لاہور (راجہ نورالہی عاطف سے )ممتاز شاعر واَدیب، دانشور ،اقتدار جاوید نے کہا ہے کہ تخلیق کار فطرت کی راعنائیوں ،زیبائیوں اور شناسائیوں کو اپنے قلم سے قارئین کے لیے پیش کرتا ہے۔ دانشور ہمیشہ قوم کی فلاح و بہبود کے لیے محنت کرتے ہیں۔ دنیا کے تمام انقلاب دانشوری کا ثمر ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے ”بزم تخلیق“ کے زیر اہتمام افوش کلب لاہور میں کثیر المقاصد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔جس کے مہمان خصوصی حسن جلیل، حمید رازی اور ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم تھے۔ نظامت کے فرائض مدیر” تخلیق“ سونان اظہر اور معروف شاعر ادیب پبلشر خالد شریف نے انجام دیے جب کہ اظہار خیال کرنے والوں میں تسنیم کوثر ،ایئر مارشل(ر) ساجد حبیب ،زوبیہ انور، جاوید منظور، اقبال بخاری، شعیب بھٹی، ظفر سپل،اعتبار ساجد، کاوش صدیقی، پیرزادہ طارق شریف ، عدیل برکی، سلمان سعید خان، زاہد ندیم ، سعید منصور اور دیگر شامل تھے۔ اقتدار جاوید نے مزید کہا کہ عالمی شہرت یافتہ شاعر وادیب ،صحافی اظہر جاوید نے اَدب کی آبیاری کے لیے تخلیق کا اجراءکیا ۔انھوں نے زندگی کے مختلف حلقوں میں لازوال شہرت حاصل کی۔ ان کی خدمات کا اعتراف آج بھی جاری ہے۔ اُن کے فرزند سونان اظہرجاویدبڑی خوش اسلوبی سے اپنے والد کی جلائی ہوئی شمع روشن کر رہے ہیں۔ معروف براڈ کاسٹر و کمنٹریٹر کرکٹ اور تجزیہ نگار حسن جلیل نے کہا کہ” تخلیق“ سے میرا رشتہ اٹل ہے۔ میں جہاں بھی جاتا ہوں ”تخلیق“ کو اپنے ساتھ پاتا ہوں۔اظہر جاوید کے ہمدم دیرینہ جاوید منظور نے کہا کہ اظہرجاوید دوستوں کے دوست تھے۔ انھوں نے دوستوں کی بھرپور حوصلہ افزائی کی۔ پیرزادہ طارق شریف نے کہا اسلام ہمیں رواداری اور برداشت کا درس دیتا ہے۔ ہمیں دوسروں پر کیچڑ اچھالنے کے بجائے مسائل حل کرنے کے لیے مشاورت کرنے کو ترجیح دینی چاہیے۔” تخلیق“ کو مزید معیاری بنانے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ ساجد حبیب نے اپنے دلچسپ مضمون سے ایک اقتباس سنا کر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ انھوں نے مزید کہا کہ سونان اظہر جس انداز سے آگے بڑھ رہے ہیں، ہمیں ان کا ساتھ دینا چاہیے۔ ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم نے کہا کہ کائنات اچھائی سے حسین تر ہو رہی ہے۔ لوگوں میں اچھائی تلاش کرنا بہت ضروری ہے۔ تخلیق کار ہر دور کا نمائندہ ہوتا ہے ۔معروف اُردو، پنجابی شاعر حمید رازی نے کہا کہ ادب زندگی کا قرینہ ہے۔ ہمیں ادب کے فروغ کے لیے ہمہ وقت مصروف عمل رہنا چاہیے۔ زوبیہ انور نے کہا کہ نوجوانوں کو اَدب سیکھنے کے لیے بزرگوں کی روایات کو حرزِ جاں بنانا چاہیے۔ نوجوانوں میں ادبی رحجان اُجاگر کرنا آج کی اہم ضرورت ہے ۔معروف افسانہ نویس اور ماہنامہ” تخلیق“ کی ناظم نشر و اشاعت تسنیم کوثر نے کہا کہ آج ”تخلیق“ اَدب کا نمائندہ پرچہ ہے ۔ہمیں اس کی بہتری کے لیے دست تعاون دراز کرنا ہوگا۔ ظفر سپل نے اپنی گفتگو میں کہا کہ ہمیں ذاتی پسند ناپسند کے بجائے اجتماعی سوچ کو آگے بڑھانا ہوگا ۔فروعی اختلافات بھلا کر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ معروف گلوکار و شاعر عدیل برکی نے کلام غالب پیش کر کے بے پناہ داد وصول کی۔ کاوش صدیقی، اقبال بخاری، اعتبار ساجد ،شعیب بھٹی اور دیگر نے ماہنامہ” تخلیق“ کی ادبی خدمات کے حوالے سے ایک معیاری پرچہ قرار دیا۔ مانامہ” تخلیق “کے مدیر سونا ن اظہر نے کہا کہ ہم نے” تخلیق “کو تجارت سے بالاتر ہو کر اَدب کے مقاصد کی تکمیل کے لیے وقف کر دیا ہے۔ یہ پرچہ گروپ بندی سے بہت بالاتر ہے ۔محترم خالد شریف نے کمپیئرنگ کے دوران بھی اپنی رس بھری گفت گو سے سامعین کو محظوظ کیا ۔عالمی شہرت یافتہ شاعر اعتبار ساجد نے اپنا کلام سناکر محفل کو گرمایا ۔سونا ن اظہر اورڈاکٹر ہارون الرشید تبسم کی سالگرہ کا کیک کاٹا گیا ۔اعتبار ساجد کو صحت کی بحالی کے تناظر میں خوشی کا اظہار کیا گیا۔ بہترین مضمون نگار اور بہترین افسانہ نویس یعنی ایئر مارشل (ر) ساجد حبیب اور کاوش صدیقی کو سرٹیفکیٹ اور کیش ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ مہمانان گرامی کے اعزاز میں پُر لطف عصرانے کا بھی اہتمام تقریب کا حصہ تھا ۔پاکستان زندہ باد کے فلک شگاف نعرے سے تقریب اختتام پذیر ہوئی۔
مقبول خبریں
نیوز لیٹر میں شمولیت
تازہ ترین خبریں روزانہ اپنے میل باکس میں حاصل کرنے کے لیے ہمارے نیوز لیٹر میں سبسکرائب کریں۔ بے فکر رہیں، ہمیں بھی سپیمنگ سے نفرت ہے!
[contact-form-7 id="287" title="subscribe"]اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں
مزید پڑھیں
مقبول خبریں
نیوز لیٹر میں شمولیت
تازہ ترین خبریں روزانہ اپنے میل باکس میں حاصل کرنے کے لیے ہمارے نیوز لیٹر میں سبسکرائب کریں۔ بے فکر رہیں، ہمیں بھی سپیمنگ سے نفرت ہے!
[contact-form-7 id="287" title="subscribe"]