ادارتی نوٹ / خصوصی تجزیہ پاکستانی عوام سے دوہرا معیار؟ یا پسِ پردہ کوئی اور ایجنڈا؟
ادارتی نوٹ / خصوصی تجزیہ
پاکستانی عوام سے دوہرا معیار؟ یا پسِ پردہ کوئی اور ایجنڈا؟
گزشتہ کئی ماہ سے حکومت پاکستان بھارت کے ساتھ ہر سطح پر تعلقات منقطع رکھنے اور سرحد بند کرنے کے اعلانات کرتی آ رہی ہے۔ تجارتی، سفارتی اور ثقافتی سطح پر روابط محدود یا معطل ہیں۔ پاکستانی عوام کو “جنگی فضا” اور “قومی غیرت” کے بیانیے سے مسلسل ذہنی طور پر تیار کیا جا رہا ہے کہ بھارت کے ساتھ کوئی نرمی ممکن نہیں۔
لیکن حالیہ دنوں میں سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق، افغانستان سے آئے 150 ٹرک بھارت میں داخل ہونے دئیے گئے—وہ بھی پاکستانی سرزمین سے گزر کر۔ یہ کیسے ممکن ہوا؟ کیا عوام کو لاعلم رکھا گیا؟ اگر بارڈر بند ہے تو یہ قافلہ کن احکامات کے تحت گزرا؟
یہ سوالات نہ صرف قومی وقار سے جڑے ہیں بلکہ حکومتی پالیسی میں تضاد کو بھی بے نقاب کرتے ہیں۔
کیا یہ “جنگ جنگ” کا بیانیہ محض عوامی جذبات کو قابو میں رکھنے کے لیے ہے؟
کیا کسی خفیہ تجارتی مفاہمت کے تحت دشمن ریاست کو رعایت دی جا رہی ہے؟
پاکستانی عوام اب مزید وضاحت کے منتظر نہیں، جواب چاہتے ہیں۔
اس دوہرے معیار کو یا تو ختم کیا جائے یا سچائی عوام کے سامنے لائی جائے۔