دل کی بات خ ح شہزاد
دل کی بات
خ ح شہزاد
عید کی خوشیاں فلسطین کے مظلومو کے نام
رمضان المبارک اینی تمام تر رحمتوں برکتوں کے ساتھ ھم سے رخصت ھوگیا۔نیکیوں کا سیزن ختم ھوگیا۔اور پھر عید آگی۔ہر مسلمان امیر غریب اپنیباستطاعت کے مطابق نئے کپڑے۔جوتے لیتا ھے۔اور انواع واقسام کے کھانے تیار کیے جاتے ھیں۔یقنا اللہ تعالی نے مسلمانوں کو سال میں دومرتبہ اجتماعی خوشی کا موقع دیا ھے۔لیکن اس سال فلسطین۔شام۔یمن۔لبنان۔کشمیر میں مسلمانوں پر جو ظلم وستم ڈھائے جارھے ھیں۔اور جس طرح فلسطین میں مسلمانوں کی نسل کشی تاحال جاری ھے۔اور رمضان المبارک میں بہی بم باری جاری رھی ھے۔اور اب تک لاکھوں مسلمان بے گھر ھوچکے ھیں۔ہزاروں شہید ھوچکے ھیں۔ہزاروں بچے۔عورتیں ہیں۔جوان ھیں بوڑھے ھیں جو اسرائیل کے ظلم وستم کا شکار ھوچکے ھیں۔ہزاروں قید وبند کی صعوبتیں برداشت کررھے ھیں۔ہزاروں افراد ملبے کے نیچے دبے ھیں۔گزشتہ روز ملبے کے نیچے سے ایک بچے کا ڈھانچہ ماں اٹھائے رو رھی تھی اس تصویر نے عالم اسلام کے 57اسلامی ممالک کے 57کھسروں کے منہ پر طمانچہ مارا ھے لیکن ھے کہ کوئی بھی جاگ نہیں تھا جیسے احساس ھو۔کہ فلسطین کے مظلوم ہمیں پکار رھے ھیں اور قرآن کا حکم ھے کہ چاھے ہلکے ھوں چاھے بھاری ان مظلموں کی مدد کرو جو پکار رھے ھیں کہ یا اللہ کوئی مددگار بھیج۔میرے خیال میں فلسطنیوں نے امت مرحومہ کو بہت پکارا ھے لیکن کوئی زندہ ھوتا تو جواب دیتا۔ہر ایک اپنی عید منانے۔اپنی نمازیں۔اپنے روزے۔اپنے عمرے کرنے میں مگن ھے لیکن اسلام کے اھم ترین رکن جہادکو بھول چکا ھے۔جبکہ اسی میں ھماری بقاء تھی اسی میں ھماری روزی روٹی تھی۔اسی میں ھماری ترقی اور خوشحالی تھی اور اسی میں ھماری عزت تھی۔آؤ عید مناھیں ضرور مناھیں لیکن اس بچی کی صدا کا بھی کوئی جواب تلاش کرلیں جس نے کہا کہ اللہ کے پاس جاکر شکایت لگاؤں گی۔یقین کرو دو ارب سے زائد مسلمانوں آپکو اس بچی کی شکایت کا سامنا کرنا ھوگا۔اور جواب دینا ھوگا۔اس آؤ آج ملکر فلسطینی۔یمنی۔لبنانی مسلمانوں کے حق میں آواز بلند کریں۔اپنے حصے کا کام کریں۔حکومت اور فوج پر دباؤ بڑھاھیں کہ وہ اپنے مظلوم بھائیوں کی مدد کرے۔اور اسکے ساتھ یہودونصاری کی پروڈکٹ کا بائیکاٹ سختی سے کریں۔ابہی عید پرھم نے اربوں کی پیپسی اور کوک پی جانی ھے۔دیگر برینڈ کی تو بات ھی کرتے۔اس لیے جو جہاں ھے اپنا کردار ادا کرے۔یہ عید فلسطین کے مظلوم بچوں کے نام۔