*امامت کے مسائل* بدھ 25 دسمبر 2024 انجنیئر نذیر ملک سرگودھا
*امامت کے مسائل*
بدھ 25 دسمبر 2024
انجنیئر نذیر ملک سرگودھا
مسئلہ نمبر 114
*سب سے زیادہ قرآن جاننے والا پھر سب سے زیادہ سنت کا علم رکھنے والا پھر ہجرت میں پہل کرنے والا اور پھر سب سے زیادہ عمر والے امامت کا زیادہ حقدار ہے۔*
مسئلہ نمبر 115
*مقررہ امام کی اجازت کے بغیر کسی مہمان کو امامت نہیں کرانی چاہیے*
حضرت ابو مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا” لوگوں کی امامت وہ شخص کرائے جو کتاب اللہ کا سب سے بہتر پڑھنے والا ہو ۔اگر قرات میں لوگ برابر ہوں تو سنت کا زیادہ جاننے والا امامت کرائے اگر اس میں بھی برابر ہوں تو پھر جس نے پہلے ہجرت کی ہو اگر لوگ اس میں بھی برابر ہوں تو پھر عمر میں سب سے بڑا امامت کرائے۔
مسئلہ نمبر 116
*امامت کے لیے مقررہ آدمی کی جگہ کوئی دوسرا ادمی بلا اجازت امامت نہ کرائے*
رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا نہ ہی کوئی آدمی کسی کے گھر میں بلا اجازت اس کی مسند پر بیٹھے۔( اسے احمد اور مسلم نے روایت کیا ہے۔)
مسئلہ نمبر 117
*نابینا آدمی بلا کراہت امامت کرا سکتا ہے*
حضرت انس رضی اللہ تعالی سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ تعالی عنہ کو مدینہ میں اپنا نائب مقرر فرمایا وہ لوگوں کو نماز پڑھایا کرتے تھے حالانکہ وہ نابینا تھے۔( اسے احمد اور ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔)
مسئلہ نمبر 118
*امام کی پوری پوری اقتدا کرنا واجب ہے*
حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔”امام اسی لیے مقرر کیا گیا ہے کہ اس کی مکمل پیروی کی جائے۔ لہذا جب وہ رکوع میں ناجاے۔تم بھی رکوع میں نہ جاؤ اور جب تک وہ نہ اٹھے تم بھی نہ اٹھو ۔(اسے بخاری نے روایت کیا ہے ۔)
مسئلہ نمبر 119
*مسافر مقیم کی امامت کرا سکتا ہے۔*
عمران بن حصین رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ سفر میں گھر واپس آنے تک نماز قصر ادا فرمائی ۔فتح مکہ کے موقع پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم 18 دن مکہ میں رہے اور مغرب کے سوا لوگوں کو دو رکعتیں پڑھاتے رہے خود سلام پھیرنے کے بعد لوگوں سے فرما دیتے “اے مکہ والو! اٹھ کر با قی نماز پوری کر لو ہم مسافر ہیں۔( اسے احمد نے روایت کیا ہے ۔)
مسئلہ نمبر 120
*اگر سات یا آٹھ سال کا بچہ باقی لوگوں کی نسبت زیادہ قرآن جانتا ہو تو امامت کا زیادہ حقدار ہے*
حضرت عمر بن سلمہ جرمی رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ ہماری بستی سے سوار گزرا کرتے تھے اور ہم ان سے قرآن سیکھا کرتے تھے ایک دفعہ میرا باپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا” تم میں سے جسے قرآن زیادہ آتا ہو اسے امامت کروانی چاہئے۔چنانچہ میرا باپ واپس آیا تو کہنے لگا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا” امامت وہ کرائے جسے قرآن زیادہ یاد ہو چنانچہ سب لوگوں نے دیکھا مجھے سب سے زیادہ قرآن یاد تھا ۔اس لیے میں ان کی امامت کرواتا تھا ۔اس وقت میں اٹھ سال کا تھااسے رسائی نے روایت کیا ہے)۔
مسئلہ نمبر 121
*عورت عورتوں کی امامت کرا سکتی ہے۔*
مسئلہ نمبر 122
*عورت کو امامت کراتے وقت پہلی صف کے اندر وسط میں کھڑا ہونا چاہیے*
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی سے روایت ہے کہ وہ فرض نمازوں میں عورتوں کی امامت کراتی تھیں اور صف کے اندر ہی کھڑی ہوتی تھیں۔(اسے دار قطنی نے روایت کیا ہے۔)
مسئلہ نمبر 123
*امام کو ہلکی نماز پڑھانی چاہیے*
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی امام لوگوں کو نماز پڑھائے تو ہلکی نماز پڑھائے کیونکہ نمازیوں میں کمزور بیمار اور بوڑھے سبھی ہوتے ہیں البتہ جب تم میں سے کوئی تنہا پڑھےتو جتنی چاہے لمبی پڑھے۔( اسے احمد بخاری مسلم ،ابو داؤد ،نسائی ،ترمزی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے)
*الدعاء*
یا اللہ تعالی ہمیں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ والہ وسلم کی طرح اہتمام کے ساتھ نماز پڑھنے والا بنا۔
آمین یا رب العالمین
Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333