October 28, 2026

میلسی (بیو رو چیف ) میری بیوہ بیٹی ثمینہ بی بی کو مارنے پیٹنے اور تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد گھر سے نکال دیا اور اس کا سامان جہیز ،جانور اور کیش چھین لیے۔ شمیم بی بی

20241022_191722

میلسی (بیو رو چیف ) میری بیوہ بیٹی ثمینہ بی بی کو مارنے پیٹنے اور تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد گھر سے نکال دیا اور اس کا سامان جہیز ،جانور اور کیش چھین لیے۔ شمیم بی بی
تفصیل کے مطابق ماڑی مترو کی رہائشی بیوہ خاتون شمیم بی بی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے میڈیا کو بتایا کہ اس کی بیٹی ثمینہ بی بی کی شادی صدیق آباد کے رہائشی حاجی جعفر حسین سے ہوئی تھی۔ شادی کے وقت حاجی جعفر حسین نے اپنی سابقہ بیوی جو کہ گزشتہ 20 سال سے سعودی عرب میں مقیم تھی کو طلاق دے دی۔میرے داماد کے وصال کے بعد اس کی سابقہ بیوی سعودی عرب سے واپس آئی اور اس نے اپنے جوان بچوں کے ساتھ مل کر میری بیٹی جو کہ جعفر حسین کی شرعی طور پر وراثت کی حقدار تھی کو وراثت سے محروم کر دیا۔جبکہ خود طلاق یافتہ ہونے کے باوجود جائیداد اپنے اور اپنے بچوں کے نام کرا لی۔اور زبردستی جعفر حسین کے گھریلو سامان اور گھر میں موجود کیش پر قبضہ کر لیا۔میری بیٹی کے ذاتی جانور بھی انہوں نے فروخت کر دیے۔میں بیوہ ہوں اور اب میری یتیم بچی بھی بیوہ ہو چکی ہے ۔ان ظالموں نے اس کو وراثت کے حق سے محروم کر دیا ہمیں ہمارا حق دیا جائے۔میری بچی کو محروم کرنے بعد یہ ظالم لوگ ہمیں دھمکیاں دے رہے ہیں اور طلاق کے گواہوں کو منحرف کرنے کے لیے دھمکا رہے ہیں حالانکہ میری بیٹی ثمینہ بی بی کے نکاح کا ریکارڈ نادرا کے مطابق موجود ہے اور جعفر حسین کی زوجیت میں میری بیٹی کا شناختی کارڈ بھی بنا ہوا ہے۔ اس سوال کے جواب میں کہ جب مار پیٹ کی گئی تو کیا آپ نے پولیس سے رابطہ کیا،شمیم بی بی نے بتایا کہ گزشتہ ماہ 20 ستمبر سے ہم نے ان کی مار پیٹ جانور بیچنے کے خلاف ایک درخواست تھانہ مترو میں جمع کرائی ہے لیکن پولیس کسی قسم کے تعاون کرنے سے انکاری ہے۔ ہماری محترمہ مریم نواز شریف ، آئی جی پنجاب اور ڈی پی او وہاڑی سے اپیل ہے کہ ہمارے ساتھ ہونے والی اس زیادتی پر کاروائی کرتے ہوئے ہمارا حق دلوایا جائے۔