October 24, 2026

شہنشاہ ء تعمیرات، ملک محمد وارث کلو کی یاد میں خصوصی تحریر: راجہ نور الہی عاطف

IMG-20240817-WA0155

شہنشاہ ء تعمیرات، ملک محمد وارث کلو کی یاد میں

خصوصی تحریر: راجہ نور الہی عاطف

ہزاروں سال نرگس اپنی بے روی پہ روتی ہے

بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

یہ 1988۔ 1987ء کی بات ہے کہ راقم الحروف اس وقت شاہپور صدر (سرگودھا) کے گورنمنٹ ای ٹی ٹی کالج میں زیر تعلیم تھا کہ ایک ذاتی کام کے سلسلے میں بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن سرگودھا جانے کا اتفاق ہوا ، تعلیمی بورڈ کی طرف روانگی سے قبل کالج ہذا کے ایک کلاس فیلو نے بتایا کہ بورڈ کی بینک برانچ میں روڈہ تھل سے تعلق رکھنے والے مینیجر ملک محمد وارث کلو اپنے علاقہ کے لوگوں کے اس ادارے سے متعلق کاموں میں بھرپور معاونت کرتے ہیں ۔ چنانچہ جب تعلیمی بورڈ سرگودھا میں پہنچا تو سیدھا اس بینک برانچ میں جا کر سیکیورٹی گارڈ سے پوچھا کہ ملک محمد وارث کلو صاحب آئے ہوئے ہیں تو اس نے اشارے سے بتاتے ہوئے کہا کہ وہ سامنے کرسی پر تشریف فرما ہیں ۔ راقم نے بینک میں داخل ہو کر جناب ملک محمد وارث کلو کو اپنے علاقہ تھل کی نسبت کے حوالے سے تعارف کروایا اور ساتھ ہی اپنے کام کے متعلق بھی گزارش کردی ۔ عوامی دلوں پر راج کرنے والے ملک محمد وارث کلو کے ساتھ یہ میری پہلی ملاقات تھی ، آپ کمال، عظیم شخصیت کے مالک تھے ، اسی وقت نوکر کو چائے پانی کا حکم دینے کے بعد کہا کہ عزیزم کچھ دیر بعد میں خود آپ کے ساتھ متعلقہ برانچ میں جاتا ہوں انشاءاللہ آپ کا کام آج ہو جائے گا ۔ چنانچہ کچھ توقف کے بعد عوامی امنگوں کے ترجمان ملک محمد وارث کلو مجھے اپنے ہمراہ تعلیمی بورڈ کی متعلقہ برانچ میں لے گئے متعلقہ انچارج سے کام کروا کر دفتری لیٹر مجھے دیتے ہوئے خود اپنے بینک میں تشریف لے گئے ۔ میں ان کی اس خصوصی شفقت سے بہت زیادہ متاثر ہوا ۔ چنانچہ وقت گزرنے کے ساتھ ہی جناب ملک محمد وارث کلو بینک مینیجری کی سیٹ کو چھوڑ کر اپنے علاقہ کے عوام کی بے لوث خدمت کے جذبے سے سرشار ہو کر سیاست کے میدان میں ان ہوگئے۔ بلکہ با الفاظ دیگر یوں کہا جا سکتا ہے کہ ” وہ سیاست میں آتے گئے اور چھاتے گئے” ۔ قارئین محترم کالم کی طوالت کے ڈر سے اس عظیم المرتبت شخصیت کی بہت سی خوبیوں سے صرف نظر کرتے ہوئے یہ عرض کرتا چلوں کہ جناب ملک محمد وارث کلو نےسیاسی و سماجی شخصیت کی حیثیت سے قلیل عرصہ میں جس قدر شہرت اور مقبولیت کی منازل طے کیں ان کی علاقہ تھل کی تاریخ میں قبل ازیں کہیں کوئی نظیر نہیں ملتی ۔ غیر جانبدار ناقدین کا کہنا ہے کہ قسمت کے دھنی ملک محمد وارث کلو دیکھتے دیکھتے سیاست کے افق پر چھا گئے ۔ بر سبیل تذکرہ ملک محمد وارث کلو ہردلعزیز شخصیت کے مالک ہونے کے ساتھ ساتھ اعلی ا تعلیم یافتہ اور ماہر قانون تھے ۔ ان کی شخصیت کا یہ اعجاز بھی تھا کہ جو ان سے ایک مرتبہ ملتا وہ ہمیشہ کے لیے ان کی خوش اخلاقی اور ملنساری کی وجہ سے ان کا گرویدہ ہو جاتا ۔ انہوں نے عوامی اپنائیت کی قابل تقلید مثالیں قائم کر دیں ۔ سیاست کو بے لوث عوامی خدمت کا ذریعہ بنا کر عوامی دلوں پر راج کرنے کا فن اگر کسی کو آتا ہے تو وہ ملک محمد وارث کلو تھے ۔ محترم قارئین! محترم المقام ملک محمد وارث کلو کے ساتھ ان کی پہلی مرتبہ ایم پی اے شپ کی سیٹ جیتنے کے ساتھ ہی صحافتی تعلق قائم ہو گیا اور ان کی پوری زندگی میں یہ تعلق قائم رہا ، وہ حکومتی ایوانوں میں علاقہ تھل کے باسیوں کی فلاح و بہبود کے لیے کی جانے والی اپنی ہر سرگرمی کے بارے میں براہ راست ٹیلی فون کے ذریعے ہمیں آگاہ رکھتے بلکہ اس سے ایک قدم اگے علاقائی مفاد کے کاموں میں مشاورت کی حد تک بھی اعتماد کرتے تھے جو کہ ان کی عظیم شخصیت کا ایک بہت بڑا وصف تھا ۔ ملک محمد وارث کلو نے اپنے علاقہ کے عوام کے ساتھ ایک مثالی تعلق قائم رکھا ان کے دروازے ہر خاص و عام کے لیے ہمیشہ کھلے رہتے ، علاقہ کا ہر شخص “زید بکر ” کی معاونت کے بغیر ان سے براہ راست مل سکتا تھا ۔ علاقہ کے لوگوں کا بتانا ہے کہ جناب ملک محمد وارث کلو شب و روز اپنے ٹیلی فون پر اپنے علاقہ کے عوام کو میسر ہوتے ، انہوں نے کبھی بھی جاننے یا نہ جاننے والے کسی بھی شخص کی کال کو نظر انداز نہیں کیا ، اہلیان علاقہ کے مطابق حیران کن بات یہ ہے کہ اگر کسی شخص نے ملک محمد وارث کلو کو کال کر کے یہ بتا دیا کہ انہوں نے ووٹ تو ان کو نہیں دیا لیکن ان کا یہ فلاں کام کروانا مقصود ہے اور آپ پر پوری توقع بھی ہے ، تو ایسی کال پر بھی ملک محمد وارث کلو نے کبھی کسی شخص کی دل آزاری نہیں کی بلکہ متعلقہ آفیسر کو اس کام کی بابت کہہ کر دوبارہ کال کرنے والے شخص کو بتا دیا جاتا تھا کہ آپ کے کام کے حوالے سے میری بات ہو گئی ہے لہذا فلاں آفیسر کے پاس جاؤ انشاءاللہ آپ کا کام ہو جائے گا ۔ قارئین محترم !
بطور قلم کار ہمیں کئی مرتبہ ملک محمد وارث کلو کے ساتھ تادیر نشست و برخاست کا موقع بھی ملتا رہا ہم نے ان کی ایک منفرد خوبی یہ بھی دیکھی کہ وہ اتنے بڑے حلقے کے جم غفیر میں سے ہر ایک شخص کو بائی نیم اور بائی کاسٹ جانتے تھے اور جب کوئی شخص ان سے ملنے سامنے آجاتا تو اس کا نام لے کر اس کو اپنائیت کا احساس دلاتے۔ در حقیقت یہ وہ ان کی منفرد خصوصیت ہے جو انہیں دیگر سیاست دانوں سے ممتاز مقام دلواتی تھی ۔ عوامی سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ جناب ملک محمد وارث کلوصرف وعدے نہیں کرتے تھے بلکہ اپنے قول کی پاسداری بھی کرتے تھے ۔ وہ اپنی کئی نجی محفلوں میں یہ بات کرتے نظر آتے تھے کہ میں اپنے علاقہ کو صرف تھل نہیں بلکہ جزیرہ تھل کہوں گا جہاں ریت کے ٹیلے ہی ٹیلے نظر آتے ہیں ۔ جناب ملک محمد وارث کلو نے صحرائے تھل کو گل و گلزار بنانے کا عزم صمیم کیا ہوا تھا اور انہوں نے اس حوالے سے اپنے طویل دورانیہ ء اقتدار کے دوران دن رات عوامی خدمت کی روشن مثالیں قائم کیں۔ ملک محمد وارث کلو نے حقیقی معنوں میں عوامی امنگوں کی ترجمانی کر کے دکھائی اور یہی وجہ ہے کہ اپنے حلقہ ءنیابت میں ترقیاتی کاموں کا جال بچھانے کی وجہ سے علاقہ کے لوگوں نے انہیں شہنشاہ ءتعمیرات کے نام سے نامورکیا ۔ خدمت کی وجہ سے تھل کے عوام نے انہیں چار مرتبہ مسلسل ممبر صوبائی اسمبلی منتخب ہونے کا اعزاز بخشا ۔ واضح رہے کہ جناب ملک محمد وارث کلو اپنی اعلی ا قائدانہ صلاحیتوں کی وجہ سے نہ صرف اپنے حلقہ میں مقبول تھے بلکہ ان کی ان صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہوئے ان کی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن ) کے قائدین نے انہیں ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کے لیے بھی اپنا امیدوار نامزد کیا جوکہ خوشاب اور بالخصوص تحصیل نورپورتھل کے عوام کے لیے ایک بہت بڑے اعزاز کی بات ہے ۔ ملک محمد وارث کلو نے استحقاق کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے بھی مثالی خدمات سر انجام دیں اور اپنی اعلی ا صلاحیتوں کا خوب لوہا منوایا ۔ علاقہ کے لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملک محمد وارث کلو درحقیقت اپنے حلقہ کے ووٹرز کے حقوق اور عزت نفس کے تحفظ کے بھی پہرہ دار تھے ۔ عوامی دلوں پر راج کرنے والے ملک محمد وارث کلو کا آبائی علاقہ وارث آباد / روڈہ تھل ہے ۔ اللہ تبارک و تعالی ا کی طرف سے عطا کردہ اپنے خصوصی اوصاف حمیدہ اور قسمت کا دھنی ہونے کی وجہ سے ملک محمد وارث کلو چھوٹے شہر کے بڑے آدمی تھے۔ لوگوں کے دلوں کو مسخر کرنا ان کا طرہء امتیاز تھا اور وہ عوام کی خدمت کو اپنی زندگی کا نصب العین سمجھتے تھے ۔ ان کی بے پناہ خوبیوں اور غیر معمولی صلاحیتوں کا ہمیشہ اعتراف کیا جاتا رہے گا ۔ ملک محمد وارث کلو خدا ترس، معاملہ فہم، نیک سیرت، انسان دوست ،غریب پرور اور صلح جو ہونےکے ساتھ ساتھ ان جیسے دیگر اوصاف حمیدہ کے بھی مالک تھے ۔ قارئین محترم ! چار مرتبہ ممبر صوبائی اسمبلی منتخب ہونے والے جناب ملک محمد وارث کلو کے عوامی تعمیر و ترقی کے کاموں کی اتنی بڑی تفصیل ہے کہ بلا مبالغہ آرائی یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ اس پر ایک ضخیم کتاب ترتیب دی جا سکتی ہے ۔ لہذا میرے نزدیک اس تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں کیونکہ عیاں را چہ بیاں؟ ے مصداق ان کے اجتماعی عوامی تعمیراتی اور ترقیاتی کام خود بول رہے ہیں ۔ غیر جانبدار مبصرین کے مطابق جناب ملک محمد وارث کلو نے درحقیقت علاقہ تھل کو پسماندگی کی دلدل سے نکالنے کے لیے مثالی کردار ادا کیا ہے جسے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ۔ سدا بہار ایم پی اے ملک محمد وارث کلو نے سیاست کو عوامی خدمت کا جو روپ دیا ہے اس کی آج بھی عوامی سطح پر پذیرائی کی جا رہی ہے ۔ ان کی وفات کے بعد ان کے صاحبزادے ایکس ایم پی اے بیرسٹر ملک معظم شیرکلو اور ان کے بڑے بھائی کلو گروپ کے سربراہ ملک عبدالرحمان وارث کلو بھی اپنے والد محترم کے نقش قدم پر چلتے ہوئے بے لوث عوامی خدمت کے جذبے سے سرشار نظر آتے ہیں ۔
قارئین محترم !راقم الحروف نے جب زیر نظر کالم تحریر کرنا شروع کیا تو درج ذیل اشعار جناب ملک محمد وارث کلو کی عظیم المرتبت شخصیت کے بارے تحریر کردہ اس کالم سے متعلق میرے ذہن میں بار بارآ رہے تھے جو کہ آپ کی نذر کرتاہوں ۔

:۔کلی کلی کو خون دل دے کے چلا ہوں

صدیوں مجھے گلشن کی فضا یاد کرے گی

:۔کلی کلی کو نکھار دیں گے، روش روش کو سنوار دیں گے

گریہ مٹی طلب کرے گی، تو خون دل بار بار دیں گے

:۔ خون دل دے کے نکھاریں گے، رخ برگ گلاب

کہ ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے

:۔ ہمارا خون بھی شامل ہے تزئین گلستان میں
ہمیں بھی یاد کر لینا، چمن میں جب بہار آئے