27

سکھر (بیورورپورٹ۔۔سید نصیر حسین زیدی) بااثر شخص اور بڑی بھابھی کے ظلم و زیادتی کے خلاف مسمات لطیفہ چاچڑ نے اپنے بچوں اور دیگر اہلِ خانہ

سکھر (بیورورپورٹ۔۔سید نصیر حسین زیدی) بااثر شخص اور بڑی بھابھی کے ظلم و زیادتی کے خلاف مسمات لطیفہ چاچڑ نے اپنے بچوں اور دیگر اہلِ خانہ کے ہمراہ احتجاج کیا۔ مظاہرین نے پولیس کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔مسمات لطیفہ چاچڑ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی بڑی بھابھی، بااثر شخص کے اثر و رسوخ کے تحت، ان کی چھوٹی بھابھی — جو ایک بیوہ خاتون ہیں — اور ان کی معصوم بیٹیوں پر جھوٹے مقدمات درج کروا کر انہیں ہراساں کر رہی ہیں۔تفصیلات کے مطابق، سکھر کے علاقے نیو پنڈ محلہ اسلام کالونی کی رہائشی مسمات لطیفہ چاچڑ نے اپنے مرحوم بھائی عبداللطیف چاچڑ کی بیٹیوں اور بچوں کے ساتھ بااثر شخص عبدالنبی چاچڑ اور اپنی بڑی بھابھی مسمات غلام فاطمہ چاچڑ کی زیادتیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔انہوں نے بتایا کہ ان کے مرحوم بھائی عبداللطیف چاچڑ کی دو شادیاں تھیں۔ بھائی کے انتقال کے بعد بڑی بھابھی مسمات غلام فاطمہ چاچڑ نے چھوٹی بھابھی، بیوہ مسمات وزیران چاچڑ اور ان کے بچوں کی زندگی اجیرن بنادی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بڑی بھابھی، بااثر شخص عبدالنبی چاچڑ کے ساتھ مل کر ظلم و زیادتی کے پہاڑ توڑ رہی ہے۔لطیفہ چاچڑ کے مطابق، بیوہ بھابھی وزیران چاچڑ نے 12 ستمبر 2025ء کو ڈی آئی جی سکھر کو تحریری درخواست دی تھی، تاہم بااثر گروہ کے دباؤ میں آکر 11 اکتوبر 2025ء کو تھانہ نیو پنڈ میں ایک جھوٹی اور من گھڑت ایف آئی آر نمبر 106/2025 درج کرلی گئی، جس میں دفعہ 452، 447، 448، 506/2 اور 34 پی پی سی شامل کی گئی ہیں۔لطیفہ چاچڑ نے الزام عائد کیا کہ ان کی چھوٹی بھابھی اس وقت ویمن سینٹر سکھر پولیس لائن میں قید ہے، جبکہ مقدمے کا مدعی خود بااثر شخص عبدالنبی چاچڑ ہے جس نے جھوٹا دعویٰ کیا ہے کہ بیوہ بھابھی نے گھر پر قبضہ کیا ہوا ہے۔مظاہرہ کرنے والی خاتون نے مزید بتایا کہ ان کے مرحوم بھائی نے اپنی زندگی ہی میں اپنی چھوٹی بیوی اور معصوم بچوں کے لیے ایک گھر بطور وصیت دے رکھا تھا، جس کا اسٹامپ پیپر بطور ثبوت موجود ہے، اور بیوہ بھابھی اپنے بچوں کے ساتھ بھائی کی زندگی میں ہی اس گھر میں رہائش پذیر تھی — جس کی گواہی پورا محلہ دے سکتا ہے۔آخر میں مسمات لطیفہ چاچڑ نے صدرِ پاکستان، وزیرِاعظم، چیئرمین ہیومن رائٹس کمیشن پاکستان، وزیرِاعلیٰ سندھ، گورنر سندھ، چیف سیکریٹری، آئی جی سندھ، ڈی آئی جی سکھر اور ایس ایس پی سکھر سمیت دیگر اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ بااثر شخص اور بڑی بھابھی کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے اور بیوہ بھابھی، ان کی بیٹیوں اور معصوم بچوں کو انصاف فراہم کیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں