عمرکوٹ( ڈاکٹر ایم لال واگھانی بیوروچیف )کنری کے قریب چھوٹی عمر کی بچی کا مبینہ زبردستی شادی کا انکشاف ہوا ہے،بچی کے والد اور دادا کا احتجاج،ملوث
عمرکوٹ( ڈاکٹر ایم لال واگھانی بیوروچیف )کنری کے قریب چھوٹی عمر کی بچی کا مبینہ زبردستی شادی کا انکشاف ہوا ہے،بچی کے والد اور دادا کا احتجاج،ملوث افراد کے خلاف کاروائی کا مطالبہ،تفصیلات کے مطابق کنری تھانے کی حد یو سی شیر خان چانڈیو کے گاؤں لکھانو چانڈیو کے رہائشیوں محمد حسن چانڈیو اور ان کے بیٹے گل حسن چانڈیو نے ایک ہفتہ قبل ان کی بچی نو عمر 7 سالہ بہرائی بنت گل حسن چانڈیو کی مبینہ طور پر زبردستی شادی کرانے کیخلاف احتجاج کرنے کیلئے نیشنل پریس کلب کنری پہنچ گئے،محمد حسن چانڈیو اور گل حسن چانڈیو نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے مختلف الزامات عائد کرتے ہوئے گل حسن نے بتایا کہ ان کی سابقہ بیوی نصیباں جوکہ پانچ سال قبل میرے دو بچوں کو بہانے سے لیکر میکے چلی گئی تھی لیکن دوبارہ اپنے گھر لوٹ کر نہیں آئی،میری سات سالہ بیٹی بہرائی اپنے ماں کے ساتھ ڈاجیرو کے گاؤں شوکت رانگھڑ میں رہتی تھی اس نے بتایا کہ ایک ہفتہ قبل میری سابقہ بیوی نصیباں کے چچاؤں ودیگر رشتہ داروں نے سابقہ بیوی کے دیور گلزار چانڈیو کی شادی کے عوض میری معصوم بیٹی کی مبینہ شادی ہماری اجازت کے بغیر ملک محمد چانڈیو کے گاؤں میں مرزا خان چانڈیو کے خاندان میں کر دی ہے جس کا باقاعدہ نکاح بھی ہوا ہے نکاح گاؤں کے ایک مولوی نے پڑھایا ہے جس میں پپو چانڈیو،حنیف چانڈیو،پوڑھو چانڈیو،عمر چانڈیو ودیگر شامل تھے جبکہ بچی ابھی نابالغ ہے چھوٹی عمر میں بچی کا نکاح کرنا غیر قانونی اور جرم ہے،انہوں نے کہا کہ وہ اپنی داد فریاد لیکر قوم کے بااثر افراد اور معززین کے پاس گئے مگر کسی نے بھی ان کی داد رسی نہیں کی،انہوں نے آئی جی سندھ،ایس ایس پی عمرکوٹ اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی کہ اس معاملے کی منصفانہ انکوائری کرکے چھوٹی عمر میں بچی کی شادی کرانے کے جرم میں ملوث افراد کیخلاف فوری کاروائی کی جائے