دل کی بات خ ح شہزاد
دل کی بات
خ ح شہزاد
7اکتوبر طوفان الاقصی کو ایک سال مکمل ھوگیا۔اور 10اکتوبر محسن پاکستان ڈاکٹر عبد القدیر خان رحمة اللہ علیہ کی دوسری برسی تھی۔کہتے ھیں کہ جب پاکستان نے ایٹمی دھماکے کیے تو سب سے زیآدہ بیرون ملک خوشی فلسطینیوں نے منائی تھی۔شاہد وہ سوچ رھے تھے کہ پاکستان اب ایٹمی قوت بن گیا ھے تو ھماری مشکل کے وقت مدد کرے گا۔لیکن انکو یہ معلوم نہیں تھا کہ یہ تو محسن کش قوم ھے۔اور چند کلومیٹر دوری پر سری نگر میں اینے کشمیری بھائیوں کی مدد نہیں کرسکے اور 76سالوں میں سوائے مزمت کے کچھ نہیں کرسکے۔اور اب تو سرکاری سطح پر شاہد لوگ کشمیر کو بھول گے ھیں اور کشمیر کمیٹی کا بھی نام ونشان نہیں۔حالانکہ مولآنا فضل الرحمن کے لیے کشمیر کمیٹی کی چیرمینی کافی تھی۔اور وہ اپوزشین میں مجبورا نہ بیٹھتے۔اس وقت صورتحال یہ ھے کہ فلسطین کی بھی مدد کو ایٹمی پاکستان نہیں گیا اور اپنے محسن ڈاکٹر عبد القدیر خان کو بھی بھول چکی ھے۔کشمیر تو اب شاہد ھمارے بچے معاشرتی علوم میں بھی نہ پڑھ سکیں۔جدید دور آگیا ھے اور کشمیر قدیم مسلہ ھے اس لیے اسکی سلیبس میں جگہ نہیں بنےگی۔اور اب وہ دادا دادی بھی نہیں رھے جو بچوں کو کہانی ھی سنا سکیں کہ ایک کشمیر تھا۔ایک ڈاکٹر عبد القدیر خان تھا۔؟فلسطینیوں نے قربانیوں کی لازوال تاریخ رقم کی ھے۔اور حدیث مبارکہ کے مطابق بیت المقدس کے اردگرد جہاد جاری رھے گا سو آپ دیکھ لیں میرے آقا ومولا حضرت محمد مصطفے ﷺکا فرمان عالی شان آج پورا ھورھا ھے۔جہاد صرف بیت المقدس کے اردگرد رہ گیا ھے باقی 57اسلامی ممالک میں ایسے لگتا ھے کھسروں کی حکومت ھے۔جو بے بس لاچار صرف مذمت کرنے کے سوا یا اپنی موت کا انتظار کرنے کے سوا کچھ نہیں کرسکتے۔کفار یک جان ھوکر حدیث مبارکہ کے مطابق مسلمانوں کو بے گناہ قتل کررھے ھیں۔اور ھم کبھی کرکٹ میچ کبھی ریاض سیزن۔ اور کبھی دہبی سیزن کھیل رھے ھیں۔صرف اپنی جان بچانے کی فکر میں ھیں۔لیکن وہ بھی نہیں بچنی۔اگر مرنا ھے۔اور شیر کی طرح لڑ کر مریں تو کیا ھی بات ھے ورنہ گیڈر ساری زندگی جان بچانے کے لیے دوڑتا رھتا ھے لیکن آخر کسی کتے کے ہاتھوں مر ھی جاتا ھے۔ھم اور ھماری نوجوان نسل دراصل اتنے بذدل اور جہاد سے بھاگنے والے نہیں تھے لیکن اقتدار پر قابض دنیادار اشرافیہ نے ھمیں معاشی مشکلات میں ڈال کر روٹی پانی بجلی بل کی فکر میں ڈال کر خود عیاشی کررھے ھیں۔اور نوجوان نسل کو فن گالآ اور دیگر تقریبات کی آڑ میں فحاشی وعریانی میں دھکیل دیا ھے۔کچھ دوستوں کا خیال ھے کہ فروری تک کوئی بڑی تبدیلی بنگلہ دیش کے طرز کی آسکتی ھے۔ایک بڑی تبدیلی وقت کی ضرورت ھے۔سارا سسٹم کرپٹ ھوچکا ھے۔اور یہ سسٹم اب ناکارہ ھوچکا ھے۔انصاف نام کی چیز دور دور تک نظر نہیں آتی۔غریب۔مڈل کلاس کا جینا مشکل ھوچکا ھے۔اس لیے یہ سسٹم زیادہ دیر چلنے والانہیں۔جتنی جلدی یہ دریا برد ھوگا اتنا جانی مالی نقصآن کم ھوگا۔لیکن اس سسٹم سے فائدہ اٹھانے والے بھی آخر تک اسکو بچانے کی کوشش کریں گے لیکن یہ محسن کش اور بزدل سسٹم کے خاتمہ کا وقت قریب ھے۔؟؟؟؟