August 31, 2026
google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0

قوانینِ تحفظِ ناموسِ رسالت ﷺ کو ’’کالا قانون‘‘ قرار دینا ناقابلِ برداشت ہے، علماء

IMG-20260830-WA0156
google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0

قوانینِ تحفظِ ناموسِ رسالت ﷺ کو ’’کالا قانون‘‘ قرار دینا ناقابلِ برداشت ہے، علماء

22 اگست کی متنازع پریس کانفرنس کے مکمل ریکارڈ کا فوری قانونی جائزہ، دفعہ 295-C سمیت متعلقہ دفعات کے تحت کارروائی کا مطالبہ

جھنگ (نمائندہ خصوصی): عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت جھنگ کے امیر حضرت مولانا سید مصدوق حسین شاہ بخاری و مبلغ ختم نبوت حضرت مولانا عبد الحکیم نعمانی ، مجلس احرارِ اسلام کے امیر حضرت مولانا عزیز الرحمن احرار ، انٹرنیشنل ختم نبوت جھنگ کے امیر حضرت مولانا ابو بکر مدنی اور دیگر دینی و مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں نے نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں 22 اگست کو ہونے والی متنازع پریس کانفرنس میں قوانینِ تحفظِ ناموسِ رسالت ﷺ، ناموسِ قرآن، ناموسِ صحابہؓ و اہل بیتؓ اور امتناعِ قادیانیت سے متعلق قوانین کو ’’کالا قانون‘‘ قرار دینے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ناقابلِ برداشت قرار دیا ہے۔

مشترکہ بیان میں دینی رہنماؤں نے کہا کہ ناموسِ رسالت ﷺ، قرآن کریم، صحابۂ کرامؓ و اہل بیتِ اطہارؓ اور ختمِ نبوت ﷺ کے تحفظ سے متعلق قوانین پاکستان کے آئینی و قانونی نظام کا حصہ ہیں۔ ان قوانین کو تحقیر آمیز انداز میں پیش کرنا نہایت حساس معاملہ ہے، جس کا ریاستی اداروں کو قانون کے مطابق فوری نوٹس لینا چاہیے۔

انہوں نے حکومت، وزارتِ داخلہ اور متعلقہ تحقیقاتی اداروں سے مطالبہ کیا کہ 22 اگست کی پریس کانفرنس کی مکمل ویڈیو، آڈیو، تحریری بیانات اور دیگر دستیاب ریکارڈ کا فوری اور غیر جانب دارانہ قانونی جائزہ لیا جائے۔ اگر تحقیقات میں کسی بیان یا اقدام سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 295-C یا دیگر متعلقہ دفعات کے تحت جرم بنتا ہو تو ذمہ دار افراد کے خلاف فوری طور پر مقدمہ درج کرکے قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔

علماء کرام نے کہا کہ آزادیٔ اظہار اور آزادیٔ صحافت اہم آئینی اقدار ہیں، تاہم ان کے ساتھ قانونی اور سماجی ذمہ داری بھی وابستہ ہے۔ کسی قانون میں ترمیم، تنسیخ یا تشریح کا اختیار آئینی و قانونی طریقہ کار کے مطابق پارلیمان اور عدالتوں کو حاصل ہے۔ اگر کسی فرد یا گروہ کو کسی قانون سے اختلاف ہے تو وہ متعلقہ آئینی و قانونی فورمز سے رجوع کرے۔

انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی فرد، تنظیم یا گروہ کے خلاف قانون ہاتھ میں لینے یا غیر قانونی اقدام کی حمایت نہیں کی جا سکتی۔ اگر کسی بیان یا سرگرمی میں قانون کی خلاف ورزی کا شبہ ہو تو اس کا فیصلہ ریاستی اداروں اور عدالتوں کے ذریعے آئین و قانون کے مطابق ہونا چاہیے۔

دینی رہنماؤں نے نیشنل پریس کلب اسلام آباد اور صحافتی اداروں سے بھی مطالبہ کیا کہ حساس مذہبی معاملات سے متعلق پریس کانفرنسوں اور میڈیا سرگرمیوں میں ملکی قوانین، مذہبی حساسیت اور قومی یکجہتی کو ملحوظِ خاطر رکھا جائے اور ایسے معاملات کو سنسنی خیزی کے بجائے تحقیق، ذمہ داری اور قانون کے دائرے میں پیش کیا جائے۔

بیان میں شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالرحیم نقشبندی، شیخ الحدیث پیر طریقت حضرت مولانا حبیب اللہ نقشبندی، مولانا قاری محمد شفیق پانی پتی، مولانا غلام اللہ انور، حضرت اقدس حافظ بشیر احمد، مولانا ابوبکر مدنی، مولانا عزیز الرحمن احرار، مولانا سرور خان، مولانا سید مسرور حسین شاہ، مولانا قاری محمد طارق، مولانا محمد طیب فاروق، مولانا عبدالمالک فاروقی، مولانا ناصر حسن عارفی، مولانا عمر دراز نہرا سمیت دیگر علماء کرام نے حکومت اور متعلقہ ریاستی اداروں سے مطالبہ کیا کہ 22 اگست کی پریس کانفرنس کے معاملے میں فوری قانونی کارروائی کرتے ہوئے حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں۔

علماء کرام نے عوام سے اپیل کی کہ تحفظِ ختمِ نبوت ﷺ، ناموسِ رسالت ﷺ اور مقدساتِ اسلام کے تحفظ کے لیے آئین و قانون کی پاسداری کرتے ہوئے پُرامن اور ذمہ دارانہ کردار ادا کریں اور کسی بھی غیر قانونی ردعمل سے مکمل اجتناب کیا جائے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تحفظِ ختمِ نبوت ﷺ اور ناموسِ رسالت ﷺ کے لیے آئینی، قانونی، جمہوری اور پُرامن جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔

google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0