72

کہانی تیری قلم میری مفکرومحقق جناب سلیم اشرف ایک صاحبِ دل اور پُر درد انسان ہیں ۔ آپ کی زندگی غرباء ، یتامہ اور فلاح

کہانی تیری قلم میری

مفکرومحقق جناب سلیم اشرف ایک صاحبِ دل اور پُر درد انسان ہیں ۔ آپ کی زندگی غرباء ، یتامہ اور فلاح انسانیت کی آبیاری کیلئے ہمیشہ سے وقف رہی ہے۔ مجھ کو 2007ء سے آپ کی علمی، ادبی اور عارفانہ گفتگو سُننے کا شرف حاصل ہے ۔ میں اِس سلسلے میں خود کو خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ مجھ جیسے ایک بے علم شخص کو اِن کی علمی رفاقتوں کا سایہ میسر ہے اور میں نے اِن کی رفاقتوں میں ، اُلفتوں میں ، چاہتوں بھری بزم میں بیٹھ کربہت کچھ سیکھا ہے۔ مجھے سلیم اشرف صاحب نے اپنی کتاب،، کہانی تیری قلم میری،، بڑی اُلفت کے ساتھ مرحمت فرمائی تو میں نے بڑے احترام کے ساتھ اُن کے دست علم و ادب سے اپنے علم کی روشنی کے طور اُن سے وصول کیا۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اِس تیز دوڑتی دنیاوی زندگی میں لوگوں کے پاس وقت بہت کم ملتا ہے۔ لیکن جب میں نے اُس کا مطالعہ شروع کیا تو پھر میں اِس عظیم الشان بحر کی لہروں سے نظریں نہ ہٹا سکا اور اِس کی غوطہ زنی میں علم و ادب کے موتی چن کر اپنے تاجِ فکر کو مزین کئے بغیر نہ رہ سکا ۔ اس کتاب کی سب سے بڑی خوبی مصنف کا اندازتحریر ہے ۔ یہ کتاب کسی اُسلوب سے کسی مناظرانہ ، ادبانہ اور تحقیق نگاری کی تحریر نظر آتی ہے خوب صورت اندازِ اظہار اپنے قاری کو ماضی کے عہد کی یاد دلاتا ہے اگر یہ کہا جائے کہ سلیم اشرف صاحب اِس دور کے سعادت حسن منٹو ، ڈپٹی نزیر احمد ،منشی پریم چند، چراغ حسن حسرت اُس دور کے سلیم اشرف تھے تو بالکل بے جا نہ ہوگا ۔ کیونکہ سلیم اشرف کی تحریروں میں وہ سبھی رنگ ملتے ہیں ۔ جو عہد ماضی کے انِ مشاہیر کی تحریروں میں ملتے ہیں ۔ اِس تحریر کی طوالت کے پیش نظر تمام مضامین کا ایک ایک کر کے تزکرہ تو ناممکن ہے کیونکہ اگر ہم اِن مضامین پہ تفصیل سے گفتگو شروع کردیں تو وہ بذات خؤد ایک کتاب بن جائے گی ۔ نمونے کے طور پر اَس کتاب کے صفحہ نمبر 9 پر تحریر جھومر کے عنوان سے تحریر میں چراغ حسن حسرت کی تحریر کا شائبہ گزرتا ہے اور صفحہ 66 پر شہزادی کا بُنا قالین ڈپٹی نزیر احمد کی تحریر کا عکس معلوم ہوتا ہے ۔ سفحہ نمبر 29 پر سرچ لائٹ آپریشن آغا شورش کشمیری کا اندازِ تحریر ہے ، ریل بستی اورڈاکیا منشی پریم چند کی تحریروں کی ایک واضح حقیقت ہے۔ بھگت سنگھ کے مضمون کا مرزا فرحت بیک سے موازنہ کیا جا سکتا ہے۔ صفحہ نمبر 63 پر تحریر کردہ مضمون رشوت کو سعادت حسن منٹو کے اُسلوب سے تعبیر کیا جا سکتا ہے ۔ سلیم اشرف صاحب کی اِس کتاب میں کچھ جملے ایسے ہیں جو پوری کتاب کا آئینہ ہیں ۔ مثال کے طور پر بھگت سنگھ کے آغاز میں ہی آپ فرماتے ہیں کہ کہانی وہ نہیں جسے چھپایا جائے کہانی تو وہ ہے جسے بتایا ، سنایا اور پڑھایا جائے ۔ اِس مضمون میں آگے چل کر لکھتے ہیں کہ آج یونین آف جیک کے طرز پر بنے شہر لائل پور بارے برطانوی سامراج کا کہنا تھا کہ ہم اپنا جھنڈا اِس خطے کے سینے میں گاڑ کر جا رہے ہیں۔ اِس طرح اِس مضمون میں صفحہ نمبر 18 پر تحریر فرماتے ہیں کہ دنیا میں بہادروں کا قتل میدان جنگ میں کم اور عدالتوں میں زیادہ ہوا ہے ۔ اِس طرح سرچ لائٹ آپریشن میں تحریر ہے جب زمین کے ایک بڑے حصے کو ٹکڑوں میں تقسیم کیا گیا تو اِس سے انسانوں کو تقسیم کیا گیا ۔ اِس تقسیم نے زمین پر انسانوں کو بری طرح گھائل کیا، یہ باتیں دراصل انسانی باتین نہیں ہیں بلکہ ہمارے ارد گرد رونما ہونے والے تلخ حقائق ہیں اور اِن حقائق کو معاشرہ تسلیم نہیں کرتا ہے جیسا کہ گزشتہ سطور میں تحریر کیا ہے کہ اِس کتاب کا اسلوب بیان کرنے کے لئے ایک اور کتاب کی ضرورت ہے ، بہر کیف سلیم اشرف صاحب کی یہ تحقیقی اور تخلیقی کاوش درد دل رکھنے والے افراد کے لئے مشعلِ راہ کی حثیت رکھتی ہے ۔ یہ کتاب 112 صفحات پر مشتمل ہے جس میں سلیم اشرف صاحب نے حقائق اور واقعات کو اِس انداز میں تحریر فرمایا ہے کہ قاری نہایت آسانی سے ہربات کو اچھے طریقے سے سمجھ سکتا ہے ۔ اِن 112 صفحات میں جو کچھ بھی تحریر کیا گیا ہے وہ نہایت جامع اور مفصل ہے اور یہ کہ اُن کے صاحبِ بصیرت ہونے کا واضح ثبوت ہے کہ وہ اپنی تحریر کو مختصر کرتے کرتے بھی 112 صفحات صرف کر گئے ہیں ۔ اِس کتاب میں انہوں نے جو کچھ دیکھا وہ صفحہ قرطاس پر بکھیر دیا انہوں نے نہ تو کسی کی مخالفت کی ہے اور نہ ہی کوئی ایسا لفظ کہا ہے جو اخلاق پر مبنی نہ ہو بلکہ اپنی تحریروں میں نہایت شائستہ رویہ اختیار کیا ہے۔ اِس میں کوئی شک نہیں کہ یہ کتاب نثر نگاری کا بہت بڑا محرک ہے جو عرفان خداوندی کا سب سے بڑا زریعہ بھی ہے ۔ یہ کتاب اُن کے انسانی جذبوں کی بھر پورعکاسی کرتی ہے کہ دل کی بات دل سے نکل کر دل میں اُتر جائے ۔ جب میں رنگ ڈھنگ دیکھتا ہوں تو مجھے اُن لوگوں پر بہت پیار آتا ہے جو انسانیت سے اُلفت کا دم بھرتے ہیں ۔
خالد محمود چوہان رتی ٹبی ﷽

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں