کچھ تبصرے اور تجزیے نظر سے گزرے جن میں کہا گیا کہ بھارت محسن نقوی سے ٹرافی لینا نہیں چاہتا لہٰذا انہیں پیچھے ہٹ جانا چاہیے اور کسی اور کے ذریعے ٹرافی دلوائی جائے۔
کچھ تبصرے اور تجزیے نظر سے گزرے جن میں کہا گیا کہ بھارت محسن نقوی سے ٹرافی لینا نہیں چاہتا لہٰذا انہیں پیچھے ہٹ جانا چاہیے اور کسی اور کے ذریعے ٹرافی دلوائی جائے۔
میری رائے میں یہ بالکل غلط سوچ ہے۔
اختلاف اپنی جگہ میرے بھی محسن نقوی سے کئی معاملات پر اختلاف ہیں لیکن کل رات انہوں نے جو مؤقف اپنایا وہ سو فیصد درست اور غیرت مندانہ تھا۔
وہ ایشین کرکٹ کونسل کے صدر ہیں اور ہمیشہ سے روایت یہی رہی ہے کہ ایشیا کپ کی ٹرافی جیتنے والی ٹیم کو صدر ہی پیش کرتے ہیں۔
اگر بھارت کی ہٹ دھرمی یہ ہے کہ وہ صدر سے ٹرافی لینے کو تیار نہیں تو پھر سیدھی بات ہے ٹرافی ملے گی ہی نہیں۔ کھیل میں سیاست گھسانے کا آغاز بھارت نے کیا ہے اور اب محسن نقوی نے بالکل اسی زبان میں انہیں جواب دیا ہے۔
یہی درست پالیسی ہے۔
ٹٹ فار ٹیٹ۔۔ ورنہ ہر بار بھارت کی ضد اور انا کے آگے اچھا بننے کی کوشش پاکستان کے مفاد میں نہیں ہے۔ اس بار محسن نقوی نے بطور صدر ایک محبِ وطن اور باوقار رویہ اختیار کیا ہے جو قابلِ تحسین ہے۔
اور ہاں یہ پہلا موقع ہے کہ بھارت کا کوئی ٹورنامنٹ ملک سے باہر منعقد ہو رہا ہے۔ اصل میں یہ ٹورنامنٹ بھارت میں ہونا تھا لیکن چونکہ پاکستان نے وہاں جانے سے صاف سے انکار کیا اس لیے یہ دبئی میں منعقد ہوا۔
افتخار احمد
#PakVsIndia #muhsinnaqvi #AsiaCup