49

نکوٹین کا زہر ۔ سگریٹ کیسے خاموشی سے زندگی نگلتا ہے۔ تحریر ظہیر حیدر جعفری

نکوٹین کا زہر ۔ سگریٹ کیسے خاموشی سے زندگی نگلتا ہے۔

تحریر ظہیر حیدر جعفری

انسانی تاریخ میں بہت سی عادات نے تہذیبوں کو متاثر کیا، لیکن چند ایسی ہیں جو بظاہر معمولی دکھائی دیتی ہیں مگر اندر سے انسانی وجود کو کھوکھلا کر دیتی ہیں۔ انہی میں سے ایک عادت سگریٹ نوشی ہے — ایک ایسی لت جو لاکھوں زندگیاں ہر سال خاموشی سے ختم کر دیتی ہے۔ نکوٹین کا یہ زہر جسم میں ایسے سرایت کرتا ہے جیسے زنگ لوہے کو چاٹ جاتا ہے، اور جب تک انسان کو احساس ہوتا ہے، زندگی کا سفر موت کے دروازے پر پہنچ چکا ہوتا ہے۔

سگریٹ میں موجود نکوٹین ایک ایسا کیمیکل ہے جو دماغ کے خلیوں پر براہِ راست اثر انداز ہوتا ہے۔ یہ وقتی طور پر تسکین اور سکون کا احساس دیتا ہے، لیکن یہ سکون ایک دھوکہ ہے۔ حقیقت میں نکوٹین جسم کے اندر ایک خطرناک انحصار پیدا کر دیتی ہے، جس سے نجات حاصل کرنا آسان نہیں۔ سگریٹ نوشی سے دل، پھیپھڑوں، خون کی نالیوں، معدے، جلد اور حتیٰ کہ دماغ تک پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) کے مطابق ہر سال دنیا بھر میں تقریباً 80 لاکھ افراد سگریٹ نوشی سے متعلق بیماریوں کا شکار ہو کر موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ ان میں سے کئی وہ لوگ ہوتے ہیں جو خود سگریٹ نہیں پیتے بلکہ دوسروں کے دھوئیں کا نشانہ بنتے ہیں یعنی Passive Smoking کے ذریعے زہر اپنے جسم میں اتارتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار محض اعداد نہیں بلکہ انسانیت پر ایک کڑوا طمانچہ ہیں۔

نکوٹین کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ یہ آہستہ آہستہ انسان کو خود سے بے خبر کر دیتی ہے۔ ابتدائی مرحلے میں سگریٹ نوشی کو محض عادت سمجھا جاتا ہے، مگر وقت گزرنے کے ساتھ یہ جسمانی اور ذہنی انحصار میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ نکوٹین دماغ میں “ڈوپامین” نامی کیمیکل کی مقدار بڑھا دیتی ہے، جس سے وقتی خوشی یا تسکین محسوس ہوتی ہے۔ یہی وہ لمحاتی خوشی ہے جو سگریٹ نوش کو بار بار اس زہر کی طرف کھینچ لاتی ہے۔

دل کے امراض، بلند فشار خون، پھیپھڑوں کا سرطان، اور سانس کی بیماریاں سگریٹ نوشی کے براہِ راست نتائج ہیں۔ لیکن ایک اور تباہ کن اثر جس پر کم بات کی جاتی ہے، وہ ہے ذہنی صحت پر نکوٹین کا اثر۔ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ سگریٹ نوش افراد میں ڈپریشن، بےچینی اور نیند کی کمی کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ یعنی نکوٹین انسان کو جسمانی کے ساتھ ساتھ ذہنی طور پر بھی کمزور کر دیتی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ سگریٹ نوشی اکثر ذہنی دباؤ کم کرنے کے لیے شروع کی جاتی ہے، مگر انجام اس کے برعکس ہوتا ہے۔ انسان لمحاتی سکون کے بدلے مستقل بےچینی خرید لیتا ہے۔ یوں نکوٹین ایک ایسا چکر بناتی ہے جس سے نکلنا آسان نہیں رہتا۔

معاشرتی سطح پر بھی سگریٹ نوشی ایک خاموش تباہی ہے۔ نوجوان نسل فیشن یا دوستی کے نام پر اس عادت میں مبتلا ہو رہی ہے۔ تعلیمی اداروں کے باہر، دفاتر میں، پارکوں میں، ہر جگہ سگریٹ نوشی کو معمول سمجھ لیا گیا ہے۔ میڈیا اور اشتہارات نے بھی ماضی میں اس زہر کو “مردانگی” یا “اسٹائل” کے روپ میں پیش کیا، جس نے خاص طور پر نوجوانوں کو بری طرح متاثر کیا۔

تاہم خوش آئند پہلو یہ ہے کہ آج دنیا بھر میں نکوٹین کے خلاف آگاہی مہمات چل رہی ہیں۔ حکومتیں تمباکو نوشی پر بھاری ٹیکس عائد کر رہی ہیں، پبلک مقامات پر پابندیاں لگائی جا رہی ہیں، اور تعلیمی اداروں میں آگاہی پروگرامز متعارف کرائے جا رہے ہیں۔ مگر یہ سب اقدامات اس وقت تک مؤثر نہیں ہو سکتے جب تک ہر فرد خود اس خطرے کا احساس نہ کرے۔

زندگی قدرت کا سب سے قیمتی تحفہ ہے، اور اسے نکوٹین کے دھوئیں میں ضائع کرنا سراسر ناانصافی ہے۔ سگریٹ کا ہر کش دراصل زندگی کا ایک لمحہ کم کر دیتا ہے۔ اگر ہم نے اب بھی ہوش کے ناخن نہ لیے تو یہ زہر ہماری آئندہ نسلوں تک پھیل جائے گا۔

وقت آ گیا ہے کہ ہم سگریٹ کو “تسکین” نہیں بلکہ “تباہی” کے مترادف سمجھیں۔ جو لوگ اس زہر کے شکار ہیں، ان کے لیے پہلا قدم احساس ہے، اور دوسرا ارادہ۔ کیونکہ ارادے کے بغیر کوئی بھی لت ختم نہیں ہوتی۔ نکوٹین کا زہر خاموش ضرور ہے، مگر اس کی تباہی چیخ چیخ کر انسان کو برباد کر دیتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں