October 28, 2026

جب پی ڈی ایم اتحاد بنا تو اس کی سربراہی مولانا فضل الرحمٰن کے پاس تھی۔ اسی پی ڈی ایم نے مولانا کی سربراہی میں عمران خان کی حکومت کے خلاف عدم اعتماد ٹیبل کی جو کامیاب ٹہری

20241018_191017

جب پی ڈی ایم اتحاد بنا تو اس کی سربراہی مولانا فضل الرحمٰن کے پاس تھی۔ اسی پی ڈی ایم نے مولانا کی سربراہی میں عمران خان کی حکومت کے خلاف عدم اعتماد ٹیبل کی جو کامیاب ٹہری
مجھے یاد ہے ان دنوں خوب جشن منایا گیا کہ جمہوریت کی فتح ہوئی۔ ہم نے خزاں سے جان چھڑائی۔ مولانا کہا کرتے تھے کہ عمران خان تمھیں ہم نے گھر بھیجا ہے
پھر حکومت شروع کی تو معاملات بگڑنا شروع ہوئے۔ پی ڈی ایم حکومت عوام کی نفرت کا نشانہ بننے لگی۔ ان دنوں وہ مولانا جو پی ڈی ایم تحریک کے دنوں میں ملکی سیاست پر چھائے ہوئے تھے، وہ خاموشی سے پردے کے پیچھے چلے گئے۔ کبھی اطلاع ملتی کہ تھائی لینڈ ہیں، تو کبھی ترکی۔ مولانا ایک لمبے عرصے مین اسٹریم سیاست اور میڈیا سے کنارے رہے
ملک کے حالات بد سے بدتر ہوتے چلے گئے
پھر ایک دن اچانک مولانا ایک اہم ٹاک شو میں بطور مہمان نمودار ہوتے ہیں اور پوری قوم کو بتاتے ہیں کہ عدم اعتماد لانے والے وہ اور باقی سیاستدان نہیں بلکہ جنرل باجوہ اور فیض حمید تھے۔ ہمیں بھی مجبوراً ان کا ساتھ دینا پڑا
پھر وقتاً فوقتاً یہی بیانات ڈھکے چھپے انداز سے ن لیگ کے کئی سینئیر لیڈرز بھی دینے لگے کہ ہمیں گھیر گھار کر حکومت میں لایا گیا تھا
آپ غور کررہے ہیں؟
یعنی، وہ عدم اعتماد جسے آئین اور جمہوریت کی فتح قرار دیا گیا تھا، کچھ ہی عرصے میں اس قدر بدبودار ہوتی گئی کہ بالآخر اس کا زور و شور سے کریڈٹ لینے والے اسے کھلم کھلا اسٹیبلشمنٹ پر ڈالنے لگے
وہ جو کل جمہوریت کی فتح تھی، وہ بعد ازاں ایک تعفن زدہ لاش بن کر رہ گئی جسے مولانا سمیت کوئی سیاستدان قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھا
یہ حالیہ تاریخ کا وہ سبق ہے جسے پوری قوم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور کانوں سے سنا۔ ہم سب ان تمام معاملات کے عینی شاہد ہیں
آج پھر ایک آئینی ترمیم کا شور ہے اور مولانا پھر سے “فاتح عالم” ہیں۔ اہم ترین مذہبی رہنماؤں کی طرف سے اسے اسلام کی ایک بڑی فتح بتایا جارہا ہے۔
اور میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ اسلام ہم پاکستانیوں کے ہاتھوں ایسا کون سا معرکہ جیتنے کی پوزیشن میں آگیا ہے جس پر اس قدر جشن برپا ہے؟
کیا بیت المقدس آزاد کروایا جارہا ہے یا کشمیر؟
کیا پاکستان میں حقیقی معنوں میں اللہ کی حاکمیت اعلیٰ قائم ہونے جارہی ہے جہاں طاقتور اور کمزور، دونوں کو برابر کے حقوق حاصل ہوں گے؟
اطلاعات ہیں کہ مدارس کی رجسٹریشن کا معرکہ سر کرلیا گیا ہے
سود کے حوالے سے یقیناً ایک بڑی خبر ہے لیکن اہم ترین سوال یہ ہے کہ واقعی اس پر کچھ ہونے جارہا ہے؟
سود کے حوالے سے کوششیں کوئی آج سے نہیں، “عشروں” سے چل رہی ہے اور ہنوذ ناکام ہیں۔ اب چار سال بعد کی ایک تاریخ دے دی گئی ہے۔ سود کے حوالے سے تمام ہوم ورک مکمل ہے، شرعی عدالتیں نوے کی دہائی میں بن کر فیصلہ بھی دے چکیں جسے عشروں سے سرد خانے ڈالا ہوا ہے
کیونکہ نیت صفر برابر بھی نہیں۔ اگر اس حوالے سے ترمیم منظور ہوچکی تو عمل درآمد چار سال بعد کیوں؟ ابھی نیت کیوں نہیں؟ باقی ماندہ معاملات تو اگلے دن سے نافذ العمل کیے جارہے ہیں تو سود چار سال بعد کیوں؟
پی ڈی ایم حکومت بننے کے آس پاس ہی سود کے خلاف ایک کانفرنس ہوئی تھی جس میں مولانا فضل الرحمٰن اور مفتی تقی عثمانی صاحب نے چئیر کیا تھا۔ غالباً دو ڈھائی سال پہلے کی بات ہے۔ اس کا کیا نتیجہ نکلا؟ کچھ پتا نہیں۔۔۔۔۔۔
اس سارے مبارکباد کے احمقانہ شور میں، کسی کو سامنے دھری یہ حقیقت تک نظر نہ آئی کہ ان “پاک اور اسلامی” آئینی ترامیم کی خاطر، تحریک انصاف کے ساتھ ساتھ جمیعت کے بھی نمائندگان کچھ عرصے “لاپتہ” رہے۔ اسمبلی میں موجود باریش حضرات کھل کر نام لیتے رہے اور میڈیا کو کہتے رہے کہ آپ میں ہمت ہو تو نام چلائیے
یہ سب کچھ پوری قوم نے دیکھا۔ فیصل واڈا کے لائیو بیانات بھی سنے پھر بھی خوشخبریاں اور مبارکبادیں ہیں کہ ایسی ترامیم میں سے اسلام کی فتح برآمد ہوگی۔
عدم اعتماد کا حال دیکھ چکے ہیں۔ اسے لانے والے اس سے جان چھڑا کر بھاگ چکے ہیں۔ جو ماضی میں سینہ ٹھوک کر کریڈٹ لیا کرتے تھے، وہ بعد ازاں بیزاری اور کراہت کے ساتھ ملبہ کسی اور پر ڈالتے ہیں۔
اب ان نئی ترامیم پر پھر سے وہی شور، جھپیاں اور مبارکبادیں ہیں۔ یعنی قسم کھائی ہوئی ہے کہ تاریخ سے کچھ نہیں سیکھنا۔ ان ترامیم کا صرف اور صرف ایک ہی پرائمری مقصد تھا وہ یہ کہ فارم 47 پارلیمان کو تحفظ دینا ہے۔ باقی نمائشی مصالحے صرف اس کی اصل بو کو دبانے کے لیے ڈالے گئے ہیں
پھر یہی لوگ حیران ہوکر پوچھتے ہیں کہ لوگ، خاص کر نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد مذہب، خاص کر علماء کرام سے اس قدر بیزار کیوں ہے؟
قوم جھپیاں ڈالتے، شاندار فتح کی نوید سناتے ان بڑی شخصیات کو دیکھتی ہے تو سوچتی ہے کہ اس میں عام انسان کا کیا فائدہ ہے؟ اس کی کون سی فلاح ہے؟ کون سا انصاف ملنا ہے؟ کون سے حقوق پورے ہوجانے ہیں؟ کس فل/سطین یا کشمیر نے آزاد ہوجانا ہے جو اس قدر شادیانے بجائے جارہے ہیں؟
کل کو پھر عدم اعتماد والی کہانی کا پلے بیک چلا تو کون ذمہ داری اٹھائے گا؟ یا ماضی قریب کی طرح کس ریٹائر افسر پر ملبہ ڈالے گا؟
یعنی ہم نے پہلے گند کرنا ہے، اس پر بغلیں بجا کر عظیم الشان کامیابی قرار دینا ہے اور پھر بعد میں ملبہ کسی اور پر ڈال دینا ہے
جو “عقل” ہمیں ہمیشہ کچھ ماہ یا سال بعد جاکر آتی ہے، وہ آج کیوں نہیں آجاتی؟
.