August 31, 2026
google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0

*نفل پڑھنے والوں کے پیچھے فرض پڑھنا۔* یکم رمضان المبارک 1446ھ انجینیئر نذیر ملک سرگودھا

20250227_064144
google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0

*نفل پڑھنے والوں کے پیچھے فرض پڑھنا۔*

یکم رمضان المبارک 1446ھ
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا

*نماز ترویح کے پیچھے نماز عشاء پڑھی جا سکتی ہے۔*

*سوال:*
نفل پڑھنے والے کی اقتدا میں فرض پڑھنے والے کی نماز کے بارے میں کیا حکم ہے

*جواب:*
اس بارے میں حکم یہ ہے کہ یہ نماز صحیح ہو گی۔ حدیث سے ثابت ہے کہ بعض سفروں میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ والہ وسلم حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت کے ساتھ نماز خوف کی دو رکعت پڑھیں اور پھر آپ نے دوسری جماعت کو دو رکعات پڑھائیں تو آپکی یہ دوسری مرتبہ کی دو رکعات نفل نماز تھی۔

اسی طرح حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ وہ اپنی نماز عشاء کے فرض نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی اقتداء میں ادا کرتے تھے اور پھر اپنے محلہ میں جا کر اہل محلہ کو عشاء کی نماز پڑھاتے اور معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہ کی یہ نماز نفل اور اہل محلہ کی فرض نماز ہوتی تھی۔

شیخ ابن باز
مفتی اعظم سعودی عرب
حوالہ فتاوی اسلامیہ جلد اؤل صفحہ 339۔

*فائدہ:*
اگر آپ کی ماہ رمضان میں عشاء کی نماز رہ جائے تو آپ نماز تراویح پڑھنے والے امام کے پیچھے عشاء کی فرض نماز کی نیت کر لیں امام دو رکعت تراویح کے بعد سلام پھیر دے گا آپ کھڑے ہو کر اپنی باقی دو رکعت پوری کر لیں آپ کو نماز عشاء باجماعت کا ثواب مل جائے گا۔

خصوصی کاوش:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
Please visit us at www.nazirmalik.com Cell: 0092300860 4333

google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0