محترمہ بینظیر بھٹو شہید کی سترویں برسی پر ان کی سیاسی جدوجہد پر زبردست خراج عقیدت پیش کرتے،ڈاکٹر ایم لال واگھانی
محترمہ بینظیر بھٹو شہید کی سترویں برسی پر ان کی سیاسی جدوجہد پر زبردست خراج عقیدت پیش کرتے،ڈاکٹر ایم لال واگھانی
۔
سوشل سماجی اور مرکزی نائب صدر پاکستان فیڈریشن آف میڈیا کاؤنسل آل پاکستان و صدر نیشنل پریس کلب سامارو رجسٹرڈ کے ڈاکٹر ایم لال واگھانی نے محترمہ بینظیر بھٹو شہید کی سترویں برسی پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ محترمہ بینظیر بھٹو شہید نے اپنی زندگی میں منفرد کردار ادا کیا ہے والد کو ایک جھوٹے مقدمے میں گرفتار کیا جانا اور عدالتی قتل کیا جانا تاریخ کا بد ترین فیصلہ تھا اس کے بعد ایک ڈکٹیٹر نے اپنے اقتدار کو طول دینے کی خاطر محترمہ بینظیت بھٹو کے خلاف نہ صرف انتقامی کاروائیاں کی گئیں بلکہ جیلوں میں بھی ذہنی ٹارچر کیا گیا ان تمام تر حالات کے باجود محترمہ بینظیر بھٹو نے اپنی سیاسی جدوجہد کو جاری رکھا نہ صرف اپنے والد کے سیاسی ورثے کو محفوظ کیا بلکہ سیاسی فلسفے کو پرموٹ کرتے ہوئے بین القوامی سطح پر خود کو ایک عالمی لیڈر کے طور پر منوانے میں کامیاب ہوئیں ۔
سیاسی سطح پر بہت زیادہ کھچاؤہونے کی وجہ سے سول بالادستی کو ناقبل تلافی نقصان کو جب میاں محمد نواز شریف اور محترمہ بینظیر بھٹو نے بھانپ لیا تو چارٹرآف ڈیمانڈ کرکے اُن قوتوں کو پیغام دیا کہ ملک کے مفاد میں صرف عوام کے ووٹوں سے کامیاب ہونے والی قوتیں ہیں ملک کے دستور کی روشنی میں آگے بڑھا سکتیں ہیں لیکن جمہوریت کے خلاف سرگرمیاں کرنے والی قوتوں نے ایک منصوبے کے ساتھ 27 دسمبر2007 ء ایک عظیم الشان راولپنڈی کے جلسے کے خطاب کے بعد محترمہ بینظیر بھٹو کو نہتی کرکے دہشت کردوں سے شکارکروا دیا اس سیاسی سفر میں بہر حال شہید بینظیر بھٹو کی ہوئی وہ شہادت کا رتبہ حاصل کرنے کے بعد دُنیا بھر کو پیغام دے گئی کہ سیاسی نظریہ کبھی ختم نہیں ہوتا چونکہ 18 آکتوبرکو جس طرح کراچی میں عوام کے لاکھوں کے سیلاب نے ان کا والہانہ استقبال کیا تھا وہ تاریخ میں سنہری حروف میں لکھا جائے گا اُس سیاسی سمندر کے خوف سے بھی کارساز پر بم دھماکہ کروا گیا لیکن شہید بینظیر اس قدر دلیر سیاسی رہنما تھی کے اگلے دن سینکڑوں کارکنوں کی شہادت کے باوجود ہسپتالوں میں خود جاکر خیرت معلوم کر رہی تھی آج محترمہ شہید بینظیر بھٹو کی سترویں برسی ہے ہم ان کو ان کی سیاسی جدوجہد پ زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور دعا گو ہیں اللہ تعالیٰ مرحومہ کے درجات بلند کرے۔
بلاول بھٹو زرداری کو ابھی تک ان کے نانا اور والدہ کے سیاسی ورثے کی بنیاد پر ملک بھر سے تمام طبقوں سے تعلق رکھنے والے افراد سپورٹ کر رہے ہیں لیکن بلاول بھٹو زرداری کو موجودہ پالیسی پر نظر ثانی کرنی ہوگی او اپنی والدہ کی سیاسی جدوجہد اور فلسفے کو آگے بڑھانے کیلئے عوامی سیاست کا آغاز کرنا ہوگا جس میں مزدوروں، کسانوں اور دیگر طبقوں سے تعلق رکھنے والوں سے مشاورت کا عمل شروع کرکے ملک میں آئین کی بالادستی کو قائم کرنے کیلئے سول بالادستی کو قائم کرنا ہوگا جس میں مزدوروں، کسانوں، طلبہ اور متوسط طبقے کے آئینی حقوق کی فراہمی کو یقینی بنایا جاسکے۔