اور اس غیر مسلم خاتون نے مستعفی ہو کر کردار کی عظمت دکھا دی
پہلی تصویر میں امریکہ کی ٹاپ ایجنسی ایف بی آئی کی ڈائریکٹر چیٹل بیٹھی ہے
دوسری تصویر میں ریپبلکن پارٹی کی سینیٹر بائبرٹ بیٹھی ہے
یہ دونوں گزشتہ رات امریکی پارلیمنٹ میں آمنے سامنے تھیں، سینیٹر بائبرٹ نے ایف بی آئی ڈائریکٹر سے جو سوالات پوچھے میں آپ کو مختصراً بتاتی ہوں
سینیٹر بائبرٹ: ڈونالڈ ٹرمپ پر حملے کو کیا آپ نہیں روک سکے؟
ڈائریکٹر چیٹل: جی، ہم نہیں روک سکے
سینیٹر بائبرٹ: کیا یہ آپکی ناکامی ہے؟
ڈائریکٹر چیٹل: جی، ہم اپنی ناکامی تسلیم کرتے ہیں
سینیٹر بائبرٹ: کیا آپکے خفیہ اہلکار ڈونالڈ ٹرمپ کو سیکیورٹی نہیں دے سکے تھے؟
ڈائریکٹر چیٹل: جی ہاں، ہم سابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو سیکیورٹی دینے میں ناکام رہے
سینیٹر بائبرٹ: کیا آپ کا ادارہ اس سیکیورٹی بریچ پر ڈونالڈ ٹرمپ اور اُنکے چاہنے والوں سے معذرت کریگا؟
ڈائریکٹر چیٹل: جی بلکل، میں اپنے ادارے کی طرف سے ڈونالڈ ٹرمپ اور اُنکے چاہنے والوں سے معافی مانگتی ہوں
سینیٹر بائبرٹ: صرف معافی قابلِ قبول نہیں ہے، کیا آپ اس پر بطور ڈائریکٹر ایف بی آئی، استعفیٰ دیں گی
ڈائریکٹر چیٹل: جی ہاں، میں اس بارے میں سوچ رہی ہوں، میرا ادارہ میرا آخری فیصلہ کریگا
سینیٹر بائبرٹ: لیکن ہمیں آپکا استعفیٰ نہیں چاہئے، ہم چاہتے ہیں آپکا ادارہ آپکو اس سیکیورٹی بریچ پر عہدے سے خود برخاست کرے
ڈائریکٹر چیٹل: میں نے یہ سب ادارے پر چھوڑ دیا ہے، جیسے اُنکو بہتر لگے گا مجھے قبول ہوگا
ذرا غور کریں سوالات اور جوابات پر، جب حقیقی جمہوری نمائندے ایوانوں میں جاتے ہیں تو پھر ریاست کے ملازمین کی اُن کے سامنے یہی اوقات ہوتی ہے
ہم تصور بھی نہیں کرسکتے کہ ہمارے کسی بھی ادارے کا سربراہ ہمارے نمائندوں کے سامنے ایسے جواب دہ ہوگا، عمران خان پر وزیر آباد میں حملہ ہوا، آج تک اس حملے کی ایف آئی آر تک درج نہیں ہوئی، اور امریکہ میں ٹرمپ پر حملے کے بعد وہاں کی سب سے طاقتور ایجنسی معافی مانگ رہی ہے