جنرل فیض حمید نے ایس آئی ایف سی ، سپیشل انویسٹمنٹ فیسلیٹیشن کونسل کے خلاف مہم چلائی ، یہ پی ٹی آئی کو مشاورت فراہم کرتے رہے ۔ پی ٹی آئی لیڈر شپ سے ملاقاتیں کرتے رہے
جنرل فیض حمید نے ایس آئی ایف سی ، سپیشل انویسٹمنٹ فیسلیٹیشن کونسل کے خلاف مہم چلائی ، یہ پی ٹی آئی کو مشاورت فراہم کرتے رہے ۔ پی ٹی آئی لیڈر شپ سے ملاقاتیں کرتے رہے
پی ٹی آئی کے ہی ایک وزیر نے ایسی ملاقاتوں کی ویڈیو ریکارڈنگ کر کے اداروں کو فراہم کی ، جس کے بعد ان کے خلاف کاروائی کا فیصلہ ہوا ۔ اس کاروائی کی لپیٹ میں بہت سے آ چکے ہیں اور مزید بھی آئیں گے ۔
عدلیہ کے سابق جج حضرات کا بھی اس میں نام آ رہا ہے اور موجود کی طرف بھی اشارے ہو رہے ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
فیلڈ کورٹ مارشل کے لیے قائم ٹریبونل عام طور پر ایک ماہ میں اپنی کاروائی مکمل کر لیتا ہے ۔ جس کے بعد ایک مزید اپیلیٹ ٹریبونل کی گنجائش ہوتی ہے ۔ پھر چیف سے بھی اپیل کی جا سکتی ہے ، اس کے بعد ہائی کورٹ سپریم کورٹ جایا جا سکتا ہے ۔
جنرل فیض اپنے لیے وکیل بھی مقرر کر سکتے ہیں ، ٹریبونل سے حلف بھی لیا جاتا ہے کہ وہ انصاف فراہم کرے گا ۔
جنرل عاصم کے کل کاکول اکیڈمی میں خطاب کا ایک جملہ یہ بھی تھا کہ فوج کو کمزور کرنا قوم کو کمزور کرنا ہے ، یہ جملہ شائد اسی ٹرائل اور گرفتاری سے متعلق ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔
جنرل فیض ری ایکشنری ہو گئے تھے ؟ ، چیف نہ بن سکنے کا غصہ تھا یا پی ٹی آئی کی محبت ، بدقسمتی کی بات ہے کہ ایک سپورٹس مین وزیراعظم نے عدم اعتماد کو سپورٹس مین سپرٹ سے برداشت نہیں کیا ۔ جنرل فیض نے بھی ایسا کیا ؟
اس سب تصادم کی قیمت لوگوں نے جیب سے ادا کی ہے ، مہنگائی کی صورت ، بجلی انرجی کی قیمت کی صورت بیروزگاری کی صورت ۔ گرتے روپئے کی صورت ۔ جو بھی اس کے ذمہ دار تھے انہوں نے یہ ساری تکلیف کا خیال تو کیا کرنا تھا اس کی وجہ بنے رہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پی ٹی آئی کے وزیر نے ہی ریکارڈنگ فراہم کی ہے ،