November 8, 2026

فخرِ تھل حاجی ملک نور بوڑانہ مرحوم۔۔۔ ایک عہد ساز، انسان دوست اور عظیم سماجی شخصیت خصوصی تحریر: راجہ نورالٰہی عاطف

IMG-20261108-WA0056

فخرِ تھل حاجی ملک نور بوڑانہ مرحوم۔۔۔ ایک عہد ساز، انسان دوست اور عظیم سماجی شخصیت

خصوصی تحریر: راجہ نورالٰہی عاطف

فخرِ تھل حاجی ملک نور بوڑانہ مرحوم کی عظیم المرتبت شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ ان کا شمار تحصیل نورپور تھل کی نامور، باوقار اور ہر دلعزیز شخصیات میں ہوتا تھا۔ ان کا تعلق نورپور تھل کے تاریخی گاؤں آدھی سرگل سے تھا۔ وہ علاقے کے بڑے زمیندار ہونے کے ساتھ ساتھ اعلیٰ اخلاق، شرافت، ملنساری، وضع داری اور انسان دوستی جیسی بے شمار خوبیوں کے مالک تھے۔ ان سے ملاقات کرنے والا ہر شخص ان کی شخصیت کے سحر میں گرفتار ہو جاتا تھا۔
راقم الحروف (راجہ نورالٰہی عاطف) کو اپنے صحافی دوستوں ملک محمد حیات جوئیہ، ایم نوردین اور ملک عزیزالرحمان بوڑانہ کے ہمراہ حاجی ملک نور بوڑانہ مرحوم سے ان کے آبائی گاؤں آدھی سرگل میں متعدد مرتبہ ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ ان ملاقاتوں کے دوران ان کی شخصیت کے کئی خوبصورت پہلو سامنے آئے۔ وہ نہایت شفیق، خوش مزاج، ملنسار اور محبتیں بانٹنے والے انسان تھے۔ ان کی گفتگو میں خلوص، لہجے میں اپنائیت اور رویوں میں احترام نمایاں تھا۔ ان کی شخصیت کا سب سے نمایاں وصف یہ تھا کہ وہ اپنی ذات سے بڑھ کر دوسروں کے دکھ درد کو اہمیت دیتے تھے۔
حاجی ملک نور بوڑانہ مرحوم کے دل میں اپنے علاقے کے عوام کی بے لوث خدمت اور علاقائی تعمیر و ترقی کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ وہ اکثر اپنی گفتگو میں اس عزم کا اظہار کیا کرتے تھے کہ دکھی انسانیت کی خدمت ہی زندگی کا حقیقی مقصد ہے۔ اسی جذبے کے تحت انہوں نے اپنے صاحبزادے ملک توقیر احمد قیصر بوڑانہ کو شعبہ طب سے وابستہ کیا تاکہ وہ دکھی انسانیت کے علاج معالجے اور خدمت کے مشن کو آگے بڑھا سکیں۔
آج ان کے صاحبزادے ڈاکٹر ملک توقیر احمد قیصر بوڑانہ اپنے والد محترم کے اسی عظیم مشن کو نہایت احسن انداز میں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ النور ہسپتال جوہرآباد اور نورپور تھل میں طبی سہولیات کی فراہمی کے ذریعے وہ علاقے کے لوگوں کو علاج معالجے کی بہتر سہولتیں فراہم کر رہے ہیں۔ بلاشبہ یہ ان کے والد محترم کے خوابوں کی خوبصورت تعبیر اور ان کے مشن سے عملی وابستگی کا مظہر ہے۔
حاجی ملک نور بوڑانہ مرحوم، چیف آرگنائزر لٹریری اینڈ سپورٹس ایکٹیویٹیز ڈسٹرکٹ خوشاب ملک عبدالغفور آصف بوڑانہ کے بڑے بھائی تھے۔ ملک عبدالغفور آصف بوڑانہ بھی اپنے بڑے بھائی کی طرح خلقِ خدا کی خدمت، سماجی بہبود اور فلاحی سرگرمیوں میں بھرپور دلچسپی رکھتے ہیں اور معاشرے کی بہتری کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کر رہے ہیں۔
