پاکستانیوں۔۔ قاضی کے ساتھ ساتھ امین الدین اور نعیم اختر افغان۔۔ یہ دونوں نام بھی یاد رکھنے ہیں آپ نے۔۔
پاکستانیوں۔۔ قاضی کے ساتھ ساتھ امین الدین اور نعیم اختر افغان۔۔
یہ دونوں نام بھی یاد رکھنے ہیں آپ نے۔۔
یہ دونوں جج صاحبان کہہ رہے ہیں کہ۔۔
اگر کوئی فیصلہ آئین کے خلاف دیا گیا ہے۔۔ تو ریاست کے ادارے اسکو ماننے کے پابند نہیں۔۔
پہلی بات۔۔ کہ اگر سپریم کورٹ کے ہی آٹھ ججز بشمول اگلے چیف جسٹس پر ہی الزام عائد کردیا جائے۔۔ کہ انہوں نے آئین کے خلاف فیصلہ دیا ہے۔۔
تو یہ بہت بڑا الزام ہے۔۔
یعنی۔۔ یا تو آٹھ ججز نے آئین کےخلاف فیصلہ دے کر۔۔ آئین توڑنے کی ترغیب دی۔۔ یعنی غ د ا ری کی۔۔
یا پھر۔۔ یہ دونوں ججز باقی آٹھ ججز پر آئین کے خلاف فیصلہ دے کر، آئین توڑنے کی ترغیب دینے کا جھوٹا الزام عائد کر رہے ہیں۔۔
دوسری بات۔۔ اگر اس اختلافی نوٹ کو سیریس لیا جائے۔۔ تو یہی سمجھ آتی ہے کہ۔۔ سپریم کورٹ کے بیشتر ججز آئین کے مطابق ججمنٹ ہی نہیں دے رہے۔۔
پھر کون فیصلہ کرے گا آئندہ۔۔ کہ کوئی بھی فیصلہ آئینی ہے یا نہیں۔۔
یعنی کل کو سپریم کورٹ کے کسی فیصلے کو کوئی بھی ماننے سے انکار کر کے یہ کہہ سکتا ہے کہ۔۔
یہ فیصلہ آئین کے خلاف ہے۔۔ اس لیے میں اسکو نہیں مانوں گا۔۔
دوسرے الفاظ میں ترغیب دی جارہی ہے کہ۔۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کو جب چاہے توڑو۔۔ ملک کو مکمل جنگل بنا دو۔۔!!!