*جھنگ سی ای او ہیلتھ کی سرپرستی میں محکمہ صحت میں بھرتیوں کا بھاری گھپلہ! 155 سے زائد ملازمین کی ریگولر لسٹ، سروس بکس کی چوری اور اہلکاروں کی ملی بھگت بے نقاب* !
*جھنگ سی ای او ہیلتھ کی سرپرستی میں محکمہ صحت میں بھرتیوں کا بھاری گھپلہ! 155 سے زائد ملازمین کی ریگولر لسٹ، سروس بکس کی چوری اور اہلکاروں کی ملی بھگت بے نقاب* !
*پنجاب انفارمیشن کمیشن کے ریکارڈ نے عوامی شفافیت اور قانونی حق کی اہمیت اجاگر کر دی*
*جھنگ(جاوید اعوان سے)چیف انفارمیشن کمیشن پنجاب کے ذریعے محمد طاہر، پبلک انفارمیشن آفیسر محکمہ صحت جھنگ، کی جانب سے فراہم کردہ تصدیقی ریکارڈ نے چونکا دینے والے انکشافات سامنے لے آئے ہیں۔ فنانس سمیت دیگر ممبران کی جانب سے 155 افراد کو سیلیکٹ کیا گیا، لیکن محکمہ صحت کی ریگولر کمیٹی نے اس تعداد سے تجاوز کرتے ہوئے اضافی ملازمین کو ریگولر لسٹ میں شامل کر دیا*
*ریکارڈ کے مطابق محکمے کے اہلکاروں کے تحریری بیانات میں بتایا گیا کہ میرٹ لسٹیں، ڈسپیچ رجسٹرز، کلرکوں کی سروس بکس اور پرسنل فائلز چوری ہو چکی ہیں۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ انہی سروس بکس پر اے سی آرز، پوسٹنگ اور دیگر اہم ریکارڈ موجود ہونے کے باوجود 155 سے زائد ملازمین کی ریگولر لسٹ موجودہ ضلعی آفیسر ڈاکٹر احمد شہزاد کے دستخطوں کے ساتھ سامنے آئی۔ اس سے یہ بھی واضح ہوا کہ محکمہ کے بعض اہلکار اور ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفس جھنگ کے اہلکار بھی اس غیر قانونی عمل میں شریک رہے ہیں*
*یہ ریکارڈ پنجاب انفارمیشن کمیشن کے ذریعے حاصل کیا گیا، جو ہر پاکستانی شہری کے لیے سرکاری معلومات تک رسائی اور شفافیت کو یقینی بنانے کا قانونی حق فراہم کرتا ہے۔ یہ انکشاف عوامی مفاد میں شفاف بھرتیوں اور میرٹ کے اصولوں کے تحفظ کے لیے نہایت اہم ھے*۔
*اس معاملے نے محکمہ صحت جھنگ میں بھرتیوں کے عمل میں سنگین بے ضابطگیوں، غیر قانونی مداخلت اور اہلکاروں کی ملی بھگت کو بے نقاب کیا ہے اور اس پر مزید قانونی اور انتظامی کارروائی ناگزیر قرار پائی ھے*۔
پورا ضلع جھنگ کرپشن کا گڑھ بنا ہوا ہے کوئی پوچھنے والا نہیں سیاستدان اپنے ذاتی مفادات تک محدود۔