August 30, 2026
google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0

مقامی صحافی فیاض طفیل سدھو پر جھوٹے مقدمات، عدالتی احکامات کے باوجود پولیس کی بے حسی،

FB_IMG_1759223046800
google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0

مقامی صحافی فیاض طفیل سدھو پر جھوٹے مقدمات، عدالتی احکامات کے باوجود پولیس کی بے حسی،
چوہدری ذوالفقار سدھو ایڈووکیٹ سپریم کورٹ کے موثر قانونی دلائل
عدالت عالیہ کا سخت نوٹس ڈی پی او خانیوال سے رپورٹ طلب

ملتان () — مقامی صحافی فیاض طفیل سدھو پر جہانیاں پولیس کی جانب سے دو جھوٹے اور بے بنیاد مقدمات درج کرکے انہیں حبس بے جا میں رکھ کر ایف آئی اے کے حوالے کیا گیا ان مقدمات کے خلاف صحافی فیاض طفیل نے عدالت عالیہ سے رجوع کیا یہاں ان کے وکیل چوہدری ذوالفقار سدھو ایڈووکیٹ سپریم کورٹ نے موثر اور قانونی دلائل پیش کیے۔
عدالت عالیہ نے دلائل سے مطمئن ہو کر ڈی پی او خانیوال کو واقعے کی تحقیقات اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کا حکم دیا۔ تاہم، عدالتی احکامات کے باوجود ڈی پی او خانیوال نے کوئی عملی اقدام نہ کیا، جس پر عدالت عالیہ نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ڈی پی او خانیوال کو توہینِ عدالت (Contempt of Court) کا نوٹس جاری کر دیا اور تحریری رپورٹ طلب کر لی۔
حیران کن طور پر، پولیس نے رپورٹ میں اصل واقعے کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے اپنے ہی ایک انسپکٹر کو مدعی بنا کر ایک نیا مقدمہ درج کر دیا، جس کا مقصد عدالتی کارروائی سے توجہ ہٹانا اور معاملے کو الجھانا تھا۔ دوسری جانب، صحافی فیاض طفیل سدھو کی جانب سے دی گئی درخواست پر اب تک کوئی شنوائی یا کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔صحافی برادری اور انسانی حقوق کے حلقوں نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ صحافیوں کو جھوٹے مقدمات میں الجھانے اور آزادیِ صحافت کو دبانے کی کوششوں کا نوٹس لیا جائے۔
ذرائع کے مطابق، عدالت عالیہ نے آئندہ سماعت پر ڈی پی او خانیوال کی رپورٹ کا تفصیلی جائزہ لے کر مزید کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔ فیاض طفیل سدھو کا مؤقف ہے کہ وہ اپنی آواز کو دبنے نہیں دیں گے اور آئینی و قانونی جنگ جاری رکھیں گے۔

google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0