November 8, 2026

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! اہم انتباہ اور تنبیہ: نماز جیسی مقدس عبادت کا مذاق بند کیجیے!

Screenshot_2026-11-08_083904.028

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
اہم انتباہ اور تنبیہ: نماز جیسی مقدس عبادت کا مذاق بند کیجیے!

سوشل میڈیا کی دنیا میں آج کل ایک انتہائی خطرناک اور روح فرسا رجحان دیکھنے میں آ رہا ہے۔ باہم ضد، تعصب اور فرقہ وارانہ بغض کی آگ میں جلتے ہوئے کچھ لوگ اب نماز جیسی عظیم ترین عبادت کو بھی نہیں بخش رہے۔ فیس بک اور دیگر پلیٹ فارمز پر کوئی نماز کو حنفی اور کوئی اسے طنزیہ طور پر وکٹورین یا اس طرح کے دیگر نام دے کر اس کا مذاق اڑا رہا ہے۔

اے ایمان والو! ذرا رکھیے اور اپنے گریبان میں منہ ڈال کر سوچیے کہ ہم کس طرف جا رہے ہیں؟ کیا ہمارے ذاتی اور فقہی اختلافات اتنے اندھے ہو چکے ہیں کہ اب ہم اللہ کے حضور سجدہ ریز ہونے کے اس مقدس طریقے کو بھی طنز و مزاح کا نشانہ بنائیں گے؟
ذرا سوچیں، ہم کہاں جا رہے ہیں؟
* نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا واضح فرمان ہے: نماز ایسے پڑھو جیسے تم نے مجھے پڑھتے دیکھا ہے۔ (صحیح بخاری)

نماز کسی مکتبِ فکر، کسی خاص خطے یا کسی دور کی پیداوار نہیں ہے؛ یہ خالصتاً محمدی نماز ہے جو صحابہ کرام سے ہوتی ہوئی امت تک پہنچی ہے۔ اسے کسی کا ذاتی یا فرقہ وارانہ لیبل دینا دین کے ساتھ صریح مذاق ہے۔

* اخلاقی گراوٹ اور زبان کا بگاڑ: آج ہم اخلاقیات کے اس نچلے درجے پر پہنچ چکے ہیں کہ عبادت گاہوں کے آداب اور دینی اقدار کی بھی پروا نہیں رہی۔ زبانوں کا بگاڑ اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ انسان اپنے ہی بھائی کو نیچا دکھانے کے لیے دین کے مقدس شعائر کو طنز کا نشانہ بناتا ہے۔

* اللہ کا عذاب اور قرآن کی وارننگ:
قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ کا واضح ارشاد ہے: اور اگر تم منہ موڑو گے تو وہ تمہاری جگہ دوسرے لوگوں کو لے آئے گا، پھر وہ تم جیسے نہ ہوں گے۔ (سورۃ محمد: 38)
کیا ہم اللہ کی اس دھمکی سے بے خوف ہو گئے ہیں؟ یاد رکھیے! اگر ہم نے دین کے نام پر یہ کھیل بند نہ کیا، تو اللہ تعالیٰ اس قوم کو بدلنے پر پوری طرح قادر ہے۔

اصلاح کی پکار اور وارننگ:
اللہ سے ڈریے! دین کے معاملے میں طنز اور تمسخر کا یہ رویہ ایمان کو تباہ کر دیتا ہے۔ جسے آج آپ لاعلمی یا تعصب کی وجہ سے کوئی نام دے رہے ہیں، وہ دراصل وہی محمدی اور خلفائے راشدین کی سنت ہے۔ سوشل میڈیا پر لائکس اور شیئر حاصل کرنے کے لیے دین، مسلک اور عبادات کو تماشہ نہ بنائیں۔

اے عقل و دانش والو! اللہ سے ڈرو، اچھی بات کہو یا خاموش رہو، اپنے ایمان کو ٹٹولو اور حق کو پہچانو۔ خدا کے لیے اس فتنہ انگیزی کو یہیں روک دیجیے، کہیں ایسا نہ ہو کہ دیر ہو جائے اور اللہ کا عذاب ہمیں آ لے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہدایتِ کاملہ عطا فرمائے اور ہماری زبانوں اور قلموں کو دین کی حفاظت کے لیے استعمال کرنے کی توفیق دے، نہ کہ تضحیک کے لیے۔

آمین یا رب العالمین

تحریر:
انجینئر نذیر ملک، سرگودھا