86

چیف الیکشن کمیشن اور ممبران کے خلاف ریفرنس کی چند ایک وجوہات

چیف الیکشن کمیشن اور ممبران کے خلاف ریفرنس کی چند ایک وجوہات
سکندر سلطان راجہ اور ممبران کی جانب سے آئینی و قانونی خلاف ورزیوں ، پنجاب و کے پی کے اسمبلی کے الیکشن میں آئینی خلاف ورزی ، سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی ، عمران خان کو میانوالی سیٹ سے غیر قانونی ڈی سیٹ کرنے، عمران خان کو چیئرمین شپ سے ہٹانے کے غیر قانونی نوٹیفیکشن جاری کرنے، فارن فنڈنگ کیس میں جانبداری اور تحریک انصاف کو نشانہ بنانے ، مخصوص نشستوں میں تحریک انصاف کا حق تلفی ، قبل از انتخابات دھاندلی کرنے ، انتخابی فہرستوںو سکیموں میں ردوبدل کرنے، غلط پولنگ اسٹیشن قائم کرنے ، ووٹر کو کنفیوز کرنے ، غیر قانونی کاغذات نامزدگی مسترد کرنے، انتظامیہ سے جانبدار اور سیاسی مخالف ریٹرننگ افیسران تعینات کرنے ، تحریک انصاف کو برابری کی بنیاد پہ الیکشن لڑنے سے محروم کرنے ، الیکشن کمپین سے محروم کرنے ، دھاندلی کے تمام طریق اختیار کرنے ، جعلی فارم سینتالیس جاری کرنے ، خواتین ممبران کی قید ، پی ٹی آئی کی لیڈر شپ و امیدوران کی الیکشن پراسیس سے جبری بے دخلی ، الیکشن ایکٹ کی خلاف ورزی ، اور انٹرا پارٹی الیکشن قبول کرنے میں تاخیری حربے استعمال کر کہ انتخابی نشان سے محروم کرنے اور جماعت امیدوران کو آزاد قرار دینے ، الیکشن کمیشن کا عمران خان اور تحریک انصاف کے خلاف عدالتوں میں آئینی فرائض کے بجائے مستغیث بننے ، تحریک انصاف کے خلاف جانبدارانہ کاروائیوں ، بانی چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف بطور پراسیکیوٹر کاروائی سرانجام دینے ، کو موضوع بنایا گیا ہے۔

سپریم جوڈیشل کونسل سے انکوائری کر کہ انھیں کی جانبداری اور نا اہلی کی بنیادی پہ انھیں عہدوں سے ہٹانے کی استدعا کی گئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں