116

‏*عمران خان کے 12 مقدمات میں جسمانی ریمانڈ کا فیصلہ کالعدم قرار، لاہور ہائیکورٹ میں سماعت، اہم نکات*

‏*عمران خان کے 12 مقدمات میں جسمانی ریمانڈ کا فیصلہ کالعدم قرار، لاہور ہائیکورٹ میں سماعت، اہم نکات*

*اگر درخواست گزار(عمران خان) نے احتجاج کی کال دی تو یہ جرم کیسے بنے گا؟ اگر درخواست گزار حملوں کو لیڈ کرتا تو پھر ضرور یہ جرم ہوتا، درخواست گزار کے خلاف کیا مٹیریل ہے پراسیکیوٹر جنرل خود پڑھیں گے، جسٹس انوار الحق*

*انتشار کو ثابت کرنا سب سے مشکل کام ہوتا ہے، جسٹس طارق سلیم شیخ*

*عمران خان کے ٹویٹس سے زیادہ دھمکیاں تو آج کل ججوں کو مل رہی ہیں، جسٹس انوارالحق پنوں*

*عمران خان کے خلاف سیکشن 121 کے تحت بغاوت کی کارروائی ہوگی، پراسیکیوٹر جنرل*

*یہ سیکشن لاہور ہائی کورٹ پہلے ہی کالعدم قرار دے چکی ہے، جسٹس طارق سلیم شیخ*

*سوال یہ ہے کہ آپ کو جسمانی ریمانڈ کیوں چاہیے، آپ نے پولی گرافک ٹیسٹ کرانا ہے تو ملزم تو ویسے ہی جوڈیشل کسٹڈی میں ہے، آپ خود کہہ رہے ہیں کہ مجسٹریٹ کے پاس تمام اختیارات ہیں کہ یہ ٹیسٹ کرائے، آپ اس سوال کا جواب نہیں دے پا رہے کہ گرفتاری اب کیوں ڈالی گئی، آپ نے جس موقع پر گرفتاری ڈالی وہ ٹائمنگ بہت اہم ہے، جسٹس طارق سلیم شیخ*

*پہلا فرض تفتیشی کا ہے کہ وہ دیکھے کہ جرم بنتا ہے یا نہیں، پھر جج کا فرض، وہ اسکرین پر لگا کر دیکھے کہ کیا واقعی جرم بنتا ہے یا نہیں، جسٹس انوارالحق پنوں*

*آخر میں سارا الزام پراسیکیوشن پر پڑتا ہے کہ پراسیکیوشن ناکام رہی، اس موقع پر پراسیکیوشن کو پورا موقع نہ دینا زیادتی ہوگی، جن موبائل سے ٹوئٹ، واٹس ایپ کیے گئے اس کی برآمدگی تفتیش کے بغیر ممکن نہیں، پراسیکیوٹر جنرل*

*اسی بات پر آجائیں آپ یہ موبائل کیسے ریکور کریں گے ملزم تو جیل میں ہے، تفتیشی ملزم کو کہیں لے کر نہیں جاسکتا تو کیسے یہ موبائل برآمد کرائے گا، جسٹس انوار الحق پنوں*

*جب درخواست گزار (عمران خان ) کو امید ہوئی کہ وہ جیل سے باہر آ جائے گا تب آپ نے ان مقدمات میں گرفتاری ڈال دی، قانون تو یہ ہے کہ جیسے ہی آپ کو ملزم کا پتا چلے آپ اسے گرفتار کریں، آپ نے پہلے کیوں گرفتار نہیں کیا؟ جسٹس انوارا الحق پنوں*

*پیمرا کی رپورٹس کیا ہے؟ اگر پیمرا لڑکی کو لڑکا کہہ دے تو اسے مانا تو نہیں جا سکتا، اگر ایک سیاسی بندہ تقریر کرتا ہے تو دیکھنا ہے کہ اس کی ذہنیت مجرمانہ ہے یا نہیں؟ آپ یہ بتائیں کہ جو درخواست گزار نے ٹویٹ کیا اس میں جرم کیا ہے اور کس سیکشن کے تحت کارروائی ہو گی؟ جسٹس طارق سلیم شیخ*

*پی ٹی آئی کی طرف سے بیانیہ بنایا گیا، پراسیکیوٹر جنرل*

*آپ یہ بتائیں کہ ووٹ کو عزت دو بیانیہ نہیں ہے؟ جسٹس انوارالحق پنوں*

*ووٹ کو آرمی چیف کی وجہ سے عزت نہیں مل رہی یہ کہنا تو بیانیہ نہیں ہے نا؟ پراسیکیوٹر جنرل پنجاب*

*جس سرکاری وکیل کا بیان پڑھا گیا اس کیس میں تو عمران خان کی ضمانت ہو چکی ہے، 9 مقدمات میں پولیس 425 دن سوئی رہی اور تین مقدمات میں پولیس 170 دن سوئی رہی، وکیل سلمان صفدر*

*جسمانی ریمانڈ کے لیے ضروری ہےکہ ملزم کو عدالت میں ہی پیش کیا جائے، ایسی کوئی مجبوری نہیں کہ عمران خان کو پیش نہ کیا جا سکے، سکیورٹی فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، سکیورٹی کا سہارا لے کر یہ جان بوجھ کر عمران خان کو جسمانی ریمانڈ کے لیے پیش نہیں کر رہے، سلمان صفدر*

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں