November 3, 2026

*عقیدۂ تقدیر، خیر و شر کی حقیقت اور توحیدِ خالص: ایک فکری و تحقیقی جائزہ* منگل 03 نومبر 2026ء تحقیق و تحریر: انجینئر نذیر ملک سرگودھا

Screenshot_2026-11-03_075104.616

*عقیدۂ تقدیر، خیر و شر کی حقیقت اور توحیدِ خالص: ایک فکری و تحقیقی جائزہ*

منگل 03 نومبر 2026ء
تحقیق و تحریر:
انجینئر نذیر ملک سرگودھا

تمہید
اسلامی عقائد میں “ایمانِ مفصل” کا وہ جملہ جس پر ایمان لانا ہر مسلمان پر فرض ہے، یہ ہے:
«وَالْقَدْرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ مِنَ اللَّهِ تَعَالَى» (اور تقدیر پر ایمان لانا کہ اس کی اچھی اور بری کیفیت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے)۔

اس جملے کو بعض اوقات انسان کی محدود عقل غلط فہمی میں مبتلا کر دیتی ہے کہ شاید انسان کی اپنی غلطیوں، کوتاہیوں اور دنیا میں ہونے والے فتنوں یا برائیوں کا ذمہ دار بھی معاذ اللہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ کتاب و سنت اور فہمِ سلف کی روشنی میں اس عقیدے کی درست تشریح کی جائے تاکہ انسان کا توحید پر ایمان بھی پختہ رہے اور اس کی ذاتی ذمہ داری کا احساس بھی زندہ رہے۔

۱.قرآن و حدیث کی روشنی میں تقدیر اور “خیر و شر” کا مفہوم:

قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے کائنات کی ہر چیز کے پیدا کرنے کی نسبت اپنی طرف کی ہے، کیونکہ وہ خالقِ مطلق ہے:

* اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
«اللَّهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ وَكِيلٌ» (الزمر: 62)
“اللہ ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے اور وہ ہر چیز کا نگہبان ہے۔”

تاہم، جب بات بندے کے اعمال، اس کے فیصلوں اور اس کے نتیجے میں ملنے والے نتائج کی آتی ہے، تو قرآنِ کریم بڑی صریح زبان میں واضح کرتا ہے کہ انسان کو جو بھلائی ملتی ہے وہ اللہ کے فضل سے ہے، اور جو مصیبت یا نقصان (شر) پہنچتا ہے وہ اس کے اپنے اعمال کی وجہ سے ہے:

* سورۃ النساء (آیت 79) میں ارشاد ہے:
«مَا أَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍ فَمِنَ اللَّهِ وَمَا أَصَابَكَ مِنْ سَيِّئَةٍ فَمِنْ نَفْسِكَ»
ترجمہ:
“(اے انسان!) تجھے جو بھلائی بھی پہنچتی ہے وہ اللہ کی طرف سے ہے اور جو برائی بھی پہنچتی ہے وہ تیرے اپنے نفس کی طرف سے ہے۔”

حدیثِ جبریل کا درس
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی مشہور حدیثِ جبریل میں جب آپ ﷺ سے “ایمان” کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا:
«وأن تؤمن بالقدر خيره وشره» (اور یہ کہ تو تقدیر پر ایمان لائے، اس کی اچھائی اور برائی پر)۔ (صحیح مسلم)

تشریح: اس کا مطلب یہ ہے کہ کائنات میں جو طبعی نظام (Laws of Nature) اور آزمائشیں قائم ہیں—جیسے بیماری، طوفان، یا زندگی و موت۔ ان کا خالق اللہ ہے۔ زہر اپنی جگہ ایک طبعی حقیقت ہے، لیکن اس کا استعمال انسان اپنے اختیار سے کرتا ہے۔

۲.تخلیقِ الٰہی بمقابلہ انسانی کسب (اختیار)
اسلامی عقیدے کے مطابق تقدیر میں “شر” (یعنی مصیبت، تکلیف یا ناپسندیدہ امر) کے دو پہلو ہیں:

* خلقت اور اسباب کے اعتبار سے:
کائنات کا ذرہ ذرہ اللہ کی مخلوق ہے۔ آگ جلاتی ہے، پانی ڈوبوتا ہے، زہر مارتا ہے یہ سب اللہ کے بنائے ہوئے طبعی قوانین ہیں۔ ان قوانین کا وجود اپنی جگہ حکمت پر مبنی ہے (خیر ہے)، لیکن جب انسان لاپرواہی برتتا ہے یا اپنے اختیار کا غلط استعمال کرتا ہے، تو وہ ان قوانین کی زد میں آ کر نقصان اٹھاتا ہے۔

