August 30, 2026
google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0

*غازی علم الدین شہید رحمۃ اللّٰہ علیہ*علم الدین*

IMG-20241031-WA0282
google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0

*غازی علم الدین شہید رحمۃ اللّٰہ علیہ*
*******************
*علم الدین*
نے جب شاتمِ رسول راجپال کو اُس کی گستاخی پر قتل کیا تو انگریز سرکار نے گرفتار کر کے مقدمات چلائے۔ محمد علی جناح اور علامہ اقبال دونوں کا براہِ راست تعلق اس مقدمے سے تھا۔ لیکن انگریز سرکار علم دین کی پھانسی پر ڈٹی رہی اور بالآخر 31 اکتوبر 1929ء کو علم دین کو پھانسی کے تختے پر لٹکا دیا گیا۔ اس کی میت کو میانوالی سے لاہور لانے کے لیے علامہ اقبال کی رہائش گاہ پر یکم نومبر 1929ء کو اجلاس ہوا۔ 2 نومبر کو پنجاب پراونشل مسلم لیگ کی کونسل کے اجلاس میں علامہ اقبال کی تحریک سے ایک قرارداد منظور کی گئی۔ علم دین کا جنازہ لاہور کی تاریخ کے بڑے جنازوں میں شمار ہوتا ہے۔ علم دین کے والد نے اقبال کو کہا کہ آپ اس کا نمازِ جنازہ پڑھائیں‘ اقبال کے انکار پر دیدار علی شاہ نے نمازِ جنازہ پڑھایا۔ اسی طرح کا ایک واقعہ ستمبر 1934ء میں کراچی میں بھی پیش آیا جس میں غازی عبدالقیوم شہید نے شاتمِ رسول نتھورام کو موت کے گھاٹ اُتارا اور شہادت پائی۔

*ان دونوں واقعات سے متاثر ہو کر اقبال نے نظم بعنوان ’لاہور و کراچی‘ لکھی جو ضرب کلیم میں شامل ہے*۔

*******************

google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0