محکمہ پولیس کے افسران کا آج کے دور میں بھی وہی روایتی انداز۔۔
محکمہ پولیس کے افسران کا آج کے دور میں بھی وہی روایتی انداز۔۔
آج سے کچھ عرصہ پہلے تھانہ چوہنگ میں تعینات ساجد محمود SI کو رات گئے 15 کی کال موصول ہوئی کہ لیڈیز ہاسٹل کا عملہ لڑکیوں کو حراساں کر رہا ہے۔ جس پر ساجد محمودSi موقع پر پہنچے ہر دو فریقین کو سنا اور ہاسٹل کے مالک مامون رشید کو تھانہ ساتھ چلنے کا کہا اور 15 کال کرنے والی لڑکی سے درخواست موقع پر لے لی گئی۔۔
جو کہ لڑکی نے کہا کہ اس ٹائم رات کے تین بج رہے ہیں میں صبح تھانہ آوں گی۔ تمام تر وقوعہ کے متعلق SI ساجد محمود نے SHO ناصر حمید کو بھی بتلایا اور درخواست بھی سینڈ کی اس کے بعد SHO کے حکم پرصبح 8 بجے ساجد محمود سب انسپکٹر نے مامون الرشید کو آن ڈیوٹی TSI نعیم سلطان کے حوالے کیا اور خود ڈیوٹی آف کر کے چلے گئے ۔۔ مزید اسکے بعد SHOصاحب نے افسران بالا کے حکم کے بعد مامون الرشید مالک ہاسٹل کو تھانہ سے فارغ کر دیا ۔۔
بعد ازاں معلوم ہوا کہ ہاسٹل کا مالک مامون الرشید ڈی آئی جی سہیل سکھیرا کا قریبی ساتھی ہے جنہوں نے اس تمام تر واقعے پر ناراضگی کا اظہار کیا اور ساجد محمود کے خلاف جھوٹی درخواست دلوائی کہ ساجد محمود نے اس سے 50000 روپے رشوت لی جس کی انکوائری SSP ڈسپلن نے کی جس میں پیسے لینے ثابت نہ ہوئے فوری CCPO لاہور کے ذریعے ساجد محمود SI کو معطل کروا دیا اور پریشر ڈالا کی ساجد محمود SI ہاسٹل کے مالک اور مجھ سے پاؤں پکڑ کا معافی مانگے جو ایسا نہ ہو نے پر ساجد محمود SI کو 1 سال سروس ضبطگی کی سزا بھی کروا دی اور اب تک بحال نہ ہونے دیا ۔۔ اس پر بھی جب ساجد محمود SI نے ہاسٹل مالک اور ڈی آئی جی سہیل سکھیرا سے معافی نہ مانگی تو اب وہ انھیں Dismiss کروانا چاہتے ہیں جو کہ وقوعہ پر سزا لینے کے باوجود پولیس لائن میں ایک جھوٹی رپورٹ پر چارج شیٹ کر دیا گیا ہے ۔۔
افسران کا اپنے ماتحتوں سے یہ رویہ کوئی نئی بات نہیں ہے نوری اور خاکی کا یہ فرق بہت دیر سے ہے ۔۔
دی آئی جی سہیل سکھیرا کے اس رویہ پر ڈی آئی جی آپریشنز لاہور بھی بے بس ہیں ۔۔