مرحوم حاجی ملک نور بوڑانہ کی شخصیت کا ایک نہایت قابلِ قدر پہلو ان کی غیر معمولی صلح جوئی تھی۔ عوامی و سماجی حلقوں کے مطابق علاقے میں متعدد ایسے واقعات موجود ہیں جہاں انہوں نے کئی سال سے جاری خاندانی اور علاقائی دشمنیوں کو ختم کروا کر فریقین کو محبت، بھائی چارے اور دوستی کے رشتوں میں پرو دیا۔ وہ اختلافات کو دشمنی میں تبدیل ہونے سے روکنے اور ناراض لوگوں کو آپس میں ملانے کے لیے ہمیشہ سرگرم رہتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ علاقے کے لوگ انہیں نہایت عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتے اور ان کی بات کو قدر کی نگاہ سے سنتے تھے۔
کھیلوں کے فروغ اور نوجوان نسل کی حوصلہ افزائی بھی ان کی شخصیت کا ایک نمایاں وصف تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ نوجوان منفی سرگرمیوں سے دور رہ کر مثبت اور صحت مند سرگرمیوں میں حصہ لیں۔ اسی مقصد کے تحت انہوں نے علاقے میں کھیلوں کے میدان آباد کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ کرکٹ ہو یا پلاسٹک والی بال، علاقے میں جہاں بھی کوئی مقابلہ منعقد ہوتا، انہیں بطور مہمانِ خصوصی مدعو کیا جاتا۔ وہ کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کرتے، ان کی کارکردگی کو سراہتے اور کھلے دل سے انعامات تقسیم کرتے تھے۔ ان کی یہ سرپرستی نوجوانوں کے لیے باعثِ حوصلہ اور کھیلوں کے فروغ میں ایک قابلِ قدر کردار کی حیثیت رکھتی تھی۔
مرحوم کی زندگی کا ایک اور روشن پہلو یتیموں، غریبوں، مستحق افراد اور بیواؤں کی مدد تھا۔ وہ ضرورت مندوں کی داد رسی کو محض سماجی ذمہ داری نہیں بلکہ اپنا اخلاقی اور انسانی فریضہ سمجھتے تھے۔ ان کی کوشش ہوتی تھی کہ کسی ضرورت مند کو مایوس نہ لوٹایا جائے۔ ان کے نزدیک انسانیت کی خدمت ہی سب سے بڑی نیکی تھی۔
ان کے صاحبزادوں ڈاکٹر ملک توقیر احمد قیصر بوڑانہ، ڈاکٹر ملک تنویر احمد بوڑانہ اور ملک عمران قیصر بوڑانہ نے بھی اپنے والد محترم کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے سماجی اصلاح، فلاح و بہبود اور دکھی انسانیت کی خدمت کو اپنی ترجیحات میں شامل کر رکھا ہے۔ یہ امر کسی بھی انسان کے لیے باعثِ فخر ہوتا ہے کہ اس کی زندگی کے اچھے اعمال اس کی اولاد کے کردار اور خدمت کے جذبے میں بھی زندہ رہیں۔
بلاشبہ حاجی ملک نور بوڑانہ مرحوم ایک ایسی ہمہ جہت شخصیت تھے جنہوں نے دولت، سماجی مقام اور خاندانی وجاہت کو محض اپنی ذات تک محدود رکھنے کے بجائے اسے عوامی خدمت، بھائی چارے، کھیلوں کے فروغ، صلح جوئی اور فلاحِ انسانیت کے لیے استعمال کیا۔ ان کی زندگی اس حقیقت کی عکاس تھی کہ اصل عظمت عہدے، دولت یا شہرت میں نہیں بلکہ انسانوں کے دلوں میں جگہ بنانے اور ان کے دکھ درد بانٹنے میں پوشیدہ ہے۔
آج اگرچہ حاجی ملک نور بوڑانہ مرحوم ہمارے درمیان موجود نہیں، لیکن ان کی بے لوث خدمات، محبتیں، سماجی روایات اور انسان دوستی کے نقوش اہلِ علاقہ کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ ان کی زندگی آنے والی نسلوں کے لیے ایک روشن مثال اور مشعلِ راہ ہے۔
اللہ تعالیٰ مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے اہلِ خانہ کو ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے خدمتِ انسانیت کا یہ عظیم مشن جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