*مقصدِ حیات، بقائے نسل اور حیاتِ انسانی کی خوبصورتی: ایک سچا اور چشم کشا واقعہ* اتوار یکم نومبر 2026ء تحقیق و تحریر: انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
*مقصدِ حیات، بقائے نسل اور حیاتِ انسانی کی خوبصورتی: ایک سچا اور چشم کشا واقعہ*
اتوار یکم نومبر 2026ء
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
تمہید:
کائنات کا اصل مقصد
خالقِ کائنات نے انسان کو اس زمین پر بے مقصد اور عبث پیدا نہیں فرمایا۔ اللہ رب العزت کا ارشاد گرامی ہے:
“أَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَاكُمْ عَبَثًا وَأَنَّكُمْ إِلَيْنَا لَا تُرْجَعُونَ”
(کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ ہم نے تمہیں بے کار پیدا کیا ہے اور تمہیں ہماری طرف لوٹ کر نہیں آنا؟)
انسانی زندگی کا اولین مقصد اللہ کی عبادت اور اس کی معرفت ہے:
“وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ”
(اور میں نے جنوں اور انسانوں کو اس کے سوا کسی کام کے لیے پیدا نہیں کیا کہ وہ میری بندگی کریں۔)
تاہم، اسلام میں “عبادت” محض چند ظاہری رسومات کا نام نہیں، بلکہ اس میں نسلِ انسانی کو پروان چڑھانا، زمین پر نظامِ زندگی قائم رکھنا، خاندانی ساخت کو مضبوط بنانا اور ایک پاکیزہ معاشرہ تشکیل دینا بھی شامل ہے۔
ازدواجی زندگی اور اولاد: عظیم ترین صدقہ جاریہ
دنیا کا سب سے بہترین اثاثہ اور انسان کے بعد اس کا نام و فیض زندہ رکھنے والی شے “صالح اولاد” ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے:
“إذا مات ابن آدم انقطع عمله إلا من ثلاث: صدقة جارية، أو علم ينتفع به، أو ولد صالح يدعو له”
(جب انسان مر جاتا ہے تو اس کے تمام اعمال کا سلسلہ ختم ہو جاتا ہے سوائے تین چیزوں کے: صدقہ جاریہ، ایسا علم جس سے نفع اٹھایا جائے، اور صالح اولاد جو اس کے لیے دعا کرے۔)
معاشرے کا بڑا المیہ یہ ہے کہ لوگ یا تو شادی سے کتراتے ہیں، یا ناامیدی اور نام نہاد تقویٰ کے چکر میں بیٹھ جاتے ہیں، یا پہلی بیوی سے اولاد نہ ہونے پر “قسمت کا لکھا” کہہ کر ہاتھ پر ہاتھ دھرے رہتے ہیں۔ حالانکہ شریعتِ اسلامیہ نے اسباب اختیار کرنے، علاج کرانے اور ایک سے زائد نکاح کرنے (شرائط و عدل کے ساتھ) کی واضح اجازت دی ہے تاکہ خاندانی نظام قائم رہے اور انسانی آبادی کو مثبت اور کارآمد افراد ملیں۔
ایک سچی اور عبرت انگیز داستانِ حیات:
یہ کوئی فرضی کہانی نہیں بلکہ ایک سو فیصد سچا اور سبق آموز واقعہ ہے۔
ایک ریٹائرڈ فوجی افسر جو کہ ایک گاؤں میں زمیندارانہ زندگی بسر کر رہے تھے، اولاد کی نعمت سے محروم تھے۔ ان کی ایک باوقار دوست سے ملاقات ہوئی، جنہوں نے ان سے اولاد کے متعلق پوچھا۔ جب معلوم ہوا کہ کوئی بچہ نہیں ہے اور تمام تر محنت و جائیداد آخرکار دور کے رشتہ داروں یا بھتیجوں کو ہی جانی ہے، تو اس باہمدرد دوست نے ایک جرأت مندانہ اور مخلصانہ مشورہ دیا:
“تم دوسری شادی کیوں نہیں کرتے تاکہ اللہ تمہیں اولاد دے؟”
فوجی صاحب نے گھبرا کر کہا: “اگر میں نے گھر میں یہ بات کی تو لڑائی جھگڑا اور فساد ہو جائے گا۔”
اس پر ان کے دوست نے خود اس ذمہ داری کا بیڑا اٹھایا۔ وہ فوجی صاحب کی اہلیہ کے پاس گئے اور نہایت نرمی و حکمت سے زندگی کا اصل رخ سامنے رکھا:
“بی بی! تم اور تمہارا میاں بوڑھے ہو رہے ہو۔ کل کو تم دونوں میں سے کوئی ایک نہ رہا تو یہ محنت اور جائیداد کس کام کی؟ یہ تو غیروں یا بھتیجوں کے پاس چلی جائے گی۔ تم اپنے خاوند کے لیے دوسری شادی کا بندوبست کیوں نہیں کرتیں؟”
اس باشعور اور سمجھدار عورت نے حکمت کو سمجھا۔ اس نے خاوند سے بات کی اور معاملے کی سنگینی و ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے کہا: “مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔”
وہ خاتون خود اپنے میکے گئیں اور جا کر رشتہ طلب کیا۔ ان کے گھر والے حیران ہوئے کہ تم اپنے ہی شوہر کا دوسرا رشتہ مانگنے آئی ہو؟ لیکن اس خاتون کی دور اندیشی اور خاوند کے ساتھ مخلصانہ تعاون کے نتیجے میں دوسری شادی کا انعقاد ممکن ہو گیا۔
پانچ سال بعد کا منظر اور پھل:
اس واقعے کے تقریباً پانچ سال بعد، دونوں دوستوں کا آمنا سامنا شہر کی غلہ منڈی میں ہوا۔ فوجی صاحب نے دور سے دیکھ کر اپنے دوست کے ساتھ ایک پیاری سی شرارت کی؛ دوست جدھر مڑتے، یہ بھی ادھر ہی مڑ جاتے۔ بالآخر ٹکر مار کر مسکرائے اور کہا: ” میاں صاحب! السلام علیکم!”
دوست نے دیکھا تو فوجی صاحب کے ساتھ دو چھوٹے چھوٹے، خوبصورت اور صحت مند بچے (تقریباً 4 سال اور 3 سال کے) موجود تھے۔ فوجی صاحب نے اپنے بچوں سے فوراً کہا:
“اوئے! اپنے چاچا کے پاؤں پڑو!”
اور دوست کی طرف دیکھ کر مسکرا کر بولے: “یہ سب تمہاری اسی دن کی شرارت اور بروقت مشورے کا پھل ہے!”
نتیجہ اور عروج:
آج وہ وقت ہے کہ وہ فوجی صاحب خود دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں، لیکن ان کی وہ دو اولادیں اپنے والد کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے پاک فوج کا حصہ بنیں اور میجر و کرنل جیسے اعلیٰ و ممتاز عہدوں تک پہنچیں، اور اب وہ بھی اپنی ریٹائرمنٹ کی عمر کو پہنچ رہے ہیں۔
جس گھر میں سناٹا اور مایوسی تھی، وہاں نہ صرف زندگی کی رونقیں لوٹ آئیں بلکہ ملک و ملت کو دو عظیم اور کارآمد انسان ملے۔
اس واقعے سے حاصل ہونے والے بنیادی اسباق
* ناامیدی گناہ ہے: تقدیر کے بہانے بنا کر ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھ جانا اسلام کی تعلیمات کے خلاف ہے۔ تدبیر کرنا اور اسباب اختیار کرنا سنت ہے۔
* بر وقت فیصلہ سازی: شادی اور نسل کو پروان چڑھانے کے فیصلے کو تاخیر (Delay) کا شکار نہیں بنانا چاہیے۔ تاخیر انسان کی اپنی صلاحیتوں اور زندگی دونوں کو ضائع کر دیتی ہے۔
* خواتین کا توسیعی نقطہ نظر: اگر عورت اور مرد دونوں حکمت، رواداری اور وسیع نظری کا مظاہرہ کریں تو گھروں میں فساد کے بجائے برکت اور خوشحالی جنم لیتی ہے۔
* بڑھاپے کا سہارا:
شادی اور اولاد صرف جوانی کی ضرورت نہیں، بلکہ بڑھاپے کی تنہائی، بیماری اور بے بسی سے بچاؤ کا سب سے بڑا انسانی و شرعی سہارا ہے۔
* صدقہ جاریہ:
اپنے پیچھے ایسی صالح اولاد چھوڑ جانا جو آپ کی مغفرت کی دعائیں کرے اور ملک و قوم کا نام روشن کرے، زندگی کا حقیقی مقصد ہے۔
اختتامیہ
زندگی صرف کھانا پینا، سانس لینا اور بالآخر گمنامی میں مر جانا نہیں ہے۔ کائنات کے اس خوبصورت نظام کو رنگین اور فعال بنائیے۔ اپنے قدموں پر خود کلہاڑی مت ماریے۔ وقت پر قدم اٹھائیے، اللہ کی ذات پر توکل کیجیے اور اپنی نسلوں کو پروان چڑھا کر دنیا و آخرت کی کامرانی سمیٹیے۔
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333