_*عمران خان کا اڈیالہ جیل سے خصوصی پیغام*_
_*پاکستان سے دہشت گردی کا خاتمہ اور امن و امان کا قیام ہمیشہ سے تحریک انصاف کی پالیسی رہی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے دوران دہشت گردی میں بڑی کمی آئی۔ہم نے خیبر پختونخوا میں پولیس اور سی ٹی ڈی کے اداروں کو مضبوط کیا جس کے نتیجے میں خیبر پختونخوا اور اس کے بعد پورے ملک میں دہشت گردی میں واضح کمی آئی۔ ہم نے خطے میں امن قائم کرنے کی خاطر افغانستان میں پاکستان مخالف اشرف غنی حکومت کے ساتھ بات چیت کی،*_ _*ان کو پاکستان آنے کی دعوت دی اور قیام امن کے لیے خود بھی افغانستان کا دورہ کیا۔امریکہ کے انخلا کے بعد افغانستان میں سول وار کا شدید خدشہ تھا جسے نہایت حکمت سے ہینڈل کیا گیا۔افغانستان میں نئی حکومت قائم ہونے کے بعد اس حکومت کے ساتھ تعلقات قائم کرنے میں اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید کا کلیدی کردار تھا۔ خطے کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے میری*_ _*حکومت کی جانب سے فیصلہ کیا گیا کہ ڈی جی آئی ایس آئی کو تبدیل نہ کیا جائے اور یہی ہدایات جنرل باجوہ کو دی گئیں جس پر وزیراعظم کو بتایا گیا کہ انہیں تبدیل نہیں کیا جائے گا مگر اس کے باوجود انہیں تبدیل کر دیا گیا جس کی وجوہات بعد میں سامنے آئیں جو کہ واضح طور پر جنرل باجوہ اور نواز شریف کے درمیان جنرل باجوہ کی مدتِ ملازمت میں توسیع کے حوالے سے کی جانے والی ڈیل تھی۔بعد کے واقعات نے یہ ثابت کیا کہ جنرل باجوہ نے محض اپنے ذاتی فائدے کے لیے ملک کا بے حد نقصان کیا۔ آئی ایس آئی جس نے ملک کو دہشت گردی سے بچانا تھا اسے دہشت گردی کے انسداد سے ہٹا کر تحریک انصاف کو کچلنے پر لگا دیا گیا۔*_
_*اسی طرح پی ڈی ایم حکومت کے وزیر خارجہ نے پوری دنیا کا چکر لگایا لیکن افغانستان نہیں گیا کیونکہ ان لوگوں کو پاکستان کے امن، ہمارے لوگوں کے جان و مال اور ہمارے سکیورٹی اداروں کی قطعاً کوئی پروا نہ تھی۔ آج بھی ان کے پاس دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے کوئی واضح حکمت عملی موجود نہیں ہے جس کی وجہ سے ایک مرتبہ پھر ملک و قوم نقصان اٹھا رہے ہیں۔*_
_*پاکستان تحریک انصاف نے اپنے دور میں ریاست کے اداروں کو سیاست سے پاک کر کے قومی مفادات کے تحفظ کو اولین ترجیح بنایا تو ملکی اور غیر ملکی ناقدین نے ہائبرڈ سسٹم کی اصطلاح ایجاد کی اور ہمیں ہدفِ تنقید بنایا۔ آج صورت حال یہ ہے کہ ضمیر اور قلم فروشوں کے ایک نہایت چھوٹے سے گروہ کے علاوہ ماضی میں ہمیں ہائبرڈ سسٹم کا طعنہ دینے والے ہمارے ناقدین بھی کھل کر ملک پر بدترین شخصی آمریت کے غلبے کی نشان دہی کر رہے ہیں۔*_
_*پاکستان کا مستقبل عوام کے مینڈیٹ کے احترام، قانون کی حکمرانی اور سیاست کے استحکام سے وابستہ ہے۔ اپنے لوگوں کے خلاف ننگی فسطائیت یا لشکر کشی کے ذریعے دہشت گردی کا تدارک ممکن ہے نہ ہی پاکستان کو استحکام نصیب ہونے کے امکانات ہیں۔ قوم کی مرضی کے برعکس فیصلے کرنے اور طاقت اور بندوق کے زور پر انہیں عوام سے منوانے کی کوششوں نے ہمیشہ منفی نتائج پیدا کیے ہیں۔*_
لارڈ ماؤنٹ بیٹن ہندوستان کا آخری وائسرائے تھا
مجرم کتنا ہی شاطر کیوں نہ ہو، لیکن کوئی نہ کوئی ایسی غلطی کرجاتا ہے جس سے وہ قانون کی گرفت میں آجاتا ہے۔
مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کرو گے
* دروازۂ جہنم —* ایک ایسا گڑھا جو پچاس سال سے مسلسل جل رہا ہے
*ڈاکٹر قالیباف :* فلسطین کے بغیر امن و استحکام نہیں ہوسکتا۔