* کسب (عمل) کے اعتبار سے:
انسان کو اللہ تعالیٰ نے عقل، شعور اور ارادۂ آزاد (Free Will) عطا کیا ہے۔ انسان اپنی مرضی سے سڑک پر غلط طریقے سے موٹر سائیکل چلاتا ہے یا قانون توڑتا ہے اور حادثے کا شکار ہو جاتا ہے، تو یہ اس کا اپنا کمایا ہوا عمل ہے، جس کا الزام تقدیر یا اللہ کی مرضی پر دھرنا سراسر حماقت اور ناانصافی ہے۔

* ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
«وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ» (الشورى: 30)
ترجمہ:
“اور تمہیں جو مصیبت بھی پہنچی وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی کی وجہ سے پہنچی ہے، اور وہ بہت سوں کو معاف بھی کر دیتا ہے۔”

۳.آثارِ صحابہ اور اسلاف کا منہج: توحید اور ذاتی ذمہ داری
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین کا منہج یہ تھا کہ وہ تقدیر کو کبھی بھی انسان کی سستی اور گناہوں کا پردہ نہیں بناتے تھے۔

* حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا ایک مشہور واقعہ ہے کہ جب آپ نے طاعون زدہ علاقے میں جانے سے گریز کیا اور کسی نے کہا: “کیا آپ اللہ کی تقدیر سے بھاگ رہے ہیں؟” تو حضرت عمر نے فرمایا: “ہم اللہ کی ایک تقدیر سے نکل کر اللہ ہی کی دوسری تقدیر کی طرف بھاگ رہے ہیں!” (یعنی احتیاط اور تدبیر بھی تقدیر کا حصہ ہے)۔

* سلفِ صالحین کا اس بات پر اجماع رہا ہے کہ انسان کو اپنی نیت، محنت اور تدبیر میں کوئی کسر نہیں چھوڑنی چاہیے، اور جب کوئی نتیجہ خلافِ توقع آئے، تو اسے اللہ کی کسی پوشیدہ حکمت یا اپنے کسی امتحان پر محمول کر کے صبر کا دامن تھامنا چاہیے۔

۴.عاملوں، نجومیوں اور پامسٹوں کا فریب مقابلہ:

کامل توحید:
جب ایک انسان مصیبت میں ٹوٹتا ہے اور اللہ سے مایوس ہو کر عاملوں، پیروں یا نجومیوں کے پاس جاتا ہے، تو وہ دراصل اپنی توحید کو داؤ پر لگا دیتا ہے۔

* رسول اللہ ﷺ کا فرمانِ عالی شان ہے:
«مَنْ أَتَى كَاهِنًا أَوْ عَرَّافًا فَصَدَّقَهُ بِمَا يَقُولُ فَقَدْ كَفَرَ بِمَا أُنْزِلَ عَلَى مُحَمَّدٍ» (سنن ترمذی)
ترجمہ:
“جو شخص کسی کاہن یا نجومی کے پاس گیا اور اس کی بات کی تصدیق کی، اس نے اس دین کے ساتھ کفر کیا جو محمد ﷺ پر نازل ہوا ہے۔”

دنیا میں بظاہر غیر مسلموں یا فاجر لوگوں کے پاس جا کر کام کا ہو جانا، یا پامسٹوں کا نفسیاتی ہپناٹزم (Self-fulfilling prophecy) دراصل امتحانِ الٰہی اور شیطانی استدراج ہے۔ اللہ تعالیٰ دیکھتا ہے کہ بندہ مشکلات میں اپنے رب کے در پر رہتا ہے یا شارٹ کٹ تلاش کرتا ہے۔

نتیجۂ کلام:
کامل توحید کا تقاضا یہ ہے کہ:
* انسان اپنی تمام کوششوں، محنت اور تدبیر کا پورا حق ادا کرے اور اپنی کسی بھی غلطی کا الزام تقدیر یا معاذ اللہ اللہ پر نہ لگائے۔

* مشکلات اور آزمائشوں میں صرف اور صرف اللہ سے رجوع کرے، کسی دکاندار پیر، عامل یا نجومی کے آستانے پر نہ بھٹکے۔

* تقدیر کے ہر فیصلے پر راضی رہے، یہ یقین رکھتے ہوئے کہ اگر ظاہری تدبیر الٹ بھی گئی ہے، تو اس میں میرے رب کی کوئی نہ کوئی عظیم حکمت پوشیدہ ہے جو میری دنیا اور آخرت دونوں کے لیے بہترین ہے۔

الدعاء
یا اللہ تعالی ہمارے ایمان کی حفاظت فرا اور ہمیں اصل دین کا الہی کا علم عطا فرما تاکہ ہم تیرے راستے سے ہرگز نہ بھٹکیں۔

آمین یا رب العالمین

تحقیق و تحریر:
انجینئر نذیر ملک سرگودھا
Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333