October 31, 2026

اگست کادن مقبوضہ کشمیر کی تاریخ میں کشمیریوں کے استحصال کاایک اور سیاہ باب ہہے۔ یوں توتاریخ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ناجائز قبضے اور مظلوم کشمیریوں پر جبرسے بھری پڑی ہے لیکن 5اگست2019کو بھارت نے ناجائز اور غیر آئینی اقدام کرکے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی۔ اس بھارتی اقدام سے مظلوم

20240730_170303

5اگست کادن مقبوضہ کشمیر کی تاریخ میں کشمیریوں کے استحصال کاایک اور سیاہ باب ہہے۔ یوں توتاریخ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ناجائز قبضے اور مظلوم کشمیریوں پر جبرسے بھری پڑی ہے لیکن 5اگست2019کو بھارت نے ناجائز اور غیر آئینی اقدام کرکے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی۔ اس بھارتی اقدام سے مظلوم کشمیریوں کے وہ حقوق غصب کرنے کی جابرانہ اور ظالمانہ کوشش کی گئی جو اِن کو بھارتی آئین کے آرٹیکل370اور آرٹیکل35اے کے تحت حاصل تھے۔ آرٹیکل370کے تحت مقبوضہ ریاست کشمیر کو خصوصی حیثیت حاصل تھی جبکہ آرٹیکل35اے میں واضح کیا گیاتھا کہ مقبوضہ کشمیر کا مستقل شہری کون ہے اور کون وہاں جائیداد خرید سکتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں ان آرٹیکلز کا مطلب یہ تھا کہ مقبوضہ ریاست کشمیر ایک الگ اور خودمختار ریاست ہے۔ اور وہاں صرف مستقل کشمیری ہی جائیداد خرید سکتے ہیں یعنی کوئی بھی غیر مقامی باشندہ مقبوضہ کشمیر میں زمین ومکان نہیں خرید سکتا نہ ہی مالکانہ حقوق حاصل کرسکتا ہے۔ ان آرٹیکلز کے تحت کشمیریوں کی آبادی اور تعداد متاثر نہیں ہوسکتی تھی۔
5اگست2019کو بھارت نےجابرانہ اور ظالمانہ طریقہ اختیار کرکے سراسر غیر قانونی وغیر آئینی طریقہ اختیار کرکے ان آرٹیکلز کو منسوخ کردیا۔یہ اقدام مظلوم ومحصور کشمیریوں کے بنیادی حقوق کا واضح استحصال ہے۔ اس اقدام سے کشمیریوں کے استحصال کا ایک اور باب شروع کردیاگیا۔ غاصب بھارت کے اس اقدام سے نہ صرف کشمیریوں کوان کے بنیادی حقوق سے محروم کرنے کی بدترین کوشش کی گئی بلکہ کشمیریوں کے بنیادی انسانی حقوق کوبھی پامال کیاگیا۔ مقبوضہ کشمیر جو پہلے ہی بھارت کے غاصبانہ قبضے کا شکار ہے۔ جہاں انسانی حقوق کا تصور بھی محال ہے۔ بھارتی فوجی درندے جب چاہتے ہیں لوگوں کو ظلم وتشدد کا نشانہ بناتے ہیں۔ نوجوانوں، بوڑھوں اور بچوں کی زندگی اجیرن بنادی گئی ہے۔ یہ درندے چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے گھروں میں گھس جاتے ہیں اور خواتین کو زیادتی کا نشانہ بناتے ہیں۔ آر ایس ایس کے غنڈے کشمیریوں کی دکانیں اور کاروبار زبردستی بندکراتے ہیں۔ ان کی املاک کو نذر آتش کرتے ہیں۔ نمازیوں، بوڑھوں اور بچوں تک کو ظلم کانشانہ بناتے ہیں لیکن کوئی ان کوروکنے والا نہیں۔
پانچ اگست 2019کے یہ بھارتی اقدامات بھارت کے منہ پر سیاہ دھبہ اور اس کے سیکولر ریاست اور انسانی حقوق کے واویلے پر طمانچہ ہیں۔ پاکستان اور دنیا بھر میں کشمیری اس دن کو یوم استحصال کشمیر کے طور پر ہر سال مناتے ہیں۔ پاکستان اور پوری دنیا میں کشمیریوں کے حق میں اور بھارتی استحصال کے خلاف مظاہرے اور ریلیاں منعقد ہو تی ہیں ۔ کشمیری کسی بھی صورت بھارت کے ان ظالمانہ اور غیر آئینی اقدامات کو تسلیم نہیں کرتے اور بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ بھارت پر موثر دبائوڈال کر5اگست2019کےغیر آئینی،غیر قانونی اور غیر انسانی اقدامات کو واپس لینے پر مجبور کیا جائے۔
عالمی طاقتوں کو اب تو خواب غفلت سے جاگنا چاہئےیا پھر اقوام متحدہ کو ختم اور انسانی حقوق کا علم اتار دینا چائیے