38

سامارو (رپورٹ ، ڈاکٹر ایم لال واگھانی بیوروچیف سندھ) سامارو روڈ شہر میں اسسٹنٹ کمشنر کی جانب سے عوامی شکایات کے انبار پر کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا۔

سامارو (رپورٹ ، ڈاکٹر ایم لال واگھانی بیوروچیف سندھ)

سامارو روڈ شہر میں اسسٹنٹ کمشنر کی جانب سے عوامی شکایات کے انبار پر کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا۔

خبر کے مطابق اسسٹنٹ کمشنر سامارو سنجے کمار ترکیو نے یونین کونسل سامارو روڈ آفس میں ریونیو ڈپارٹمنٹ کے سیل سرٹیفکیٹ، فوتی کھاتے کی تبدیلی، بینک گروی ختم کرانے، اندراج برقرار رکھنے، سالانہ تصدیق اور دیگر قانونی و جائز مسائل کے فوری حل کے لیے کھلی کچہری منعقد کی۔

اس موقع پر بلدیہ اور مختلف صوبائی محکموں سے متعلق عوامی شکایات بھی سنی گئیں۔

کھلی کچہری میں مختیارکار سامارو آصف کالرو، سندھ تپیدار ایسوسی ایشن کے ڈویژن صدر سید جاوید حسین شاہ، پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور ضلعی ممبر ڈاکٹر نظیر احمد بھرگڑی، تاجر ایسوسی ایشن کے سینئر نائب صدر بلال جان قائمخانی، سامارو روڈ تاجر ایسوسی ایشن کے رہنما سیٹھ مگھن لعل، سیٹھ عابد قائمخانی، آبادگار رہنما حاجی اقبال کپری، حاجی صحبت دونکائی، مولوی اسلم راجپوت، سیٹھ غلام نبی آرائیں، سلیم راجپوت اور دیگر معزز شہری شریک ہوئے۔

عوام نے کھلی کچہری میں پولیس، بلدیہ، صحت، نادرا، پبلک ہیلتھ، بجلی اور قیمتوں سے متعلق شکایات پیش کیں۔
شکایات میں منشیات کی کھلی فروخت، چوریوں کی بڑھتی وارداتیں، غیر قانونی قبضے، رکشوں کی زیادتی، شہر میں کچرے کے ڈھیر، مچھر مار اسپرے نہ ہونا، گٹر لائنوں کی صفائی نہ ہونا، پینے کے صاف پانی کی عدم فراہمی، صحت کے محکمے سے ادویات نہ ملنا، ایمبولینس کے باوجود مریضوں کو سہولت نہ دینا، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ایجنٹوں کی جانب سے فی مستحق خاتون سے 3000 روپے کٹوتی، نادرا سامارو کے عملے کا عوام سے ناروا سلوک، بجلی کی لوڈشیڈنگ، ناجائز بلنگ اور روزمرہ اشیاء کی مہنگی فروخت شامل تھیں۔

ریونیو ڈپارٹمنٹ سے متعلق عوام نے سیل سرٹیفکیٹ، فوتی کھاتے کی تبدیلی، سالانہ اندراج، بینک گروی ختم کرانے اور دیگر مسائل بیان کیے۔
اسسٹنٹ کمشنر نے تمام شکایات سن کر مختیارکار سامارو اور متعلقہ تپیداروں کو فوری حل کی ہدایت دی۔

اس موقع پر سیٹھ مگھن لعل، سیٹھ عابد قائمخانی اور دیگر معزز شہریوں نے مطالبہ کیا کہ یونین کونسل سامارو روڈ کو ٹاؤن کمیٹی کا درجہ دیا جائے تاکہ شہریوں کے مسائل مؤثر طور پر حل ہو سکیں۔

انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ سامارو روڈ پولیس پوسٹ میں صرف تین یا چار اہلکار تعینات ہیں، اس لیے ڈی سی عمرکوٹ، ایس ایس پی عمرکوٹ اور ڈی آئی جی میرپورخاص کو خط لکھ کر 20 سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے جائیں تاکہ بڑھتی ہوئی بدامنی پر قابو پایا جا سکے۔

اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر سنجے کمار ترکیو نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوام کے مسائل جائز ہیں اور ان کے حل کے لیے وہ بالا افسران کو لکھ کر ترجیحی بنیادوں پر مسائل حل کرانے کی کوشش کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ جلد دوبارہ کھلی کچہری منعقد کی جائے گی، جس میں تمام متعلقہ محکموں کے افسران کی شرکت یقینی بنائی جائے گی تاکہ عوامی مسائل کا مکمل حل کیا جا سکے۔

آخر میں انہوں نے تاجروں کو ہدایت دی کہ روزمرہ اشیاء سرکاری نرخوں پر فروخت کریں اور غیر قانونی تجاوزات خود ختم کریں۔
شہر میں پرائیویٹ چوکیدار تعینات کرنے اور سی سی ٹی وی کیمرے لگانے کی بھی ہدایت دی گئی تاکہ جرائم کی روک تھام ممکن ہو سکے۔

اس موقع پر تپیدار، سندھ تپیدار ایسوسی ایشن کے مرکزی صدر سید علی قطب شاہ، یو سی ہیڈ کلرک اسلم کپری، کلرک حسنین بلوچ اور دیگر افسران و معزز شہری بھی موجود تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں