ایک بات اور میں جب ایم اے انگریزی کر رہا تھا تو بخاری صاحب ایک جملہ بہت خوب صورت کہا کرتے تھے کہ پاکستان کو جتنا نقصان پڑھے لکھے طبقے نے پہنچایا ہے اتنا ان پڑھ طبقے نے نہیں پہنچاتا
ایک بات اور میں جب ایم اے انگریزی کر رہا تھا تو بخاری صاحب ایک جملہ بہت خوب صورت کہا کرتے تھے کہ پاکستان کو جتنا نقصان پڑھے لکھے طبقے نے پہنچایا ہے اتنا ان پڑھ طبقے نے نہیں پہنچاتا
اس ملک کا حال ایسے پڑھے لکھے امیر اور مقتدرہ طبقہ نے کیا ہے بیوروکریسی نے کیا سیاسی لٹیروں نے پاکستان کا یہ حال کیا ہے
اس میں غریبوں کو چھوڑیں
اطہر ہم جیسے یونی ورسٹیوں کے پڑھے لکھے طبقے کا کہیں احتجاج نظر آتا ہے ہم میں سے بہت لوگوں نے ان کی ہاں میں ہاں ملائی ہے غریب اگر کرائے کا قتل بنا تو کیا
ہم یونیورسٹیوں میں پڑھنے والوں نے یونیورسٹیز میں جب ایسے لوگ آتے ہیں ان کے حق میں نعرے نہیں لگائے کس کو نہیں پتہ ہوتا کہ یہ جھوٹ بولتے ہیں
ہمارے انگریزی ادب کے استاد محترم مرید حسین علوی صاحب کا بھی ایک جملہ یاد آیا سرگودھا یونیورسٹی میں جب جب کوئی بھی سیاسی آیا وہ بھی اس فنگشن میں نہیں پوچھنے پے کہا کرتے تھے یہ اتنے بڑے مجمع میں جھوٹ بولتے ہیں۔ اور ہمارا پڑھا لکھا طبقہ ان کے جھوٹ پے آمین کہتا ہے
آخری آپ بہت خوب صورت باتیں اپنے ان سارے سیاسی لوگ سے آپ لوگ ایک اردو زبان قومی زبان کے ساتھ آج تک سرکاری زبان کا درجہ تو دلوا نہ سکے کس ترقی کی بات کر رہے ہیں
جس زبان کی تاریخ ہمیں آٹھویں صدی تک کی پڑھائی جاتی ہے
اس کو آج تک پاکستان میں سرکاری درجہ نہ ملا