ بھی نہیں ہے کہ جسے وہ اپنی آنکھوں پر لگا کر صحیح اور غلط کا اندازہ کرسکیں ۔
یہاں سیاسی جماعتیں جمہوریت کی دعوے دار ضرور ہیں، مگر ان کے دروازے وراثتی سیاست نے بند کر رکھے ہیں۔انتخابات ہوتے ہیں، مگر اعتماد پیدا نہیں کرتے۔عوام ووٹ دیتے ہیں، مگر فیصلہ کہیں اور ہوتا ہے۔پاکستانی عوام کی یہی توبڑی اور اصل مشکل رہی ہےکہ پاکستان جمہوریہ توتھا مگر جمہوریت نہیں تھی اور اب تو کچھ بھی نہیں رہا۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان واقعی ایک جمہوریہ بنے،تو ہمیں آئین کو طاقت کا نہیں اعتماد کا سرچشمہ بنانا ہوگا۔اداروں کو اپنی حدوں میں اور عوام کو اپنی ذمہ داریوں میں واپس لانا ہوگا ۔ یہ بات ہم سب کو ذہن نشین کرلینی چاہے کہ اگر جمہور کی آواز دب جائے،تو” جمہوریہ “صرف نام رہ جاتی ہے، نظام نہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمارے حکمرانوں اور مقتدر حلقوں کو صحیح فیصلے کرنے کی صلاحیت سمجھ اور توفیق عطا فرمائے ۔ آمین!
ہارون آباد (نمائندہ خصوصی ستی رپورٹر) ڈاکٹر عامر رضا نے کہا کہ عوام کے لیے صحت کے شعبے میں ایک
ہارون آباد (نمائندہ خصوصی ستی رپورٹر) ڈاکٹر عامر رضا نے کہا کہ عوام کے لیے صحت کے شعبے میں ایک
ہارون آباد ( سٹی رپورٹر)میں جامعہ فریدیہ تجوید القرآن کے ایک طالب علم پر مبینہ تشدد کا معاملہ
ہارون آباد ((. . . . )): محکمہ زراعت پنجاب کے زیرِ اہتمام آج کسان سہولت سینٹر ہارون آباد کا باقاعدہ
عمرکوٹ رپورٹ بیوروچیف ڈاکٹر ایم لال واگھانی سامارو میں پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سید ذوالفقار