November 7, 2026

قصور منشیات کے عادی افراد کے علاج کے لیے جدید ڈرگ ری ہیبلیٹیشن سینٹر قائم کرنے کا مطالبہ، ادارے کے اندر جگہ فراہم کرنے کی پیشکش

IMG-20261107-WA0217

قصور
منشیات کے عادی افراد کے علاج کے لیے جدید ڈرگ ری ہیبلیٹیشن سینٹر قائم کرنے کا مطالبہ، ادارے کے اندر جگہ فراہم کرنے کی پیشکش
ضلع قصور میں منشیات کے بڑھتے ہوئے استعمال اور نوجوان نسل کو اس لعنت سے بچانے کے لیے جدید ڈرگ ری ہیبلیٹیشن سینٹر کے قیام کی ضرورت شدت اختیار کر گئی ہے۔ شہریوں اور سماجی حلقوں نے حکومت پنجاب اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ قصور میں سرکاری سطح پر منشیات بحالی مرکز قائم کیا جائے، جہاں منشیات کے عادی افراد کو مفت علاج، طبی نگرانی، نفسیاتی مشاورت اور بحالی کی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔اس حوالے سے ایڈیشنل ڈائریکٹر لیفٹیننٹ کرنل (ر) مسعود حیات کا کہنا ہے کہ اگر متعلقہ ادارے کے اندر ڈرگ ری ہیبلیٹیشن سینٹر کے لیے جگہ فراہم کر دی جائے تو یہاں لائے جانے والے منشیات کے عادی افراد کے علاج معالجے کا باقاعدہ انتظام کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق اس وقت ادارے میں ایسے افراد کو لایا تو جاتا ہے، لیکن ان کے لیے علاج معالجے کی باقاعدہ سہولت موجود نہیں، جو ایک اہم مسئلہ ہےشہریوں کا کہنا ہے کہ منشیات کی لت صرف ایک فرد نہیں بلکہ پورے خاندان کو متاثر کرتی ہے۔ نوجوان نسل کو اس تباہی سے بچانے کے لیے منشیات فروشوں کے خلاف کارروائی کے ساتھ ساتھ نشے کے عادی افراد کا علاج اور ان کی بحالی بھی انتہائی ضروری ہے۔مطالبہ کیا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، محکمہ صحت پنجاب اور ڈپٹی کمشنر قصور اس اہم عوامی مسئلے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ ادارے کے اندر ڈرگ ری ہیبلیٹیشن سینٹر کے قیام کی تجویز پر غور کریں اور متاثرہ افراد کے لیے مفت علاج کی سہولیات یقینی بنائیں تاکہ انہیں نشے کی دلدل سے نکال کر معاشرے کا مفید شہری بنایا جا سکے