October 28, 2026

حقیقت جنرل ایوب ایک قابل جنرل تھا اور آئین معطل کرکے ایک نیا دستور لے آیا لیکن تاریخ کے ورکوں میں ذلیل ہو کر گیا، ملک کیلئے بڑے اچھے کام بھی کیے

20241018_191017

حقیقت

جنرل ایوب ایک قابل جنرل تھا اور آئین معطل کرکے ایک نیا دستور لے آیا لیکن تاریخ کے ورکوں میں ذلیل ہو کر گیا، ملک کیلئے بڑے اچھے کام بھی کیے

جنرل یحییٰ خان قابل اور پروفیشنل جنرل تھا، آئین بوٹوں سے روند ڈالا ، تاریخ کے ورکوں میں ذلیل ہو کر ایسا گیا کہ آج بھی ذلت کا نشان ہے

جنرل ضیا ایک ایماندار اور مذہبی شخص تھا, آئین معطل کیا اور امریکی جنگ لڑی اور امریکیوں کے ہاتھوں مارا گیا، صرف دانت ملے، جس پر بنی قبر پر اسکے اپنے بھی چھپ چھپا کر جاتے ہیں، لیکن ملک کیلئے خدمات بھی ہیں

جنرل مشرف ذہین اور قابل تھا لیکن آئین توڑ کے امریکی جنگ لڑی، آخری دنوں میں بے بسی اور عبرت کی تصویر بنا اور دیار غیر میں مرا، تدفین بھی عبرت ناک تھی، لیکن ملک کیلئے خدمات بھی ہیں

یہ تمام جرنلز لائق، ذہین اور قابل تھے اور آئین کو توڑنے کے باوجود ملک کی خدمت بھی کرکے گئے اور انکے ساتھ زبردست قابل ٹیمیں تھیں

اب تو نا لیاقت ہے، نا قابلیت، نا عزت نفس، نا ضمیر اور نا پروفیشنلزم، نا کوئ قابل ٹیم، نالائق ترین ٹاؤٹس کی فوج ، مرا ہوا نالائق میڈیا اور آئین بھی معطل نہیں ہوا، صرف آئین میں بندوق کے زور سے ترمیم کی ہے تو سوچو انکا انجام کیا ہوگا

اور یہ مت بھولیں اگلے پچاس سال تک عمران خان کا ووٹ بینک اسی فیصد سے کم نہیں ہوگا، عمران خان دلوں میں ایسا سمایا ہے کہ 8 سال کے بچے سے ستر سال کے بوڑھے دن میں ایک دفعہ ضرور اپنی محبت کا اظہار کسی نا کسی طریقے سے کرتے ہیں

شریف اور بھٹو خاندان اپنے دلالوں سمیت ایسا دفن ہوگا کہ انکا نام میر جعفر اور میر صادق سے پہلے آۓ گا

اور پھر اس ملک میں 27 ویں ترمیم آۓ گی جسکے بعد کسی آرمی چیف کی جرات نہیں ہو گی کہ سیاست میں مداخلت کرے

یہ ہے حقیقت آجکی، ٹوئیٹ بھی سنبھال لیں، تاریخ بھی نوٹ کر لیں