لاہور (راجہ نورالہی عاطف سے) قومی ورثہ لاہور لیڈیز کلب باغ جناح کی نایاب کتب قیام پاکستان سے قبل
لاہور (راجہ نورالہی عاطف سے) قومی ورثہ لاہور لیڈیز کلب باغ جناح کی نایاب کتب قیام پاکستان سے قبل اور بعد از نامور مصنفین کی جو لیڈیز کلب کی لائبریری کا حصہ تھیں ان تمام کتب کو جن کی تعداد ہزاروں میں تھیں ادارہ نظریہ پاکستان ٹرسٹ لائبریری کو ہدیہ پیش کیا گیا۔ صدر لاہور لیڈیز کلب عنبرین فاروق نے تمام کتابیں اسسٹنٹ سیکریٹری حمزہ ادارہ نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے حوالے کیں۔ اس موقع پر جنرل سیکرٹری لاہور لیڈیز کلب شفق مصطفیٰ، ایگزیکٹو ممبر صفیہ اسحاق اور کرنل فاروق موجود تھے۔ نظریہ پاکستان ٹرسٹ کی انتظامیہ نے بتایا یہ کتب نظریہ پاکستان ٹرسٹ ایون قائد اعظم جوہر ٹاؤن کینال روڈ لائبریری میں رکھی جائیں گی۔ لاہور لیڈیز کلب ایک قومی و تاریخی ورثہ ہے جس کا قیام 1938 ہوا۔ سر عبد القادر کی اہلیہ نے اس وقت کے گورنر پنجاب کہا خواتین کے لیے کلب ہونا چاہئے جہاں خواتین ان ڈور و آؤٹ ڈور کھیلیں کھیل سکیں، لائیبریری بھی ہو۔ لارنس گارڈن موجودہ باغ جناح میں لیڈیز کلب چائنہ چوک کونے پر 87 سالہ پرانی عمارت میں قائم ہے۔ یہ ایک تاریخی کلب ہے کئی ممبران نے تحریک پاکستان میں فعال کردار ادا کیا۔ 1952ء میں ملکہ الزبتھ دوئم کے اعزاز میں اسی کلب میں استقبالیہ دیا گیا تھا۔ یہاں لان ٹینس اور ٹیبل ٹینس و دیگر کھیل کھیلے جاتے ہیں۔ ایک لائبریری بھی ہے بہت بڑی تعداد میں کتابیں نامور مصنفین کی موجود ہیں۔ جو اب نظریہ پاکستان ٹرسٹ کو عطیہ کر دی گئی ہیں تاکہ نظریہ پاکستان ٹرسٹ میں سکول و کالجز کے بچے ان نادر کتابوں کا مطالعہ کریں۔ اس کلب میں ملکہ ترنم نور جہاں بھی لان ٹینس کھیلنے آیا کرتی تھیں۔ 1950ء میں جب وزیراعظم نوابزادہ لیاقت علی خان بھارت کو “مکا دکھایا” تھا تو اس وقت رائفل شوٹنگ بھی اسی کلب میں شروع ہوئی تھی۔ اس تاریخی لاہور لیڈیز کلب کا یہ شاندار سفر بیگم سر عبد القادر سے شروع ہو کر موجودہ صدر عنبرین فاروق تک بڑی کامیابی سے جاری و ساری ہے۔ ماشاءاللہ
شعر:-
کتابوں سے ہو جسے سچی محبت
وہی پاتا ہے علم و ادب کی دولت