August 31, 2026
google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0

بیانیہ شجاع الدین شیخ اسرائیل نواز کمپنیوں سے معاہدے؟؟

IMG-20250129-WA0231(1)
google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0

بیانیہ
شجاع الدین شیخ
اسرائیل نواز کمپنیوں سے معاہدے؟؟
کھیلوں کے مقابلے جو کبھی صرف اِس لئے ہوتے تھے کہ بہترین کھلاڑی اور ٹیم کی صلاحیتوں کو تسلیم کرتے ہوئے اُس کو انعام و اکرام دیا جائے۔ایسے کھلاڑی حقیقت میں کھلاڑی ہونے کے علاوہ زندگی کے دیگر معاملات میں بھی عام لوگوں سے بہتر ہی ہوتے تھے۔گزشتہ چند دہائیوں میں جہاں اور بہت سے شعبوں میں مادہ پرستی آئی ہے،وہاں کھیلوں میں بھی یہ خرابی در آئی ہے۔اب کسی بھی کھلاڑی کی اصل پہچان صرف اور صرف اُس کاکھیل ہی ہے۔اُس کا کردار یا اخلاق کیسا ہے،ثانوی بلکہ غیر ضروری ہو کر رہ گیا ہے۔کھلاڑیوں کے ذاتی کردار اور اخلاق کے حوالے سے ماضی میں ایسی کئی خبریں سامنے آچکی ہیں جس سے شاید اُنہیں خود تو کوئی خاص فرق نہیں پڑا مگر ملک و قوم کو اُن کی وجہ سے بڑی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔اِس وقت صورتحال تو یہ ہے کہ اِس حمام میں سب ہی برہنہ ہیں۔میچ فکسنگ ہو یا کسی بیرونی عنصر کے ایما پر اپنی کارکردگی میں تبدیلی لانا ہو،اب جیسے معمول کی بات ہے ۔یہی وجہ کہ اب سنجیدہ طبقے نے کھیلوں کے ایسے مقابلوں میں دلچسپی لینا ہی چھوڑ دیا ہے جبکہ عوام کھلاڑیوں کی کارکردگی پر غم وغصہ کا اظہار کرکے اپنا کتھارسس کرتے رہتے ہیں اور ارباب اختیار بھی تسلی رکھتے ہیں کہ عوام نے کھتارسس کرلیا ہے تو اگلے سیزن میں اُس سے بھی آگے کی کوئی بات لے کر آجاتے ہیں جس کی خرابیاں بھی اُن پر میچوں کے دوران ہی کھلتی ہیں۔
اِس وقت کرکٹ کے نام پر ملک میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے اُس کو صحت مند سرگرمی خیال کرنا خود کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔ پی ایس ایل جیسی لغو سرگرمی کھیل کے نام پر جوئے، سٹے اور بےحیائی کا گڑھ بن چکی ہے اور یہ عوام کے وقت کے ضیاع کا بھی بہت بڑاذریعہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب اسرائیل اپنے پشت پناہوں کے ساتھ مل کر فلسطینی خصوصاً غزہ کے مسلمانوں پر 18 ماہ سے مسلسل شدید ترین ظلم ڈھا رہا ہے پی ایس ایل جیسی بیہودہ سرگرمیوں کا انعقاد قوم کی غیرتِ ایمانی اور دینی حمیت پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ماضی میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کئی کھلاڑیوں نے کرکٹ ٹیم میں رہتے ہوئے ناصرف خود کو بدلا بلکہ ٹیم کے دوسرے کئی کھلاڑیوں کو بھی اِس طرح سے بدلا کہ وہ منکرات سے بچ کر کھیلنے لگے۔ ایسی بھی مثال ہے کہ غیر مسلم کھلاڑیوں نے اسلام قبول کیا اور پھرپریکٹیکل مسلمان بن گئے۔افسوس کی بات یہ ہے کہ ایسے کھلاڑیوں کو وقت سے پہلے ہی ٹیم سے فارغ کردیا گیا اوراُن کی جگہ ایسے کھلاڑیوں کو لایا گیا جن میں منکرات سے بچ کر چلنے کا جذبہ کم از کم ہو۔ پاکستان کے 24کروڑ عوام میں سے 24 لاکھ بھی شاید ایسے نہیں ہیں کہ جنہیں یہ ادراک ہو کہ پی ایس ایل اور اِس نوع کے دیگر ٹورنامنٹ دراصل فروغِ کرکٹ کے لئے نہیں بلکہ فروغ بے حیائی اور فروغ ناجائز ذرائع آمدن کے لئے ہیں۔ بدقسمتی یہ ہے کہ مسلمانوں میں سے بھی بیشتر مسلمان تو یہ بھی سوچنا گوارا نہیں کرتے کہ کہیں اُن کی آمدن میں سود کی تو کوئی آمیزش نہیں ہے،مستزاد یہ کہ حکمران اور ارباب اختیارسودی نظام کو جاری رکھنے کے لئے ہر ممکن حربہ استعمال کرنے کو تیار رہتے ہیں۔
اِن حالات میں عوام الناس میں سے کون یہ جاننے کی کوشش کرے گا کہ اِس وقت جب کہ عوام اسرائیل نواز کمپنیوں کی مصنوعات کا مکمل طور پر بائیکاٹ کرچکی ہے اور اِن کمپنیوں کو اپنی بقا کی جنگ لڑنے کے لئے بہت جتن کرنے پڑ رہے ہیں تو پی ایس ایل کی تشہری مہم کے حقوق اُن کمپنیوں کو دے دیئے گیے ہیں جو اسرائیل کو فائدہ پہنچا رہی ہیں۔ ارباب اختیار کا یہ عمل انتہائی شرمناک ہے اور اِس کی جس قدر بھی مزمت کی جائے کم ہے۔
پی ایس ایل کا اثر و رسوخ بلا شبہ بین الاقوامی ہے مگر اِس کے تمام تر ارباب اختیار پاکستانی اور یقیناً مسلمان بھی ہیں۔سوال یہ اُٹھتا ہے کہ اسرائیل نواز کمپنیوں کو تشہیری مہم کے اختیارات دیتے ہوئے کیا اُنہیں یہ خیال نہیں آیا کہ اُن کے اِس عمل سے صہیونی ریاست اسرائیل کو کس قدر خوشی ہوئی ہو گی ۔ یقیناً یہ ارباب اختیار یہ نہیں جانتے کہ اُن کے اس عمل سے اسرائیل اور اور اسرائیل نواز کمپنیاں خود کو” فاتحِ پاکستان” خیال کررہے ہیں کیونکہ اسرائیل کو دنیا میں اگر کسی ملک سے کوئی خطرہ ہے تو وہ صرف اسلامی جمہوریہ پاکستان ہی ہے۔پی ایس ایل کے ارباب اختیار کو اپنی کاروباری مصروفیات کے باعث ممکن ہے یہ معلوم نہ ہو سکا ہو کہ غزہ کے مسلمانوں پر مسلسل شدید ترین اسرائیلی بمباری جس کے نتیجے میں بچوں، عورتوں اور بوڑھوں سمیت تقریباً 60 ہزار مسلمانوں کو شہید کیا جا چکا ہے اور یہ کہ دنیا بھر کےمسلمان جسدِ واحد کی مانند ہیں، جسم کے ایک حصے میں تکلیف ہو تو سارا جسم اِسے محسوس کرتا ہے۔ اسی بنیاد پر علماء کرام نے قومی فلسطین کانفرنس میں اہلِ غزہ کی مدد کے لیے اسرائیل کے خلاف جہاد کا فتویٰ دیا ہے اور اسرائیل کے تمام معاونین کے مکمل معاشی بائیکاٹ کا مطالبہ کیا ہے۔ تاہم پی ایس ایل کے ارباب اختیار نے یقیناً اپنے ارد گرد تو لوگوں کو مرتے ہوئے دیکھا ہی ہو گا۔اُنہیں یہ بھی علم ہو گا کہ ایک دن اُنہیں بھی چلے جانا ہے، اور جاتے ہوئے وہ دنیا میں کمائی ہوئی یہ دولت یہیں چھوڑ کر چلے جائیں گے ، ایسے میں کیا یہ اچھا نہیں ہو گا کہ وہ اب بھی اسرائیل نواز کمپنیوں کے ساتھ معاہدے ختم کردیں اور اپنی عاقبت کو سنوار لیں۔

google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0