آج جدید دنیا کی پولیسنگ تبدیل ہو چکی ہے، مجرم اب پولیس نہیں پکڑتی، یہ لیبارٹریوں سائنس اور ٹیکنالوجی کے ذریعے گرفتار ہوتے ہیں، تفتیش بھی اب ڈنڈوں اور چھتروں سے نہیں ہوتی، یہ پولی گرافک ٹیسٹ، سائنسی ثبوتوں اور کرائم سین کے ذریعے ہوتی ہے
قتل، ڈکیتی ، اغواء، چوری، سرقہ، فراڈ جیسے کرائم سے معاشرے کو بچانا چاہتے ہیں تو پھر ہمیں پولیسنگ کا نیا سسٹم لانا ہوگا اور وہ سسٹم سی سی ٹی وی فوٹیج، موبائل فون، فنگر پرنٹس اور ڈی این اے پر “بیس” کرتا ہے۔
ہمارے نوجوانوں کے لیے جدید پولیسنگ میں کیریئر کے بہت سے مواقع موجود ہیں
کون سی ڈگریاں لینی چاہئیں؟
BS Forensic Science
BS Criminology
Forensic Psychology
Digital Forensics
کس قسم کا ٹیلنٹ چاہیے؟
وہ نوجوان جو crime scene کو دیکھ کر logical conclusions نکال سکے۔ کیمسٹری،بائیولوجی شوق سے پڑھنے والے سٹوڈنٹس اس میں جلد کامیاب ہوستے ہیں
CCTV، GPS، موبائل ڈیٹا، اور AI-based tools کو سمجھنے کی صلاحیت رکھنے والےنوجوانوں کی بہترین فیلڈ ہے
پاکستان میں fraud، cyber crime، اور identity theft جیسے جرائم بڑھ رہے ہیں، جنہیں صرف سائنسی بنیادوں پر ہی روکا جا سکتا ہے ۔ دنیا بھر میں پولیسنگ اب data-driven ہو چکی ہے۔ ہمارے نوجوان اگر اس میدان میں آئیں تو نہ صرف ملک کی خدمت کریں گے بلکہ عالمی سطح پر بھی اپنا مقام بنا سکتے ہیں۔
ٺٽو رپورٹ دعا نیوز عبدالرزیز شیخ وزيراعظم پاڪستان ميان محمد شھباز شريف سان اسلام آباد ۾ ايم اين اي سيد اياز علي شاهه شيرازي
ہارون آباد مرکزی انجمن تاجران کے صدر راجہ آصف محمود جنجوعہ اور جنرل سیکرٹری ملک محمد ریاض خلجی
نوابشاہ(رپورٹ۔انور عادل خانزادہ)ڈپٹی کمشنر شہید بینظیرآباد عبدالصمد نظامانی کی خصوصی ہدایات
بھارت کے لیجنڈری ہدایتکار بھاگیا راج 73 سال کی عمر میں انتقال کرگئے۔
سفارتی محاذ پر پاکستان کی تاریخی پذیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی۔بلاول بھٹو