27

بے لوث خدمت اور کردار کی سیاست کا دوسرا نام — ایڈووکیٹ ملک محمد حیات اتراء مرحوم خصوصی تحریر: راجہ نورالہی عاطف

بے لوث خدمت اور کردار کی سیاست کا دوسرا نام — ایڈووکیٹ ملک محمد حیات اتراء مرحوم

خصوصی تحریر: راجہ نورالہی عاطف

وقت کے دھارے میں کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو گزر جانے کے بعد بھی دلوں میں زندہ رہتی ہیں۔ ان کے کردار، خدمات اور عوامی محبت کے رنگ اتنے گہرے ہوتے ہیں کہ زمانہ ان کی یادوں کو مٹانے سے قاصر رہتا ہے۔ سابق ایم پی اے ایڈووکیٹ ملک محمد حیات اتراء مرحوم بھی ایسی ہی ایک درخشاں شخصیت تھے جنہوں نے اپنی سیاست کو ذاتی مفادات کی بجائے عوامی خدمت کا ذریعہ بنایا۔
ایڈووکیٹ ملک محمد حیات اتراء مرحوم کی سیاست کا بنیادی فلسفہ ’’عوام کے لیے، عوام کے ساتھ‘‘ تھا۔ وہ سیاست کو خدمت کا میدان سمجھتے تھے، اور یہی وجہ تھی کہ ان کے دورِ نمائندگی میں ترقیاتی منصوبوں کا جال بچھایا گیا۔ تعلیم، صحت، سڑکوں کی تعمیر، پینے کے صاف پانی کی فراہمی، اور دیہی علاقوں کی فلاح کے لیے جو عملی اقدامات انہوں نے کیے، وہ آج بھی زبانِ زدِ عام ہیں۔ان کی پہچان محض ایک عوامی نمائندے کی نہیں بلکہ ایک مخلص، دیانت دار اور قانون دان شخصیت کی تھی۔ ایم پی اے ملک محمد حیات اتراء نے اپنے دور اقتدار میں اپنے پبلک فورم کے انچارج ملک محمد امیر اتراء کی زیر نگرانی ڈاکٹر میاں محمد طاہر کے کلینک کے قریب اپنا پبلک سیکرٹریٹ قائم کیا ہوا تھا جہاں پر ان کے کوآرڈینیٹر ملک عطا محمد کھبہ شب و رو علاقہ کے عوام کی بے لوث خدمت کےلیے مامور رہتے تھے۔ بطور ایڈووکیٹ، وہ انصاف کے علمبردار رہے اور بطور سیاست دان، عوام کے حقوق کے محافظ۔ وہ ہمیشہ اصولوں پر قائم رہے اور کبھی بھی ذاتی مفاد کو قومی و عوامی مفاد پر ترجیح نہ دی۔
ضلع خوشاب کے نامور قانون دان ملک محمد حیات اتراء مرحوم کا سب سے بڑا کارنامہ ان کی عوام سے جڑت تھی۔ وہ گاؤں کے دروازوں پر دستک دینے والے نمائندے تھے، جو عوام کے دکھ سکھ میں برابر شریک رہتے۔ چاہے کوئی غریب کا مقدمہ ہو، بیمار کا علاج یا کسی یتیم کا سہارا — وہ ہر ضرورت مند کے ساتھ کھڑے نظر آتے۔ ان کی مجلس میں امیر و غریب کا کوئی فرق نہیں تھا، سب کے لیے ان کا دروازہ کھلا رہتا۔ ایڈووکیٹ ملک محمد حیات اتراء کی ضلع خوشاب کی وکلاء برادری کےلیے بھی گرانقدرخدمات ہیں۔ ان کا گروپ ڈسٹرکٹ بار میں ممتاز اہمیت کا حامل رہا اور اب ان کے صاحبزادے ہردلعزیز نوجوان قانون دان ملک محمد زبیر حیات اتراء کی قیادت میں وکلاء برادری کی امنگوں کےلیے اتراء گروپ متحرک نظر آتاہے۔
ان کی سیاسی بصیرت اور سماجی کردار نے ضلع خوشاب و گردونواح کے عوام پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ وہ نوجوانوں کے حوصلہ افزا، بزرگوں کے معتمد، اور محروم طبقات کے سہارا تھے۔ ان کے جانے سے جو خلا پیدا ہوا، وہ برسوں میں بھی پُر نہیں ہوسکے گا۔
ملک محمد حیات اتراء مرحوم کی خدمات دراصل ایک عوام دوست قیادت کا عملی مظہر تھیں۔ آج بھی ان جیسی شخصیات کی یاد دلوں میں تازگی پیدا کرتی ہے۔ ان کا کردار ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ اصل سیاست وہی ہے جو انسانیت کی خدمت کے جذبے سے سرشار ہو۔ وہ بے لوث عوامی خدمت کے جذبے سے اسقدر سرشار تھے کہ ایک مرتبہ انہوں نے اپنے آبائ گاوں اتراء میں اتراء ہاوس پر اس کی وقت کی وفاقی وزیر مملکت محترمہ سمیرا ملک کے ہمراہ راقم الحروف (راجہ نورالہی عاطف ) کو ایک خصوصی انٹرویو کے کےدوران اپنی ترجیحات کا ذکر کرتے ہوءے بتایا تھا کہ پمساندہ اور دور افتادہ علاقوں کے باسیوں کے معیار زندگی کو بلند کرنا، صحت عامہ کی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانا، تعلیمی اداروں کی فلاح و بہبود اور اپنے حلقہء نیابت میں انفراسٹریکچر کی بہتری کو اپنی ترجیحات میں شامل کئے ہوءے تھے۔ اب ایڈووکیٹ ملک محمد حیات اتراء کے بے لوث عوامی خدمت کے عظیم مشن کی تکمیل کےلیے ان کے صاحبزادے ضلع خوشاب کے سرمایہء افتخار ایڈووکیٹ ملک محمد زبیر حیات اتراء بھرپورکوشاں نظر آتے ہیں۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایڈووکیٹ ملک محمد حیات اتراء مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے مشن کو جاری رکھنے کے لیے ان کے خاندان اور چاہنے والوں کو ہمت و توفیق دیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں