October 23, 2026

*بعد میں شامل ہونے والے نمازی “مسبوق” کے مسائل* ہفتہ 28 دسمبر 2024 انجنیئر نذیر ملک سرگودھا

20241227_054303

*بعد میں شامل ہونے والے نمازی “مسبوق” کے مسائل*

ہفتہ 28 دسمبر 2024
انجنیئر نذیر ملک سرگودھا

مسئلہ 148
*جماعت ہو رہی ہو تو بعد میں آنے والا نمازی امام کو جس حالت میں پائے تکبیر تحریمہ کہہ کر اسی حالت میں شریک ہو جائے۔*

مسئلہ نمبر 149
*جماعت کے ساتھ ایک رکعت پا لینے سے ساری نماز باجماعت کا ثواب مل جاتا ہے۔*

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔” جب تم نماز کے لیے آؤ تو ہم سجدہ میں ہوں تو تم بھی سجدہ میں شامل ہو جاؤ اور اس رکعت کو شمار نہ کرو ۔جس نے ایک رکعت جماعت کے ساتھ پالی اسے پوری جماعت کا ثواب مل گیا۔”( اسے ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔)

مسئلہ نمبر 150
*جماعت کھڑی ہو تو بعد میں آنے والے نمازی کو اس میں بھاگ کر شامل نہیں ہونا چاہیے۔ بلکہ برے اطمینان اور وقار سے شریک ہونا چاہیے۔*

مسئلہ نمبر 151
*بعد میں شامل ہونے والے نمازی کو امام کے ساتھ پڑھی جانے والی نماز کو نماز کا پہلا اور سلام کے بعد اکیلی پڑھے جانے والے نماز کو نماز کا پچھلا حصہ شمار کرنا چاہیے*

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے۔” جب نماز کھڑی ہو جائے تو بھاگتے ہوئے نہ آؤ بلکہ آرام رفتار سے چل کر آؤ ۔تم پر اطمینان سے آنا واجب ہے۔ نماز کا جو حصہ امام کے ساتھ پاؤ وہ ادا کرو اور جو رہ جائے اسے بعد میں مکمل کرو۔(اسے بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے۔)

مسئلہ نمبر 152
*فرض نماز کھڑی ہو جائے تو بعد میں آنے والے نمازی کو علیحدہ نفل یا سنت یا فرض نماز شروع نہیں کرنی چاہیے خواہ پہلی رکعت ملنے کا یقین ہی کیوں نہ ہو*

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔”جب فرض نماز کی اقامت ہو جائے تو سوائے فرض نماز کے کوئی دوسری نماز نہیں ہوتی ۔”(اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔)

مسئلہ نمبر 153
*مقتدی نے امام کے ساتھ جو نماز پائی وہی اس کی نماز کا ابتدائی حصہ ہے۔*

*مسبوق کے لئے شیخ بن باز کا فتوی*

*سوال*
ایک شخص نماز مغرب ادا کرنے کے لیے مسجد میں داخل ہوا اور اس نے امام کے ساتھ دو رکعت پا لی جبکہ آخری رکعت اس نے الگ پڑھی تو کیا اس رکعت میں وہ قرآت جہری کرے گا سورہ فاتحہ پڑھے گا یہ سمجھتے ہوئے کہ آخری رکعت کو تو اس نے امام کے ساتھ ادا کر لی ہے اور یہ اس کی پہلی رکعت ہے۔ کیا اس نے امام کے ساتھ جو رکعت شروع کی وہ امام کی نماز کے مطابق اس کی بھی دوسری رکعت سمجھی جائے گی؟

*الجواب*
*امام کےسلام پھیرنے کے بعد اس نے جس رکعت کو پڑھا ہے وہ اس کی آخری رکعت ہوگی لہذا اس میں جہری قرات صحیح نہ ہوگی۔ کیونکہ علماء کے صحیح قول کے مطابق مسبوق جہاں آ کر شامل ہوتا ہے وہی اس کی نماز کا ابتدا حصہ ہوتا ہے اور جسے وہ بعد میں پورا کرتا ہے وہ اس کی نماز کا آخری حصہ ہوتا ہے کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے جب تم نماز کے لیے آؤ تو اطمینان اور سکون سے چلتے ہوئے آؤ اور جو حصہ پا لو اسے پڑھ لو اور جو فوت ہو جائے اسے مکمل کر دو۔

فتوی شیخ ابن باز بحوالہ فتاوی اسلامیہ کتاب الصلاۃ صفحہ 355 ، صحیح بخاری و صحیح مسلم

*الدعاء*

یا اللہ تعالی سب مسلمانوں کو نمازی بنا دے.

Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 00923008604333